شاعری

ان کے گیسو کی طرح اپنے خیالوں کی طرح

ان کے گیسو کی طرح اپنے خیالوں کی طرح ہم بکھرتے رہے دنیا میں اجالوں کی طرح ہم تو اخلاص و محبت کے سوا کچھ بھی نہ تھے دیکھتا کوئی ہمیں دیکھنے والوں کی طرح ہم سے پابندیٔ آداب محبت نہ ہوئی بات بھی ان سے اگر کی ہے تو نالوں کی طرح میں ہی اک گردش دوراں سے پریشان نہیں ساری دنیا ہے پریشاں ...

مزید پڑھیے

شکوہ ہو ہمیں کیا تری بیداد گری کا

شکوہ ہو ہمیں کیا تری بیداد گری کا دل لطف اٹھاتا ہے تری کم نظری کا غنچوں کو بھری نیند سے چونکا تو دیا ہے احسان گلستاں پہ نسیم سحری کا اب دل کے دھڑکنے کا بھی احساس نہیں ہے کچھ اور ہی عالم ہے مری بے خبری کا مرہم نہ سہی زخم پہ نشتر تو رکھا ہے احسان نہ بھولیں گے تری چارہ گری کا کیا ...

مزید پڑھیے

نور ہے روشنی کا ہالہ ہے

نور ہے روشنی کا ہالہ ہے عشق تو روح کا اجالا ہے دل میں اترے نہال کر ڈالے عشق کا طور ہی نرالا ہے وہ تو کہتا ہے آؤ سمجھو تم دل میں جس نے گیان ڈالا ہے جال بنتی ہے نفس کی مکڑی بس اتارو یہ شر کا جالا ہے دل کی درگاہ میں جھکا جب سر عشق کا بول تب سے بالا ہے دل کو محسوس بس ہوا جیسے عشق روئی ...

مزید پڑھیے

بڑھنے لگی ہے بھیڑ میں تنہائی آج کل

بڑھنے لگی ہے بھیڑ میں تنہائی آج کل شاید ہوئی ہے خود سے شناسائی آج کل رنج و الم کی آنچ میں رشتے بھسم ہوئے اب چل رہی ہے درد کی پروائی آج کل ہم سے بچھڑ کے جب سے وہ پردیس جا بسا سونی پڑی ہے من کی یہ انگنائی آج کل جدت نے کچھ تو پھونکا ہے پڑھ کر دیار میں ڈرنے لگی ہے جھوٹ سے سچائی آج ...

مزید پڑھیے

شور کے شر میں ناز ساکن ہیں

شور کے شر میں ناز ساکن ہیں چپ کی آنکھوں میں ساز ساکن ہیں شہر خاموش میں کبھی دیکھو زندگی کے ہی راز ساکن ہیں لے کے عمروں کی دھول چہروں پر ہم اے عمر دراز ساکن ہیں کیسی افتاد ہے زمانے پر سب یہاں چارہ ساز ساکن ہیں نیک نیت جو لوگ ہیں سارے دل میں لے کر گداز ساکن ہیں دل نے جب سے شعور ...

مزید پڑھیے

یہ سچ ہے روح کے اندر عقیدت سانس لیتی ہے

یہ سچ ہے روح کے اندر عقیدت سانس لیتی ہے تبھی تحریر میں میری شہامت سانس لیتی ہے کوئی ناراض ہو جائے تو اکثر سوچتی ہوں میں بشر کے دل میں جانے کیوں عداوت سانس لیتی ہے شجر ہوں یا حجر ہوں یا گلوں کے رنگ ہوں صاحب ہواؤں میں فضاؤں میں یہ قدرت سانس لیتی ہے ذرا خوشیاں وہاں بھی بانٹ کر تم ...

مزید پڑھیے

یہ کیا توہین مے خانہ نہیں ہے

یہ کیا توہین مے خانہ نہیں ہے صراحی ہے تو پیمانہ نہیں ہے در دولت کے چکر آپ کاٹیں مری فطرت غلامانہ نہیں ہے تعجب ہے کہ اہل شہر نے بھی ابھی تک مجھ کو پہچانا نہیں ہے چھلک جاتی ہے ان کا نام سن کر اگرچہ آنکھ پیمانہ نہیں ہے میں تشنہ لب بھی اٹھ سکتا ہوں ساقی مگر یہ شان مے خانہ نہیں ...

مزید پڑھیے

حسرت زہرہ وشاں سرو قداں ہے کہ جو تھی

حسرت زہرہ وشاں سرو قداں ہے کہ جو تھی اپنا سرمایۂ دل یاد بتاں ہے کہ جو تھی کج کلاہوں سے بھی شرمندہ نہ ہونے پائے ہم میں وہ جرأت اظہار بیاں ہے کہ جو تھی وضع داری میں کوئی فرق نہ آیا سر مو وہی آوارگیٔ کوئے بتاں ہے کہ جو تھی میں نے سرمایۂ دل نذر بتاں کر ڈالا میرے ناصح کو مگر فکر زیاں ...

مزید پڑھیے

عجب انداز محفل ہو رہا ہے

عجب انداز محفل ہو رہا ہے کہ مرنا تک بھی مشکل ہو رہا ہے ستارہ ماہ کامل ہو رہا ہے کوئی معصوم قاتل ہو رہا ہے مری دیوانگی میں کچھ دنوں سے جنوں کا رنگ شامل ہو رہا ہے جو ہونا ہے وہی ہو کر رہے گا پریشاں کس لئے دل ہو رہا ہے قیامت جس کے قدموں سے لگی ہے وہ فتنہ جان محفل ہو رہا ہے تباہی دل ...

مزید پڑھیے

موج ہوائے شوق اسے پائمال کر

موج ہوائے شوق اسے پائمال کر رکھیں گے خاک دل کو کہاں تک سنبھال کر افسردہ دل نہ ہو یہ سفر کی تکان ہے دو چار گھونٹ پی کے طبیعت بحال کر یہ ابر یہ بہار یہ طوفان رنگ و بو اے دوست میری تشنہ لبی کا خیال کر یہ منزل شباب ہے پر پیچ و پر خطر اے پیکر جمال ذرا دیکھ بھال کر ہر اہل دل کی میری طرف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 579 سے 4657