شاعری

کیسی آشفتہ سری ہے اب کے

کیسی آشفتہ سری ہے اب کے کچھ عجب بے خبری ہے اب کے دیکھ کر اہل گلستاں کا چلن جان ہاتھوں میں دھری ہے اب کے شہر کا امن و سکوں ہے عنقا کیسی یہ فتنہ گری ہے اب کے موسم فصل خزاں ہے پھر بھی شاخ دل اپنی ہری ہے اب کے کور چشموں کو خدا ہی سمجھے دعویٰ دیدہ وری ہے اب کے ڈر یہی ہے کہ کہیں ٹوٹ نہ ...

مزید پڑھیے

مظلوم کسی دست حنائی کے نکلتے

مظلوم کسی دست حنائی کے نکلتے جو لوگ ارادے سے گدائی کے نکلتے غزلیں مری ان پر نہ گراں اتنی گزرتیں پہلو جو کہیں مدح سرائی کے نکلتے صیاد کو کیا جانئے کیا وہم گزرتا احکام اگر میری رہائی کے نکلتے بربادئ دل کا جو مری چھڑتا فسانہ افسانے ترے دست حنائی کے نکلتے محرومیٔ تقدیر کا احساس ...

مزید پڑھیے

کچھ روز سے پریشاں وہ زلف مشکبو ہے

کچھ روز سے پریشاں وہ زلف مشکبو ہے میرے ہی حال دل کی تصویر ہو بہ ہو ہے یہ کس کی آرزو ہے یہ کس کی جستجو ہے کس کی تلاش میں دل آوارہ کو بہ کو ہے اے بے ادب یہ کیسا انداز گفتگو ہے کمبخت کچھ خبر ہے تو کس کے روبرو ہے پھر کوئی زخم تازہ شاید ملے گا دل کو تعمیر آشیاں کی پھر دل کو آرزو ہے ان ...

مزید پڑھیے

ساقی کو اگر فکر مداوا بھی نہیں ہے

ساقی کو اگر فکر مداوا بھی نہیں ہے اس کم نگہی کا ہمیں شکوہ بھی نہیں ہے وہ جور سے باز آیا ہو ایسا بھی نہیں ہے اور شہر میں ظالم کہیں رسوا بھی نہیں ہے اچھا ہے اگر آپ کا ہو جائے اشارہ طوفان کئی روز سے اٹھا بھی نہیں ہے پلکوں پہ چمکنے لگے اشکوں کے ستارے ہونٹوں پہ تبسم ابھی آیا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

گردش میں چشم دوست کا پیمانہ آگیا

گردش میں چشم دوست کا پیمانہ آگیا لیجے مقام سجدۂ شکرانہ آ گیا میں اور شراب ناب مگر اس کو کیا کروں غم مجھ کو لے کے جانب مے خانہ آ گیا یارائے ضبط رہ نہ سکا روبروئے دوست آنکھوں میں کھنچ کے درد کا افسانہ آ گیا سوئے حرم چلے تھے بڑے اہتمام سے قسمت کی بات راہ میں بت خانہ آ گیا سجدے مچل ...

مزید پڑھیے

جنت نہیں تو کوئے بتاں کچھ نہ کچھ تو ہو

جنت نہیں تو کوئے بتاں کچھ نہ کچھ تو ہو تسکین دل کو اپنی یہاں کچھ نہ کچھ تو ہو آنکھوں میں اشک لب پہ فغاں کچھ نہ کچھ تو ہو راز اس پہ درد دل کا عیاں کچھ نہ کچھ تو ہو او بے نیاز ایک اچٹتی ہوئی نظر دل کو بھی زندگی کا گماں کچھ نہ کچھ تو ہو چشم کرم نہیں نہ سہی زہر ہی سہی لیکن علاج درد نہاں ...

مزید پڑھیے

صحرا میں ہے قرار نہ صحن چمن میں ہے

صحرا میں ہے قرار نہ صحن چمن میں ہے جب سے دل خراب تری انجمن میں ہے یہ برہمی جو زلف شکن در شکن میں ہے شاید کوئی کمی مرے دیوانہ پن میں ہے جو کارواں بھی آیا یہیں کا وہ ہو رہا کیا جانے کیا کشش مری خاک وطن میں ہے رگ رگ میں جیسے برق تپاں دوڑنے لگی کوئی کشش تو قصۂ دار و رسن میں ہے وہ بزم ...

مزید پڑھیے

بڑے صبر و تحمل سے بصد پاس ادب کاٹے

بڑے صبر و تحمل سے بصد پاس ادب کاٹے جدائی اک قیامت تھی مگر یہ روز و شب کاٹے قیامت ہے کہ اس نے ایک جرم بے گناہی کا میرے دست طلب توڑے مرے پائے طلب کاٹے دل درد آشنا ملتا تو شاید تم سمجھ سکتے کہ تم سے دور رہ کر ہم نے کیسے روز و شب کاٹے اسیران قفس صیاد کے ممنون احساں ہیں کبھی منقار سی ...

مزید پڑھیے

باقی نہ رہے ہوش جنوں ایسا ہوا تیز

باقی نہ رہے ہوش جنوں ایسا ہوا تیز اتنا ہی بھٹکتا رہا میں جتنا چلا تیز دن ڈھلنے لگا بڑھنے لگے شام کے سائے اے سست قدم اب تو قدم اپنے اٹھا تیز کیا جانیے ظالم نے کسے قتل کیا ہے کیوں ہاتھوں میں آج اس کے ہوا رنگ حنا تیز اب منزل مقصود بہت دور نہیں ہے اے ہم سفرو اور ذرا اور ذرا ...

مزید پڑھیے

کیا لطف زندگی کا جو نادانیاں نہ ہوں

کیا لطف زندگی کا جو نادانیاں نہ ہوں سینے میں دل ہو اور پریشانیاں نہ ہوں ترک تعلقات تو کرتے ہو دیکھنا تم کو خدا نہ کردہ پشیمانیاں نہ ہوں یہ ساری اضطراب مسلسل کی بات ہے دل کو سکون ہو تو غزل خوانیاں نہ ہوں زخم جگر کو اپنے چھپاتا رہا ہوں میں اس خوف سے کہ ان کو پشیمانیاں نہ ہوں وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 580 سے 4657