شاعری

ہر اہتمام ہے دو دن کی زندگی کے لیے

ہر اہتمام ہے دو دن کی زندگی کے لیے سکون قلب نہیں پھر بھی آدمی کے لیے تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے نہ کھا فریب وفا کا یہ بے وفا دنیا کبھی کسی کے لیے ہے کبھی کسی کے لیے یہ دور شمس و قمر یہ فروغ علم و ہنر زمین پھر بھی ترستی ہے روشنی کے لیے کبھی اٹھے ...

مزید پڑھیے

گلہ کس سے کریں اغیار دل آزار کتنے ہیں

گلہ کس سے کریں اغیار دل آزار کتنے ہیں ہمیں معلوم ہے احباب بھی غم خوار کتنے ہیں سکت باقی نہیں ہے قم باذن للہ کہنے کی مسیحا بھی ہمارے دور کے بیمار کتنے ہیں یہ سوچو کیسی راہوں سے گزر کر میں یہاں پہنچا یہ مت دیکھو مرے دامن میں الجھے خار کتنے ہیں جو سوتے ہیں نہیں کچھ ذکر ان کا وہ تو ...

مزید پڑھیے

نئی صبح چاہتے ہیں نئی شام چاہتے ہیں

نئی صبح چاہتے ہیں نئی شام چاہتے ہیں جو یہ روز و شب بدل دے وہ نظام چاہتے ہیں وہی شاہ چاہتے ہیں جو غلام چاہتے ہیں کوئی چاہتا ہی کب ہے جو عوام چاہتے ہیں اسی بات پر ہیں برہم یہ ستم گران عالم کہ جو چھن گیا ہے ہم سے وہ مقام چاہتے ہیں کسے حرف حق سناؤں کہ یہاں تو اس کو سننا نہ خواص چاہتے ...

مزید پڑھیے

لئے پھرتا ہے خوں آلود کب تک پیرہن آخر

لئے پھرتا ہے خوں آلود کب تک پیرہن آخر ملے گا بعد مرنے کے سفیدہ اک کفن آخر نہ آئے مجھ سے کیوں کر خوشبو مشک ہرن آخر چھوا تھا صندلی ہاتھوں سے اس نے یہ بدن آخر مچا اک رن ہے دنیا میں نہتھا شخص ہوں میں یاں جیوں کیسے رہوں کب تک یہاں میں خیمہ زن آخر اڑا ہے فاختہ جب سے ڈیوڑھی سے مرے گھر ...

مزید پڑھیے

ترے کانوں میں گونجی کیا مری آواز جان من

ترے کانوں میں گونجی کیا مری آواز جان من میں روتا ہوں طبیعت ہے بہت ناساز جان من بلا کے دکھ اٹھاتے ہیں ترے اک کن کے مارے ہم یہ کن ہے سارے دکھ کا نقطۂ آغاز جان من تری زلفوں کی خوشبو سے ہوا بھی رقص کرتی ہے تجھی سے ہے ہوا کو قوت پرواز جان من نہ مجھ کو رونے دیتا ہے نہ مجھ کو مرنے دیتا ...

مزید پڑھیے

اداسی اک اسیری ہے اداسی سے گھرا ہوں میں

اداسی اک اسیری ہے اداسی سے گھرا ہوں میں اداسی ہی اداسی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں اداسی اور اداسی اور اداسی اور اداسی بس اداسی مجھ پہ حاوی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں یقیں تیرا تھا بس مجھ کو خدارا کیوں کروں میں اب تری ہستی خیالی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں بھٹکتا در بہ در رہتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

اداسی یہ سب حسرتیں مار دے گی

اداسی یہ سب حسرتیں مار دے گی امیدوں بھری ساعتیں مار دے گی تمہاری توجہ کے ہم منتظر ہے تمہاری توجہ ہمیں مار دے گی ہماری یہ قسمت ہے بد ذات کتنی یہ نازل ہوئی رحمتیں مار دے گی ہمارا ہی کاغذ ہماری عدالت ہماری ہی صحبت ہمیں مار دے گی ہماری حیا ایک صیاد جاناں ہماری حیا ہی تمہیں مار دے ...

مزید پڑھیے

آنکھ کا اشارہ ہے

آنکھ کا اشارہ ہے ہم پہ آشکارا ہے تیر نیم کش ہے کب یہ نظر تو آرا ہے ہے جو عشق کا چکر سر بہ سر خسارہ ہے درد کی حکومت ہے اور دکھ سہارا ہے اے مری متاع جاں ہم میں کیا ہمارا ہے دل کو غم ہیں دنیا کے اور دل تمہارا ہے ہجر دو گھڑی کا ہی آگ ہے شرارہ ہے مجھ میں ایک دریا ہے اور اک کنارہ ہے

مزید پڑھیے

بوسہ اک پیشانی پہ رکھا ہوا ہے

بوسہ اک پیشانی پہ رکھا ہوا ہے سب منظر حیرانی پہ رکھا ہوا ہے پچھلا جھگڑا دو پل میں بھولنے کو یہ ملبہ نادانی پہ رکھا ہوا ہے پھر آتش رستہ مجھ کو ڈھونڈھتا ہے پاؤں میں نے پانی پہ رکھا ہوا ہے زندہ مردہ یادیں سبھی پار لگیں دل دریا طغیانی پہ رکھا ہوا ہے مشکل میں رکھا ہے ہم نے دل کو اور ...

مزید پڑھیے

نین ہیں یہ شراب اف توبہ

نین ہیں یہ شراب اف توبہ نیم رخ پر حجاب اف توبہ سرمئی یہ نگاہ ہے قاتل ضرب کاری عذاب اف توبہ جام کے اک طرف ہیں میرے ہونٹ اک طرف وہ گلاب اف توبہ مرتعش دل ہوا ہے پھر ساکت حلق خشک دل خراب اف توبہ عشق میں اک فقیر پاگل دل حسن کا وہ نواب اف توبہ ہیں وہ آنکھیں سوال نامہ اب بس مرا اک جواب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4514 سے 4657