شاعری

پیچ و خم وقت نے سو طرح ابھارے لوگو

پیچ و خم وقت نے سو طرح ابھارے لوگو کاکل زیست مگر ہم نے سنوارے لوگو اپنے سائے سے تمہیں آپ ہے دہشت زدگی تم ہو کس مصلحت وقت کے مارے لوگو ہم سفر کس کو کہیں کس کو سنائیں غم دل پنبہ در گوش ہوئے سارے سہارے لوگو ضربت سنگ بنے اپنی صدا کے غنچے گنبد جہد میں ہم جب بھی پکارے لوگو مجھ سے تم ...

مزید پڑھیے

کیا دور ہے کہ جو بھی سخنور ملا مجھے

کیا دور ہے کہ جو بھی سخنور ملا مجھے گم گشتہ اپنی ذات کے اندر ملا مجھے کس پیار سے گیا تھا تری آستیں کے پاس شاخ حنا کی چاہ میں خنجر ملا مجھے اس ظلمت حیات میں اک لفظ پیار کا جب مل گیا تو ماہ منور ملا مجھے صورت‌ گران عصر کا تھا انتظار کش تیری رہ طلب میں جو پتھر ملا مجھے روز ازل سے ...

مزید پڑھیے

جب سے ہے باد خزاں صرصر غم آوارہ

جب سے ہے باد خزاں صرصر غم آوارہ خشک پتوں کی طرح رہتے ہیں ہم آوارہ کچھ تو ہے بات کہ ہے موسم گل کے با وصف بوئے گل بوئے صبا بوئے صنم آوارہ کنج در کنج ستم خوردہ غزالوں کو ابھی تا بہ کے رکھے گی یہ لذت رم آوارہ حجلہ سنگ سر رہ میں نہ جانے کتنے رونمائی کو ہیں بیتاب صنم آوارہ ہے غم زیست ...

مزید پڑھیے

اجازت جو ہوتی تو اک بار روتا

اجازت جو ہوتی تو اک بار روتا میں دو تین گھنٹے لگاتار روتا یہ مذہب نہ ہوتے اگر بیچنے کو دکانیں بھی روتی یہ بازار روتا میں گھر آ گیا ہوں سڑک رو رہی ہے اگر میں نہ آتا تو گھر بار روتا یہ کہہ کر کہ رونا ہے کمزور کا کام میں منہ کو چھپا کر میرے یار روتا کوئی مجھ سے کہتا کہ جی بھر کے رو ...

مزید پڑھیے

کھیل تو بالکل عیاں ہے

کھیل تو بالکل عیاں ہے چور گھر کا پاسباں ہے سو گئی ہے روح کب کی بس بدن ہی تو رواں ہے ہے بڑی لمبی کہانی آسماں پر آسماں ہے گونجتی آواز کوئی شخص کوئی ہم زباں ہے جانتا ہوں سب حقیقت یہ مجھے کیسا گماں ہے جو بھی چاہے جڑ رہا ہے عشق ہے یا کارواں ہے مسئلہ پوچھا کہ کیا ہے تو فلاں بولا ...

مزید پڑھیے

بات یہ ہم لوگ اکثر سوچتے ہیں

بات یہ ہم لوگ اکثر سوچتے ہیں سوچنے سے ہوگا کیا پر سوچتے ہیں گھر چلے آتے ہیں جن سے بچ بچا کر وہ ہی چیزیں گھر پہ آ کر سوچتے ہیں رات کو ہم دیکھتے ہیں خواب تیرے اور پھر وہ خواب دن بھر سوچتے ہیں ہم کو تو یہ کام آتا بھی نہیں پر بات تیری ہو تو پھر پھر سوچتے ہیں بولتے ہیں سوچنا ہی چھوڑ ...

مزید پڑھیے

میری اس دھڑکن کی سرگم یعنی تم

میری اس دھڑکن کی سرگم یعنی تم میرے ان زخموں کا مرہم یعنی تم مٹی دلدل کالے بادل یعنی میں جھیل و جھرنے اچھا موسم یعنی تم لوگوں کا غم ہوں میں میرا غم یہ دل ہاں لیکن میرے دل کا غم یعنی تم اک خاموش کھڑی دلہن ہے یہ دنیا دلہن کی پائل کی چھم چھم یعنی تم تم کو سوچا تو ایسی تصویر ...

مزید پڑھیے

اک اک کر کے پولیں ساری کھولوں گا

اک اک کر کے پولیں ساری کھولوں گا لیکن اتنی جلدی تھوڑی کھولوں گا اس خوشبو سے بس اس کو مہکانا ہے میں موقع آنے پر شیشی کھولوں گا مل جائے گا چہرہ میرے مطلب کا تب جا کر آنکھوں کی پٹی کھولوں گا تم نے وقت لیا تھا سکہ چننے میں سو میں بھی اب دیر سے مٹھی کھولوں گا یوں نہ لگے میں اس کی راہ ...

مزید پڑھیے

تیر اندازوں کو اندازہ نہیں

تیر اندازوں کو اندازہ نہیں زد میں آنا تھا جسے آیا نہیں کچھ تصور کچھ توقع کچھ گماں یہ بھی کیا خوابوں کا خمیازہ نہیں ساری بستی میں فقط اک تیری ذات قبلہ و کعبہ سہی کعبہ نہیں جس ہوا میں تو ہے آقائے چمن کوئی بھی جھونکا وہاں تازہ نہیں دھول کی آنکھوں میں جا ہوتی نہیں پاؤں میں لگتا ...

مزید پڑھیے

جو نہیں لگتی تھی کل تک اب وہی اچھی لگی

جو نہیں لگتی تھی کل تک اب وہی اچھی لگی دیکھ کر اس کو جو دیکھا زندگی اچھی لگی تھک کے سورج شام کی بانہوں میں جا کر سو گیا رات بھر یادوں کی بستی جاگتی اچھی لگی منتظر تھا وہ نہ ہم ہوں تو ہمارا نام لے اس کی محفل میں ہمیں اپنی کمی اچھی لگی وقت رخصت بھیگتی پلکوں کا منظر یاد ہے پھول سی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4513 سے 4657