شاعری

کالج کا دالان نہیں ہے پیارے ظالم دنیا ہے

کالج کا دالان نہیں ہے پیارے ظالم دنیا ہے اور یہاں سچ بولنے والا سچ میں سب سے جھوٹا ہے میں تیرے دیدار کی خاطر آ جاتا ہوں خوابوں تک ورنہ اس لذت کے علاوہ نیندوں میں کیا رکھا ہے چمکیلے کپڑوں سے پرکھا مت کر انسانی لہجے گہرے کنویں میں اجلا پانی کھرا بھی ہو سکتا ہے وعدہ کر اے دل کش ...

مزید پڑھیے

اوڑھا ہے جب سے میں نے تمہارے وجود کو

اوڑھا ہے جب سے میں نے تمہارے وجود کو اک آگ لگ گئی میرے سارے وجود کو اٹھتی ہے میرے جسم سے تیرے بدن کی لو لگتا ہے چوم لیں گے ستارے وجود کو میں نے بدن اتار کے گٹھڑی میں رکھ دیا کیسے سنبھالتا میں ادھارے وجود کو یہ روح کا سفر بھی سمندر سے کم نہیں ملتے نہیں ہیں اس کے کنارے وجود کو تھا ...

مزید پڑھیے

چراغ نور تھامے دشت سے جگنو نکل آئے

چراغ نور تھامے دشت سے جگنو نکل آئے پلٹ کر دیکھ لیں شاید کوئی پہلو نکل آئے تمہارے ہجر میں پتھرا گئی ہے آنکھ ساون کی ملو ہم سے کہ یوں شاید کوئی آنسو نکل آئے ہمہ تن رقص رہتا ہوں یہی میں سوچ کے شاید تمنا سوز صحرا سے کوئی آہو نکل آئے یہ کوئے یار ہے کوئی کرشمہ ہو بھی سکتا ہے اگر اس حبس ...

مزید پڑھیے

میرے ادراک میں سوچوں کا گزر رہتا ہے

میرے ادراک میں سوچوں کا گزر رہتا ہے جس طرح دہر میں لمحوں کا سفر رہتا ہے جانے کس سازشی ماحول کی سوغاتیں ہیں کوئی مفلس تو کوئی صاحب زر رہتا ہے ہم اچھالیں گے اسی شب کے سمندر سے نجوم اک یہی جذبۂ نو پیش نظر رہتا ہے جبر حالات سے لرزے نہ کہیں ساری زمیں اجنبی خوف سا کیوں شام و سحر رہتا ...

مزید پڑھیے

میں وارفتہ ستارو کا مری منزل تو آگے ہے

میں وارفتہ ستارو کا مری منزل تو آگے ہے میں راہی رہ گزاروں کا مری منزل تو آگے ہے نہ پھولوں کی تمنا ہے نہ خوشبو سے کوئی مطلب نہ میں دشمن ہوں خاروں کا مری منزل تو آگے ہے مجھے غوطے لگانے ہیں مجھے گوہر سے مطلب ہے نہیں خواہاں کناروں کا مری منزل تو آگے ہے اندھیروں میں چمکتا ہوں سدا ...

مزید پڑھیے

تم بھی تھے سر دار سر دار تھا میں بھی

تم بھی تھے سر دار سر دار تھا میں بھی تم دیکھ تو لیتے کہ نمودار تھا میں بھی یہ جسم رکاوٹ تھا میرے عشق میں شاید اور سچ ہے کہ اس جسم سے بیزار تھا میں بھی ممکن ہے کہ بیتاب رہا ہو کبھی تو بھی یادوں کی اذیت میں گرفتار تھا میں بھی بازار میں لایا گیا یوسف کی طرح میں کچھ دیر سہی رونق ...

مزید پڑھیے

عکس کھل جاتا ہے لیکن دائرہ کھلتا نہیں

عکس کھل جاتا ہے لیکن دائرہ کھلتا نہیں سامنے چہرہ نہ ہو تو آئینہ کھلتا نہیں روح سے محروم بینائی پہ منظر کیا کھلے آنکھ کی دہلیز پر تو رتجگا کھلتا نہیں مصلحت کے جگنوؤں کو ساتھ رکھتے ہیں میاں رنجشوں کے درمیاں تو راستہ کھلتا نہیں زندگی اور موت دونوں ہی انوکھے بھید ہیں ایک کھل ...

مزید پڑھیے

یہ ریت قیس کے نقش قدم پہ چلتی رہی

یہ ریت قیس کے نقش قدم پہ چلتی رہی سمندروں کے خد و خال کو بدلتی رہی کسی کے قدموں سے رستے لپٹ کے رویا کیے کسی کی موت پہ خود موت ہاتھ ملتی رہی اسے کنارے کا کنکر سمجھ کے پاؤں نہ رکھ یہ آرزو میرے دل کے صدف میں پلتی رہی غرور تشنہ دہانی تری بقا کی قسم ندی ہمارے لبوں کی طرف اچھلتی ...

مزید پڑھیے

وہی کہ جس میں غرور شہی ملایا گیا

وہی کہ جس میں غرور شہی ملایا گیا مرا خمیر اسی خاک سے اٹھایا گیا اب اس پہ چاند ستارے بھی رشک کرتے ہیں وہ اک دیا جو کبھی دشت میں بجھایا گیا اگے گی فصل مضافات میں بغاوت کی فصیل شہر سے مجھ کو اگر گرایا گیا مگر میں ذات کے صحرا میں محو رقص رہا مجھے بھی کوہ ندا کی طرف بلایا گیا مرے لیے ...

مزید پڑھیے

تازہ پھول سجائیں کیوں ہم کمرے کے گل دانوں میں

تازہ پھول سجائیں کیوں ہم کمرے کے گل دانوں میں تیری خوشبو شامل ہے روزانہ کے مہمانوں میں کیسی کیسی بستی اجڑی اہل خرد کے ہاتھوں سے دیوانوں نے شہر بسائے جا کر ریگستانوں میں اپنے آنسو دفن ہوئے ہیں آنکھ کی گیلی قبروں میں اپنی چیخیں قید رہی ہیں ذہنوں کے زندانوں میں اس کے روپ کی دھوپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4476 سے 4657