ہر اہتمام ہے دو دن کی زندگی کے لیے
ہر اہتمام ہے دو دن کی زندگی کے لیے سکون قلب نہیں پھر بھی آدمی کے لیے تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے نہ کھا فریب وفا کا یہ بے وفا دنیا کبھی کسی کے لیے ہے کبھی کسی کے لیے یہ دور شمس و قمر یہ فروغ علم و ہنر زمین پھر بھی ترستی ہے روشنی کے لیے کبھی اٹھے ...