میرے خوش رہنے سے اس کو کچھ پریشانی نہ تھی
میرے خوش رہنے سے اس کو کچھ پریشانی نہ تھی اس کو زندہ دیکھ کر مجھ کو بھی حیرانی نہ تھی دو تھکے ہارے دلوں نے اک ندی پر رات کی تھی مگر جذبوں میں وہ پہلی سی طغیانی نہ تھی رک گیا تھا وہ مرے حجرے میں جانے کس لیے آسماں شفاف تھا اور رات طوفانی نہ تھی تیغ زن کو وار سے پہچان لیتا تھا ...