شاعری

میرے خوش رہنے سے اس کو کچھ پریشانی نہ تھی

میرے خوش رہنے سے اس کو کچھ پریشانی نہ تھی اس کو زندہ دیکھ کر مجھ کو بھی حیرانی نہ تھی دو تھکے ہارے دلوں نے اک ندی پر رات کی تھی مگر جذبوں میں وہ پہلی سی طغیانی نہ تھی رک گیا تھا وہ مرے حجرے میں جانے کس لیے آسماں شفاف تھا اور رات طوفانی نہ تھی تیغ زن کو وار سے پہچان لیتا تھا ...

مزید پڑھیے

اسم بن کر ترے ہونٹوں سے پھسلتا ہوا میں

اسم بن کر ترے ہونٹوں سے پھسلتا ہوا میں برف زاروں میں اتر آیا ہوں جلتا ہوا میں اس نے پیمانے کو آنکھوں کے برابر رکھا اس کو اچھا نہیں لگتا تھا سنبھلتا ہوا میں رات کے پچھلے پہر چاند سے کچھ کم تو نہ تھا دن کی صورت تری بانہوں سے نکلتا ہوا میں تیرے پہلو میں ذرا دیر کو سستا لوں گا تجھ ...

مزید پڑھیے

کبھی تو خواب کبھی رت جگے سے باتیں کیں

کبھی تو خواب کبھی رت جگے سے باتیں کیں ترے گمان میں ہم نے دیے سے باتیں کیں ردائے شب پہ نئے طرز سے وصال لکھا بچھڑنے والوں نے اک دوسرے سے باتیں کیں رہی نہ یاروں سے امید غم گساری کی گھر آئے گریہ کیا آئنے سے باتیں کیں عجب مذاق ہے ہم نے خدا کے دھوکے میں تمام عمر کسی وسوسے سے باتیں ...

مزید پڑھیے

وہ پو پھٹی وہ کرن سے کرن میں آگ لگی

وہ پو پھٹی وہ کرن سے کرن میں آگ لگی وہ شب کی زلف شکن در شکن میں آگ لگی سلگ اٹھی وہ ردائے نجوم و کاہکشاں وہ دیکھ دامن چرخ کہن میں آگ لگی نشاط گرمیٔ محفل تھی جس کی تابانی اسی چراغ سے کیوں انجمن میں آگ لگی ہزار شمس و قمر بجھ گئے پہ یہ نہ بجھی یہ کس دیئے سے پتنگوں کے من میں آگ ...

مزید پڑھیے

نغمۂ عشق بتاں اور ذرا آہستہ

نغمۂ عشق بتاں اور ذرا آہستہ ذکر نازک بدناں اور ذرا آہستہ میرے محبوب کی یادوں کے بھڑکتے ہیں چراغ اے نسیم گزراں اور ذرا آہستہ جس طرف سے وہ گزرتے ہیں صدا آتی ہے اے قرار دل و جاں اور ذرا آہستہ دل ہر اک گام پہ لوگوں نے بچھا رکھے ہیں اور اے سرو رواں اور ذرا آہستہ کوچۂ دوست میں ...

مزید پڑھیے

اک خلش کو حاصل عمر رواں رہنے دیا

اک خلش کو حاصل عمر رواں رہنے دیا جان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا آرزوئے قرب بھی بخشی دلوں کو عشق نے فاصلہ بھی میرے ان کے درمیاں رہنے دیا کتنی دیواروں کے سائے ہاتھ پھیلاتے رہے عشق نے لیکن ہمیں بے خانماں رہنے دیا اپنے اپنے حوصلے اپنی طلب کی بات ہے چن لیا ہم نے تمہیں سارا ...

مزید پڑھیے

مرے شوق جستجو کا کسے اعتبار ہوتا

مرے شوق جستجو کا کسے اعتبار ہوتا سر راہ منزلوں تک نہ اگر غبار ہوتا میں تجھے خدا سمجھ کر نہ گناہ گار ہوتا اگر ایک بے نیازی ہی ترا اشعار ہوتا جو ستم زدوں کا یارب کوئی غم گسار ہوتا تو غم حیات اتنا نہ دلوں پہ بار ہوتا مری زندگی میں شامل جو نہ تیرا پیار ہوتا تو نشاط دو جہاں بھی مجھے ...

مزید پڑھیے

منزلیں نہ بھولیں گے راہرو بھٹکنے سے

منزلیں نہ بھولیں گے راہرو بھٹکنے سے شوق کو تعلق ہی کب ہے پاؤں تھکنے سے زندگی کے رشتے بھی دور دور تک نکلے روح جاگ اٹھتی ہے پھول کے مہکنے سے کتنے تیر کھائے ہیں کتنے غم اٹھائے ہیں باز ہی نہیں آتا دل مگر دھڑکنے سے ایک ساغر لبریز اور صورت سقراط جاوداں نہیں ہوتے صرف زہر چکھنے ...

مزید پڑھیے

بخشے پھر اس نگاہ نے ارماں نئے نئے

بخشے پھر اس نگاہ نے ارماں نئے نئے محسوس ہو رہے ہیں دل و جاں نئے نئے یوں قید زندگی نے رکھا مضطرب ہمیں جیسے ہوئے ہوں داخل زنداں نئے نئے کس کس سے اس امانت دیں کو بچایئے ملتے ہیں روز دشمن ایماں نئے نئے راحت کی جستجو میں خوشی کی تلاش میں غم پالتی ہے عمر گریزاں نئے نئے مسجد میں اور ...

مزید پڑھیے

نہیں کسی کی توجہ خود آگہی کی طرف

نہیں کسی کی توجہ خود آگہی کی طرف کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف تمہارا جلوۂ معصوم دیکھ لے اک بار خیال جس کا نہ جاتا ہو بندگی کی طرف مزاج شیخ و برہمن کی برہمی معلوم کہ اب حیات کا رخ ہے خود آگہی کی طرف نظر وہ لوگ اجالے میں خود نہ آئے کبھی بلا رہے ہیں جو دنیا کو روشنی کی طرف جتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4477 سے 4657