شاعری

مرے اعتماد کو غم ملا مری جب کسی پہ نظر گئی

مرے اعتماد کو غم ملا مری جب کسی پہ نظر گئی اسی جستجو اسی کرب میں مری ساری عمر گزر گئی کبھی بن کے عشق کی رازداں کبھی ہو کے آہ کی داستاں کئی طرح تیرے حضور تک مرے حال دل کی خبر گئی مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو مرے دوستو یہ کرم کرو مری عمر رفتہ کو دو صدا مجھے درد دے کے کدھر گئی کبھی ...

مزید پڑھیے

بہار زیست کی محرومیاں ارے توبہ

بہار زیست کی محرومیاں ارے توبہ دل شگفتہ کی ناکامیاں ارے توبہ وصال یار کی حسرت ارے معاذ اللہ فراق و شوق کی بیتابیاں ارے توبہ پیام دعوت مے نیم باز آنکھوں سے نگاہ ناز کی رنگینیاں ارے توبہ خدا نے عشق کو مجبوریوں کا غم دے کر لکھیں نصیب میں بربادیاں ارے توبہ ہماری آنکھ سے آنسو بھی ...

مزید پڑھیے

منزل عشق کے راہبر کھو گئے

منزل عشق کے راہبر کھو گئے میرے ہمدم مرے ہم سفر کھو گئے انقلاب زمانہ نے کروٹ جو لی ذکر اک دو کا کیا گھر کے گھر کھو گئے ہو گئی ختم رسم ملاقات بھی وہ نظارے وہ شام و سحر کھو گئے ہم نے ہر گام پر ساتھ چاہا مگر قافلے ہر نئے موڑ پر کھو گئے میں جو دامن میں لایا تھا آنسو ترے داغ ہیں ان کے ...

مزید پڑھیے

چاند تاروں نے بھی جب رخت سفر کھولا ہے

چاند تاروں نے بھی جب رخت سفر کھولا ہے ہم نے ہر صبح اک امید پہ در کھولا ہے میں بھٹکتا رہا سڑکوں پہ تری بستی میں کب کسی نے میری خاطر کوئی گھر کھولا ہے ہو گئی اور بھی رنگیں تری یادوں کی بہار کھلتے پھولوں نے مرا زخم جگر کھولا ہے ان کی پلکوں سے گرے ٹوٹ کے کچھ تاج محل نیند سے چونک کے ...

مزید پڑھیے

بند رکھتا ہوں بس یہ جان کے منہ

بند رکھتا ہوں بس یہ جان کے منہ کبھی لگیے نہ بد زبان کے منہ تاب کس کو ہے تیر کھانے کی کون آئے چڑھی کمان کے منہ مجھ کو کیا کیا گماں گزرتا ہے پاس لاتے ہیں جب وہ کان کے منہ مست مئے سے الجھ نہ اے گردوں بڈھے آتا ہے کیوں جوان کے منہ پہلے وہ جھک کے بات کرتے تھے اب چڑھاتے ہیں سینہ تان کے ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی اپنا غم ہے اور نہ اب کوئی خوشی اپنی

نہ کوئی اپنا غم ہے اور نہ اب کوئی خوشی اپنی تمہیں کہہ دو کہ ہم کیسے گزاریں زندگی اپنی فریب ہم سفر ہے اور راہ غم کا سناٹا مناسب ہے کہ خود ہو اے جنوں اب رہبری اپنی اجالا محفلوں میں کر کے بھی آنسو ہی ہاتھ آئے نہ راس آئی کبھی خود شمع کو بھی روشنی اپنی گزارش ہے کہ اے معبود مجھ کو ضبط ...

مزید پڑھیے

بچھڑتے ٹوٹتے رشتوں کو ہم نے دیکھا تھا

بچھڑتے ٹوٹتے رشتوں کو ہم نے دیکھا تھا یہ وقت ہم پہ بھی گزرے گا یہ نہ سوچا تھا نمی تھی پلکوں پہ بھیگا ہوا سا تکیہ تھا پتہ چلا کہ کوئی خواب ہم نے دیکھا تھا ہمارے ذہن میں اب تک اسی کی ہے خوشبو تمہارے صحن میں بیلے کا ایک پودا تھا کھرچ کے پھینک دوں کس طرح داغ یادوں کے میں بھول جاتا وہ ...

مزید پڑھیے

ملی جو دل کو خوشی تو خوشی سے گھبرائے

ملی جو دل کو خوشی تو خوشی سے گھبرائے ہم اجنبی کی طرح زندگی سے گھبرائے وہ اور کچھ ہے مگر کائنات ہوش نہیں اک آدمی ہی اگر آدمی سے گھبرائے کبھی کبھی تو تری دوستی میں ہم اے دوست خود اپنے عالم آوارگی سے گھبرائے جلا لئے ہیں اسی وقت آنسوؤں کے چراغ شب فراق میں جب تیرگی سے گھبرائے وہی ...

مزید پڑھیے

کسی کے وعدۂ فردا میں گم ہے انتظار اب بھی

کسی کے وعدۂ فردا میں گم ہے انتظار اب بھی خدا جانے ہے کیوں اک بے وفا پر اعتبار اب بھی کبھی کی تھی تمنا لالہ و گل کی نگاہوں نے رلاتی ہے لہو کے رنگ میں فصل بہار اب بھی ترے قول و عمل میں فرق ملتا ہے مجھے زاہد زباں پر لفظ توبہ ہے نگہ میں ہے خمار اب بھی خزاں کے بعد اس امید پر گلشن نہیں ...

مزید پڑھیے

کمرے کی دیواروں پر آویزاں جو تصویریں ہیں

کمرے کی دیواروں پر آویزاں جو تصویریں ہیں عہد گزشتہ کے خوابوں کی بکھری ہوئی تعبیریں ہیں ان کے خط محفوظ ہیں اب تک میرے خطوط کی فائل میں قسمیں وعدے عہد و پیماں پیار بھری تحریریں ہیں ہاتھ کی ریکھا دیکھنے والے میرا ہاتھ بھی دیکھ ذرا بر آئیں امیدیں جن سے ایسی کہیں لکیریں ہیں پھر یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 655 سے 4657