بکھرتی ٹوٹتی شب کا ستارہ رکھ لیا میں نے
بکھرتی ٹوٹتی شب کا ستارہ رکھ لیا میں نے مرے حصے میں جو آیا خسارہ رکھ لیا میں نے حساب دوستاں کرتے تو حرف آتا تعلق پر اٹھا رکھا اسے اور گوشوارہ رکھ لیا میں نے جدائی تو مقدر تھی مجھے احساس تھا لیکن کف امید پر پھر بھی شرارہ رکھ لیا میں نے ذرا سی بوند جو روشن ہے اب تک خلوت دل ...