غم اٹھاتے ہیں وہی اکثر خوشی پانے کے بعد
غم اٹھاتے ہیں وہی اکثر خوشی پانے کے بعد جو خزاں کو بھول جاتے ہیں بہار آنے کے بعد زندگی یوں کٹ رہی ہے ان کے ٹھکرانے کے بعد جیسے اک محفل کی حالت شمع بجھ جانے کے بعد اہل کشتی تم کو یہ ہر موج دیتی ہے پیام پاؤ گے ساحل مگر طوفاں سے ٹکرانے کے بعد جو بھی پیاسا آئے اس کی پیاس بجھنا ...