شاعری

غم اٹھاتے ہیں وہی اکثر خوشی پانے کے بعد

غم اٹھاتے ہیں وہی اکثر خوشی پانے کے بعد جو خزاں کو بھول جاتے ہیں بہار آنے کے بعد زندگی یوں کٹ رہی ہے ان کے ٹھکرانے کے بعد جیسے اک محفل کی حالت شمع بجھ جانے کے بعد اہل کشتی تم کو یہ ہر موج دیتی ہے پیام پاؤ گے ساحل مگر طوفاں سے ٹکرانے کے بعد جو بھی پیاسا آئے اس کی پیاس بجھنا ...

مزید پڑھیے

تفکرات زمانہ سے ہو کے بیگانے

تفکرات زمانہ سے ہو کے بیگانے یہ کس خیال میں الجھے ہوئے ہیں دیوانے ہر ایک ہنستا ہے لیکن یہ کوئی کیا جانے یہ بن گئے کہ بنائے گئے ہیں دیوانے نگاہ عشق میں شاہ و گدا برابر ہیں نگاہ عشق کوئی امتیاز کیا جانے کسی کے اٹھنے سے سونی نہ ہوگی بزم کوئی بہار شمع سلامت ہزار پروانے وہی جہاں ...

مزید پڑھیے

مشکل یہ امتیاز تری راہ گزر میں ہے

مشکل یہ امتیاز تری راہ گزر میں ہے منزل سفر میں ہے کہ مسافر سفر میں ہے ہوں مضطرب مگر تری صورت نظر میں ہے پہلو بھی اک سکون کا درد جگر میں ہے تھوڑی سی خاک میں نے اٹھا لی زمین سے اب ساری زندگی کا خلاصہ نظر میں ہے اے آفتاب صبح ادھر بھی کوئی کرن مدت سے اک غریب امید سحر میں ہے پوچھو نہ ...

مزید پڑھیے

ضبط سے یوں بھی کام لیا ہے

ضبط سے یوں بھی کام لیا ہے کانٹوں میں آرام لیا ہے چاہے جدھر لے جائے محبت اب تو دامن تھام لیا ہے کاش وہی آرام سے رہتا جس نے مرا آرام لیا ہے حسن نے جب ٹھوکر کھائی ہے عشق نے بازو تھام لیا ہے ساقی کا احساں نہیں ہم پر خون دیا ہے جام لیا ہے ٹھوکر کھائی بڑھ گئے آگے ناکامی سے کام لیا ...

مزید پڑھیے

مجھے اتنی ہی قدر زندگانی ہوتی جاتی ہے

مجھے اتنی ہی قدر زندگانی ہوتی جاتی ہے کسی کی جتنی مجھ پر مہربانی ہوتی جاتی ہے خدا معلوم یہ کیسا زمانہ آتا جاتا ہے کہ ہر ہر سانس اب تو امتحانی ہوتی جاتی ہے محبت کرنے والا سوئے منزل بڑھتا جاتا ہے جو مشکل آتی جاتی ہے وہ پانی ہوتی جاتی ہے جدھر جاؤ مصیبت ہے جدھر دیکھو مصیبت ...

مزید پڑھیے

کب میرے واسطے کوئی مشکل نہیں رہی

کب میرے واسطے کوئی مشکل نہیں رہی کب موت زندگی کے مقابل نہیں رہی دنیا کی دوستی کا تو کیا ذکر کیجیے دنیا تو دشمنی کے بھی قابل نہیں رہی یوں میری زندگی ہے ہر اک شے سے دور دور جیسے یہ کائنات میں شامل نہیں رہی تصویر انقلاب بنا جا رہا ہوں میں اب میری مستقل کوئی منزل نہیں رہی اظہار بے ...

مزید پڑھیے

بنا کے اک نئی منزل گزر گئے ہوتے

بنا کے اک نئی منزل گزر گئے ہوتے جدھر کوئی نہیں جاتا ادھر گئے ہوتے پئے سکوں نہ اگر ہم ٹھہر گئے ہوتے تو آج تا حد شمس و قمر گئے ہوتے غم حیات سے ہم بھی جو ڈر گئے ہوتے تو قید زیست میں رہ کے بھی مر گئے ہوتے جو میکدے میں ذرا تم ٹھہر گئے ہوتے نظر کے زور سے پیمانے بھر گئے ہوتے نہ لفظ گل کو ...

مزید پڑھیے

یہ زندگی تو بہت کم ہے دوستی کے لئے

یہ زندگی تو بہت کم ہے دوستی کے لئے کہاں سے وقت نکلتا ہے دشمنی کے لئے یہ آتی جاتی ہوئی سانس زندگی کے لئے اک امتحان مسلسل ہے آدمی کے لئے یہ عہد نو کا اندھیرا ارے معاذ اللہ ترس رہے ہیں چراغ اپنی روشنی کے لئے انہیں گلوں کا تبسم تو دیکھ لینے دو تمام عمر جو ترسا کئے ہنسی کے لئے یہ ...

مزید پڑھیے

خود بخود عالم دل زیر و زبر ہوتا ہے

خود بخود عالم دل زیر و زبر ہوتا ہے نیچی نظروں میں قیامت کا اثر ہوتا ہے دید کیا چیز ہے جلووں میں نظر کھو جانا ورنہ جلوہ کہیں پابند نظر ہوتا ہے اہل ہمت کے قدم اس سے الگ اٹھتے ہیں رخ زمانے کی ہواؤں کا جدھر ہوتا ہے تیری دنیا میں کہیں پر بھی کروں میں سجدہ تیرا جلوہ تو مرے پیش نظر ...

مزید پڑھیے

تاروں میں چھپ گئے کہ گلوں میں نہاں رہے

تاروں میں چھپ گئے کہ گلوں میں نہاں رہے میری نظر نے ڈھونڈھ لیا تم جہاں رہے گزرے ہوئے زمانے کا کچھ تو نشاں رہے گر آشیاں نہیں تو غم آشیاں رہے یہ اور بات ہے کہ نظر سے نہاں رہے لیکن وہ ساتھ ساتھ رہے ہم جہاں رہے اس کو کسی مقام پہ محدود کیوں کرو کون و مکاں بنا کے بھی جو لا مکاں رہے اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 635 سے 4657