مدام لے کے مجھے حلقہ وار ناچتی ہے
مدام لے کے مجھے حلقہ وار ناچتی ہے جدھر چلوں نگہ طرح دار ناچتی ہے ملا ہے وعدۂ فردا بجائے نقد وصال ہماری روح کو دیکھو ادھار ناچتی ہے یہ کس نظر نے طلسم خزاں کو کاٹ دیا پلک جھپکتے میں ہر سو بہار ناچتی ہے پھرے ملول وہ درگاہ کے احاطے میں اور آئے وجد میں تو بے شمار ناچتی ہے پٹخ کے سر ...