شاعری

جھوٹ کی پوشاک پر پیوند کاری کب تلک

جھوٹ کی پوشاک پر پیوند کاری کب تلک ہم سے آخر یہ بتاؤ ہوشیاری کب تلک صاحب کشکول کچھ عزت کی روزی کر تلاش یوں اکٹھا تو کرے گا ریز گاری کب تلک راز میں نے تم کو اپنا دے دیا کچھ سوچ کر دیکھنا ہے رکھ سکو گے رازداری کب تلک عجز کی تاکید کرتے ہو بہت تقریر میں یہ بتاؤ ظالموں سے انکساری کب ...

مزید پڑھیے

اس کی رحمت کر رہی ہے اس کے روزے کا طواف

اس کی رحمت کر رہی ہے اس کے روزے کا طواف یہ جو بچہ کر رہا ہے سوکھے ٹکڑے کا طواف جانے کس مصرع کی اب تقدیر لکھی جائے گی کتنے مصرعے کر رہے ہیں ایک مصرعے کا طواف وقت آخر بوڑھی ماں تصویر لے کر ہاتھ میں دیر تک کرتی رہی بیٹے کے چہرے کا طواف کوئی بھی یوں ہی نہیں پھرتا کسی کے ارد گرد سب کیا ...

مزید پڑھیے

ہمارے شہر میں گھر اس لیے سنسان رہتے ہیں

ہمارے شہر میں گھر اس لیے سنسان رہتے ہیں کہ گھر گھر خوف سے سہمے ہوئے انسان رہتے ہیں اگر تم عشق کی مسجد میں جانا ٹھان ہی بیٹھے تو بر خوردار سیکھو اس کے کیا ارکان رہتے ہیں مجھے مالک مرے بچوں کے ہر غم سے بچا لینا لب دل پر وہی بن کر مرے مسکان رہتے ہیں مجھے کوئی دکھا کر خواب میں میرا ...

مزید پڑھیے

کسی بھی در کی سوالی نہیں رہی ہوگی

کسی بھی در کی سوالی نہیں رہی ہوگی جھکی جو عشق کے در پر جبیں رہی ہوگی وگرنہ ترک وفا سہل اس قدر تھا کہاں کمی مجھی میں یقیناً کہیں رہی ہوگی جو گور عقل میں کی دفن آرزو تم نے تمہارے دل میں کبھی جاگزیں رہی ہوگی وہ جن کے سر سے اٹھا آسمان کا سایہ کب ان کے پاؤں کے نیچے زمیں رہی ہوگی ابھی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں لے کے یاس مجھے دیکھنے تو دے

آنکھوں میں لے کے یاس مجھے دیکھنے تو دے کون آ رہا ہے پاس مجھے دیکھنے تو دے دیکھے گا کون خاک میں جوہر چھپے ہوئے اے شہر نا شناس مجھے دیکھنے تو دے یہ کون محو رقص ہے یوں آبلوں کے ساتھ دشت آیا کس کو راس مجھے دیکھنے تو دے لب کھولتا نہیں نہ سہی آنکھ تو ملا تو خوش ہے یا اداس مجھے دیکھنے ...

مزید پڑھیے

یہ چیخیں یہ آہ و بکا کس لیے ہے

یہ چیخیں یہ آہ و بکا کس لیے ہے مرے شہر کی یہ فضا کس لیے ہے بتا زندہ درگور ہے آدمی کیوں بتا آسماں پر خدا کس لیے ہے ہیں مسلے ہوئے شاخ در شاخ گل کیوں چمن در چمن سانحہ کس لیے ہے اکیلا دیا رہ گزر کا بجھا کر پشیماں بہت اب ہوا کس لیے ہے جو تم سامنے آئے تو میں نے جانا کہ منظر نے بدلی قبا ...

مزید پڑھیے

نہ رعب جاہ میں آ کر کسی سے گفتگو کی

نہ رعب جاہ میں آ کر کسی سے گفتگو کی جو ہم نے کی تو پھر اپنی خوشی سے گفتگو کی ضروری ہو گیا تھا شہر دل برباد کرنا سو کر کے حوصلہ غارت گری سے گفتگو کی ادب کی محفلیں کھینچیں ہیں دل لیکن وہاں تو سبھی تھے بے ادب سو بے دلی سے گفتگو کی فسانے بے قراری کے سناتی اور کس کو یہ تیرا غم تھا تیرے ...

مزید پڑھیے

وہ کم آمیز مجھ سے ہم سخن ہونے لگا ہے

وہ کم آمیز مجھ سے ہم سخن ہونے لگا ہے بہ یک لحظہ یہ دشت دل چمن ہونے لگا ہے سہولت سے وہ پڑھتا جا رہا ہے ذہن میرا بدن سوچوں کا پھر بے پیرہن ہونے لگا ہے مری تنہائی اور وحشت میں پھر سے ٹھن گئی ہے یوں لگتا ہے کوئی گھمسان رن ہونے لگا ہے عطا کیجے مرے مرشد مجھے کوئی وظیفہ مرا دل پھر سے ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے آئینے کو کیا گھر میں سجانا اچھا

ٹوٹے آئینے کو کیا گھر میں سجانا اچھا روح کے گھاؤ کو دنیا سے چھپانا اچھا ان سے کہہ دو کہ ہمیں اب نہ ستانا اچھا جو تعلق سزا بن جائے مٹانا اچھا فیصلہ دل سے کرو ساتھ جو چلنا ہے مرے سر کو اقرار میں بس تم نہ ہلانا اچھا دیجئے عمر درازی کی دعائیں نہ مجھے خار سے دامن دل جلدی چھڑانا ...

مزید پڑھیے

مجھ سے ملنے میرے خیمے میں چلی آتی ہے گرد

مجھ سے ملنے میرے خیمے میں چلی آتی ہے گرد دشت وحشت میں فقط میری ملاقاتی ہے گرد دشت میں بسنا مجھے اس واسطے راس آ گیا گرد سے مل کر مری ہستی بھی بن جاتی ہے گرد رائیگانی کا ستاتا ہے مجھے احساس جب زندگی کا سوچتی ہوں یاد آ جاتی ہے گرد پھر کوئی وحشت گھمائے دائرہ در دائرہ گھیر کر جب بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 463 سے 4657