شاعری

شہر کو چوٹ پہ رکھتی ہے گجر میں کوئی چیز

شہر کو چوٹ پہ رکھتی ہے گجر میں کوئی چیز بلیاں ڈھونڈھتی رہتی ہیں کھنڈر میں کوئی چیز چاک ہیں زخم کے پانی میں ہوا میں ناسور مٹھیاں تول کے نکلی ہے سفر میں کوئی چیز بارہا آنکھیں گھنی کرتا ہوں اس پہ پھر بھی چھوٹ رہتی ہے نگہ سے گل تر میں کوئی چیز کبھی بیٹھک سے رسوئی کبھی دالان سے ...

مزید پڑھیے

ستم ظریفی کی صورت نکل ہی آتی ہے

ستم ظریفی کی صورت نکل ہی آتی ہے رقیب کی بھی ضرورت نکل ہی آتی ہے قدم رکھیں تو کہاں آب و ریگ و خاک پہ ہم سبھی جگہ کوئی تربت نکل ہی آتی ہے حساب قرب و کشش کر کے کیوں ہوں شرمندہ مرے لہو کی تو قیمت نکل ہی آتی ہے ہے پل صراط کی ہی بو نسائی راہ جہاں یہاں بھی حشر کی حالت نکل ہی آتی ہے بڑے ...

مزید پڑھیے

خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دے

خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دے تصویر وہ حاذق ہے جو بیمار بھی کر دے ہم سے تو نہ ہوگی کبھی اس طرح محبت جو حد سے گزرنے پہ گنہ گار بھی کر دے اس بار بھی تاویل شب و روز نئی ہے ممکن ہے وہ قائل مجھے اس بار بھی کر دے افلاک تلاشی میں ہوں اس برج کی خاطر جو میرے خزانے کو فلک پار بھی کر ...

مزید پڑھیے

محور پہ بھی گردش مری محور سے الگ ہو

محور پہ بھی گردش مری محور سے الگ ہو اس بحر میں تیروں جو سمندر سے الگ ہو اپنا بھی فلک ہو مگر افلاک سے ہٹ کے ہو بوجھ بھی سر کا تو مرے سر سے الگ ہو میں ایسا ستارہ ہوں تری کاہکشاں میں موجود ہو منظر میں نہ منظر سے الگ ہو دیوار نمائش کی خراشوں کا ہوں میں رنگ ہر لمحہ وہ دھاگہ ہے جو چادر ...

مزید پڑھیے

اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگ

اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگ عمر بھر کرتے رہے ہم دودھ اور پانی الگ ریت ہی دونوں جگہ تھی زیر مہر و زیر آب مصرع اولیٰ سے کب تھا مصرع ثانی الگ دشت میں پہلے ہی روشن تھی ببولوں پر بہار دے رہے ہیں شہر میں کانٹوں کو سب پانی الگ کچھ کمک چاہی تو زنبیل ہوا خالی ملی گھاٹیوں میں کھو ...

مزید پڑھیے

پہاڑوں کو بچھا دیتے کہیں کھائی نہیں ملتی

پہاڑوں کو بچھا دیتے کہیں کھائی نہیں ملتی مگر اونچے قدم رکھنے کو اونچائی نہیں ملتی اکیلا چھوڑتا کب ہے کسی کو لا شعور تن کسی تنہائی میں بھرپور تنہائی نہیں ملتی غنیمت ہے کہ ہم نے چشم حسرت پال رکھی ہے زمانے کو یہ حسرت بھی مرے بھائی نہیں ملتی فسون ریگ میں موجیں بھی ہیں دلدل بھی ...

مزید پڑھیے

ملا کسی سے نہ اچھا لگا سخن اس بار

ملا کسی سے نہ اچھا لگا سخن اس بار بنا ہے لاشوں کے اعضا سے یہ بدن اس بار سنا ہے تینوں رتیں ساتھ ساتھ آئیں گی قمیص ڈال کے نکلوں کھلے بٹن اس بار ہوا کی موت سے ڈولے نہ قتل آب سے ہم تمام چیزوں پہ بھاری پڑی تھکن اس بار بہت سے شہر بہت سی فضا بہت سے لوگ مگر ہے سب میں کوئی بو کوئی سڑن اس ...

مزید پڑھیے

جو دست اہل محبت کو اختیار ملے

جو دست اہل محبت کو اختیار ملے گدا کو پھول ملیں بادشہ کو خار ملے یہ شہر شیشہ گراں ہے یہاں یہی ہوگا کہ سنگ ایک ملا آئنے ہزار ملے ہمیشہ ہونٹوں پہ اس کے ہنسی نظر آئی ہماری آنکھوں میں آنسو بھی بے شمار ملے گئے تھے شہر سے باہر اداسیاں دھونے اور اس سفر میں سب آئینے پر غبار ملے ملا نہ ...

مزید پڑھیے

بہ مصلحت ہی سہی رازداں ضروری ہے

بہ مصلحت ہی سہی رازداں ضروری ہے رہ وفا میں کوئی مہرباں ضروری ہے جو تو شجر ہے تو مجھ کو پناہ دے جاناں مسافروں کے لیے سائباں ضروری ہے بغیر نام کے تیرے نہیں مری پہچان زمیں کے واسطے ایک آسماں ضروری ہے یہ کس سے پوچھیں کہ اظہار آرزو کرنا کہاں نہیں ہے ضروری کہاں ضروری ہے

مزید پڑھیے

یہ جو ہم اختلاف کرتے ہیں

یہ جو ہم اختلاف کرتے ہیں آپ کا اعتراف کرتے ہیں آؤ دھوتے ہیں دل کے داغوں کو آؤ آئینے صاف کرتے ہیں تم کو خوش دیکھنے کی خاطر ہم بات اپنے خلاف کرتے ہیں مجرم عشق تو بھی ہے اے دوست جا تجھے ہم معاف کرتے ہیں لفظ کے گھاؤ ہوں تو کیسے بھریں لفظ گہرا شگاف کرتے ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 452 سے 4657