شہر کو چوٹ پہ رکھتی ہے گجر میں کوئی چیز
شہر کو چوٹ پہ رکھتی ہے گجر میں کوئی چیز بلیاں ڈھونڈھتی رہتی ہیں کھنڈر میں کوئی چیز چاک ہیں زخم کے پانی میں ہوا میں ناسور مٹھیاں تول کے نکلی ہے سفر میں کوئی چیز بارہا آنکھیں گھنی کرتا ہوں اس پہ پھر بھی چھوٹ رہتی ہے نگہ سے گل تر میں کوئی چیز کبھی بیٹھک سے رسوئی کبھی دالان سے ...