شاعری

مدام لے کے مجھے حلقہ وار ناچتی ہے

مدام لے کے مجھے حلقہ وار ناچتی ہے جدھر چلوں نگہ طرح دار ناچتی ہے ملا ہے وعدۂ فردا بجائے نقد وصال ہماری روح کو دیکھو ادھار ناچتی ہے یہ کس نظر نے طلسم خزاں کو کاٹ دیا پلک جھپکتے میں ہر سو بہار ناچتی ہے پھرے ملول وہ درگاہ کے احاطے میں اور آئے وجد میں تو بے شمار ناچتی ہے پٹخ کے سر ...

مزید پڑھیے

میری ہستی راز بن کر رہ گئی

میری ہستی راز بن کر رہ گئی ہر ادا اعجاز بن کر رہ گئی طور کی چوٹی نگاہ عشق میں نقطۂ آغاز بن کر رہ گئی شورش دنیا کی حالت کیا کہوں کربلا انداز بن کر رہ گئی ذکر جاناں کے تأثر سے نظر محرم ہر راز بن کر رہ گئی کائنات دہر میں آواز دل نغمۂ بے ساز بن کر رہ گئی میری دنیائے محبت کیا ...

مزید پڑھیے

غم حیات کی یہ دل کشی غنیمت ہے

غم حیات کی یہ دل کشی غنیمت ہے میرے قریب نہ آئی خوشی غنیمت ہے وہ زندگی جو تیری یاد کی اسیر رہی کسی طرح سے گزر ہی گئی غنیمت ہے حیات معرکۂ غم سے کم نہیں اے دوست یہ چند لمحوں کی فرصت بڑی غنیمت ہے خدا کا شکر ہے توہین التجا نہ ہوئی کسی نے بات مری مان لی غنیمت ہے تعلقات بہر حال برقرار ...

مزید پڑھیے

زندگی کی راحتوں سے ماورا ہو جائے گا

زندگی کی راحتوں سے ماورا ہو جائے گا اک لباس بے خودی جس کو عطا ہو جائے گا اہل دنیا ایک دن وہ وقت آئے گا ضرور یہ تمنا کا جہاں یک دم فنا ہو جائے گا اک تعلق ہے بقائے ذات کا ضامن یہاں پھول ٹہنی سے گرے گا تو فنا ہو جائے گا ٹوٹ جائے گا یہ چرخہ جسم کا چلتے ہوئے اور قیدی قید سے آخر رہا ہو ...

مزید پڑھیے

ایک ہی لفظ میں دفتر لکھنا

ایک ہی لفظ میں دفتر لکھنا خط اسے سوچ سمجھ کر لکھنا جب چلی تیز ہوا کی تلوار کتنے پنچھی ہوئے بے پر لکھنا چاندنی کس کا مقدر ٹھہری کس کا تاریک رہا گھر لکھنا جھیل سے ابھری تھی جب قوس قزح وہ سلگتا ہوا منظر لکھنا نام بھی اس کا جو لکھنا پڑ جائے روش عام سے ہٹ کر لکھنا خوف کرنا نہ ہوا ...

مزید پڑھیے

کرن سی ایک اندھیرے میں جھلملائی ہے

کرن سی ایک اندھیرے میں جھلملائی ہے یہ کس کی چشم سحر خیز مسکرائی ہے ٹھہر نسیم ذرا ہم بھی ساتھ چلتے ہیں گل و بہار سے اپنی بھی آشنائی ہے جنوں کی راہ میں رکتے نہیں ہیں دیوانے فرار ایک دلیل شکستہ پائی ہے یہ جذب دل کا اثر ہے کہ اک تماشہ ہے ادھر حضور کا بندہ ادھر خدائی ہے گلہ کسی سے ...

مزید پڑھیے

سوئے دیار خندہ زن وہ یار جانی پھر گیا

سوئے دریا خندہ زن وہ یار جانی پھر گیا موتیوں کی آبرو پر آج پانی پھر گیا سوئیاں سی کچھ دل وحشی میں پھر چبھنے لگیں ٹھیک ہونے کو لباس ارغوانی پھر گیا ہتھکڑی بھاری ہے میرے ہاتھ کی آج اے جنوں دست جاناں کا کہیں چھلا نشانی پھر گیا زور پیدا کر کہ پہنچے جیب تک دست جنوں اب تو موسم اے ...

مزید پڑھیے

نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھ

نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھ اس کی زنجیر طلائی سے لڑی میری آنکھ اپنے بیمار کو رکھتی ہے چھپا کر تہ خاک کہتے ہیں صاحب غیرت ہے بڑی میری آنکھ خاک میں مل کے عیاں ہوں گل نرگس بن کر دیکھ لے گر تری پھولوں کی چھڑی میری آنکھ اس طرح ذبح کیا تیغ نگہ سے مجھ کو خود وہ کہتے ہیں کہ ظالم ...

مزید پڑھیے

جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں

جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں بہ گئیں آنسوؤں کے ساتھ ہماری آنکھیں ہیں جلو میں صفت ابر بہاری آنکھیں اٹھنے دیتی ہیں کہاں گرد سواری آنکھیں کیوں اسیران قفس کی طرف آنا چھوڑا پھیر لیں تو نے بھی اے باد بہاری آنکھیں سامنے آ گئی گلگشت میں نرگس شاید پلکوں سے چیں بہ جبیں ہیں جو ...

مزید پڑھیے

انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیسا

انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیسا ناز پرورد قفس ہوں میں نشیمن کیسا ہم وہ عریاں ہیں کہ واقف نہیں اے جوش جنوں نام کس شے کا گریبان ہے دامن کیسا اپنی آزردہ دلی بعد فنا کام آئی ڈھیر یہاں گرد کدورت کے ہیں مدفن کیسا کہہ دیا بس کہ تری آہ میں تاثیر نہیں یہ نہ دیکھا کہ یہ سینہ میں ہے روزن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 464 سے 4657