شاعری

میں نے یوں ان سرد لبوں کو رکھا ان رخساروں پر

میں نے یوں ان سرد لبوں کو رکھا ان رخساروں پر جیسے کوئی بھول سے رکھ دے پھولوں کو انگاروں پر چھپ گیا عید کا چاند نکل کر دیر ہوئی پر جانے کیوں نظریں اب تک ٹکی ہوئی ہیں مسجد کے میناروں پر آتی جاتی سانسوں پر وہ دل کے تڑپنے کا عالم جیسے کوئی ناچ رہا ہو دو دھاری تلواروں پر برسوں بعد جو ...

مزید پڑھیے

مرے نصیب کا لکھا بدل بھی سکتا تھا

مرے نصیب کا لکھا بدل بھی سکتا تھا وہ چاہتا تو مرے ساتھ چل بھی سکتا تھا یہ تو نے ٹھیک کیا اپنا ہاتھ کھینچ لیا مرے لبوں سے ترا ہاتھ جل بھی سکتا تھا اڑاتی رہتی ہے دنیا غلط سلط باتیں وہ سنگ دل تھا تو اک دن پگھل بھی سکتا تھا اتر گیا ترا غم روح کی فضاؤں میں رگوں میں ہوتا تو آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

ہم سے ہی روشن رہا ہے تیرے میخانے کا نام

ہم سے ہی روشن رہا ہے تیرے میخانے کا نام ہم ہی لے سکتے نہیں اب ایک پیمانے کا نام زینت صد انجمن ہے آپ کی موجودگی ہے قیامت آپ کے محفل سے اٹھ جانے کا نام دل کے بہلانے پہ دنیا نے کئے ہیں وہ سلوک اب نہ لیں گے بھول کر بھی دل کو بہلانے کا نام رات کی رعنائیاں ہیں زلف برہم کے طفیل صبح صادق ...

مزید پڑھیے

اگر کچھ تھی تو بس یہ تھی تمنا آخری اپنی

اگر کچھ تھی تو بس یہ تھی تمنا آخری اپنی کہ وہ ساحل پہ ہوتے اور کشتی ڈوبتی اپنی ہمیں تو شام غم میں کاٹنی ہے زندگی اپنی جہاں وہ ہوں وہیں اے چاند لے جا چاندنی اپنی نہ ہے یہ اضطراب اپنا نہ ہے یہ بے خودی اپنی تری محفل میں شاید بھول آیا زندگی اپنی وہیں چلئے وہیں چلئے محبت کا تقاضہ ...

مزید پڑھیے

غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے

غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے کہ منزل دور ہو اور راستے میں شام ہو جائے وہی نالہ وہی نغمہ بس اک تفریق لفظی ہے قفس کو منتشر کر دو نشیمن نام ہو جائے تصدق عصمت کونین اس مجذوب الفت پر جو ان کا غم چھپائے اور خود بد نام ہو جائے یہ عالم ہو تو ان کو بے حجابی کی ضرورت کیا نقاب ...

مزید پڑھیے

اس نظر کی شراب پیتا ہوں

اس نظر کی شراب پیتا ہوں بادۂ کامیاب پیتا ہوں پردہ داریٔ نظم کن کی خیر آج میں بے حجاب پیتا ہوں جھوم جاتے ہیں عرش و کوثر و خلد جھوم کر جب شراب پیتا ہوں رحمتیں بے حساب ہوتی ہیں میں جہاں بے حساب پیتا ہوں سادہ، سادہ نگاہوں کے نثار ہلکی ہلکی شراب پیتا ہوں اف یہ میرا جلال بادہ ...

مزید پڑھیے

رنج و الم کی باڑھ میں ایمان بہہ گیا

رنج و الم کی باڑھ میں ایمان بہہ گیا بیٹی کے جب جہیز کا سامان بہہ گیا کچھ اس طرح سے ٹوٹ کے روئے تمام رات جو بچ گیا تھا آخری ارمان بہہ گیا کل رات میں نے خواب میں دیکھا ہے ایک خواب انصاف آنکھیں پا گیا میزان بہہ گیا یہ راز کھل سکا نہ کبھی اس شعور پر کیوں موج غم میں روح کا جزدان بہہ ...

مزید پڑھیے

دل رواں جس کا ہو اک مرشد کامل کی طرف

دل رواں جس کا ہو اک مرشد کامل کی طرف کون روکے گا اسے جانے سے منزل کی طرف چاہ کر بھی نہ اگر غم کا مداوا ہو تو پھر میں چلی جاتی ہوں ایمان مفصل کی طرف یہ مری ماں کی دعا کا ہی ثمر ہے جو مجھے تند لہروں نے اچھالا بھی تو ساحل کی طرف چاہتا کون ہے راہوں میں بھٹک جانا مگر راستہ شر کا ہی لے ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کے زوال پر چپ ہوں

چاہتوں کے زوال پر چپ ہوں دل کے ہر اک ملال پر چپ ہوں دے گئے دھوکہ جو محبت میں میں تو ان کے کمال پر چپ ہوں دے سکے ناں جواب تم جس کا آج بھی اس سوال پر چپ ہوں تم کو چاہت کی چاہ مارے گی ہائے طوطے کی فال پر چپ ہوں کیا کہوں تجھ سے اے مرے ہمدم میں تو اپنوں کی چال پر چپ ہوں جب قلم کی ...

مزید پڑھیے

دل نے کر دی ہے خم جبیں آ جا

دل نے کر دی ہے خم جبیں آ جا اے مری روح کے مکیں آ جا دل ہے شیشے کا ہجر پتھر سا درد کی پار کر زمیں آ جا بن ترے بے ثمر حیاتی ہے دل کی بنجر ہوئی زمیں آ جا تجھ کو اخلاص سے پکارا ہے سن کے آواز ہم نشیں آ جا آرزو دل کی دید ہو تیری سن مرے ماہ رو حسیں آ جا عشق اک راز بن گیا جب سے چین پل بھر کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 578 سے 4657