شاعری

دل کے مندر میں تیری مورت ہے

دل کے مندر میں تیری مورت ہے اب خداؤں کی کیا ضرورت ہے گر ذرا سا سکوں میسر ہو زندگی کتنی خوب صورت ہے نہ کسی سے کوئی توقع ہے نہ کسی سے کوئی کدورت ہے آج دنیا نے ہم کو چھوڑ دیا آج تیری بڑی ضرورت ہے دیکھنے میں ہزار چہرے ہیں اور کہنے کو ایک صورت ہے شوکتؔ اب شعر کی ہوئی تکمیل میرے ...

مزید پڑھیے

پھولوں سے بھرے باغ بھی ویراں نظر آئے

پھولوں سے بھرے باغ بھی ویراں نظر آئے شہروں میں بہت کم ہمیں انساں نظر آئے صیقل نہ کرو آئنے کیا اس کی ضرورت کردار تو چہروں پہ نمایاں نظر آئے کی ہے ثمر و گل کی عجب پرورش اس نے تا حد نظر باغ بیاباں نظر آئے کپڑے تو الگ جس نے بدن نوچ لیے ہیں لو نام کہ وہ شخص بھی عریاں نظر آئے حیرت ہے ...

مزید پڑھیے

درمیاں گر ہیں فاصلے کوئی

درمیاں گر ہیں فاصلے کوئی دل کے رستے سے آ ملے کوئی دشت ہے راہ میں بہار یہاں گل نمونے ہی کو کھلے کوئی جی میں ہے بے رخی کریں اب ہم اور ہم سے کرے گلے کوئی یوں بھی ٹوٹے ہیں زود رنج حبیب زندگی بھر کے سلسلے کوئی لٹ گئے ہیں پہنچ کے منزل پر جو بچے رہ میں قافلے کوئی ناشناسان فن سے تو ...

مزید پڑھیے

کچھ ہنر اور سمجھتے ہیں نہ فن جانتے ہیں

کچھ ہنر اور سمجھتے ہیں نہ فن جانتے ہیں ہم ترے ذکر کو شایان سخن جانتے ہیں روح کی غایت علوی کا نہ ہو اندازہ ہم مگر مقصد تخلیق بدن جانتے ہیں استعارے ہیں ترے عارض و چشم و لب کے یہ حدیث گل و شہلا و سمن جانتے ہیں یہ الگ بات نہیں آئی زمانہ سازی ہم مگر خوب زمانے کا چلن جانتے ہیں رقص ...

مزید پڑھیے

خلاف ہنگامۂ تشدد قدم جو ہم نے بڑھا دیے ہیں

خلاف ہنگامۂ تشدد قدم جو ہم نے بڑھا دیے ہیں بڑے بڑے بانیان جور و ستم کے بدھیے بٹھا دیے ہیں خیالی غنچے کھلا دیئے ہیں خیالی گلشن سجا دیے ہیں نئے مداری نے دو ہی دن میں تماشے کیا کیا دکھا دیے ہیں کوئی تو ہے بے خود تعیش کوئی ہے محو حصول ثروت کھلونے ہاتھوں میں رہبروں کے یہ کس نے لا کر ...

مزید پڑھیے

بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے

بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے سرزد اگرچہ معجزے کیا کیا نہیں ہوئے جو راستے میں کھیت نہ سیراب کر سکے کیوں جذب دشت ہی میں وہ دریا نہیں ہوئے انسان ہے تو پاؤں میں لغزش ضرور ہے جرم شکست جام بھی بے جا نہیں ہوئے ہم زندگی کی جنگ میں ہارے ضرور ہیں لیکن کسی محاذ سے پسپا نہیں ...

مزید پڑھیے

وابستہ ہو گئے ہیں قدم رہ گزر کے ساتھ

وابستہ ہو گئے ہیں قدم رہ گزر کے ساتھ ہم چل پڑے تھے ایک حسیں ہم سفر کے ساتھ اک دن دھوئیں کی طرح نہ باہر نکال دے ہمسایہ آ بسا ہے برا میرے گھر کے ساتھ گلچیں پہ نکتہ چین نہ ہو باغبان خود گل شاخ سے اتار رہے ہیں ہنر کے ساتھ اس تیز گام شخص نے منزل کو جا لیا جو ہر پڑاؤ پر نہ رکا راہبر کے ...

مزید پڑھیے

راز میں رکھیں گے ہم تیری قسم اے ناصح

راز میں رکھیں گے ہم تیری قسم اے ناصح لے نکال اب وہی گانجے کی چلم اے ناصح اب خدا کے لیے رکھ ہم پہ کرم اے ناصح ہیں پریشاں تری بکواس سے ہم اے ناصح جھریاں رخ کی جو پیغام قضا لائی ہیں کب تلک جاؤ گے تم سوئے عدم اے ناصح بادہ نوشوں کو نہ سمجھانے کی کوشش کرنا ورنہ پھر ہوگا ترا ناک میں دم ...

مزید پڑھیے

ہو کیسے کسی وعدے کا اقرار رجسٹرڈ

ہو کیسے کسی وعدے کا اقرار رجسٹرڈ جب خود ہی نہیں ہے مری سرکار رجسٹرڈ کیا شیخ و برہمن پہ کرے کوئی بھروسہ تسبیح رجسٹرڈ نہ زنار رجسٹرڈ اس جنبش چتون سے کوئی بچ نہیں سکتا قاتل کا مرے ہوتا ہے ہر وار رجسٹرڈ چاہے بھی تو اب ترک تغافل نہیں ممکن ہے دوست کی غفلت کا یہ آزار رجسٹرڈ مدت ہوئی ...

مزید پڑھیے

شیخ و برہمن دونوں ہیں برحق دونوں کا ہر کام مناسب

شیخ و برہمن دونوں ہیں برحق دونوں کا ہر کام مناسب بیچ لیں فوراً دیر و حرم بھی پائیں کہیں گر دام مناسب میرا تو ہر اک فعل عبث ہے غیر کا ہر اقدام مناسب واقعہ یہ ہے پیو جسے چاہیں اس کا سہاگن نام مناسب وقت کا پیہم یوں ہے تقاضا رہبر صد سالہ کو ہٹا دو جیسے پرانی چیز کا اکثر ہوتا ہے نیلام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 601 سے 4657