شاعری

زہے نصیب وہ پرساں ہیں غم کے ماروں کے

زہے نصیب وہ پرساں ہیں غم کے ماروں کے مزاج عرش پہ ہیں آج دل فگاروں کے جہاں میں دیدۂ جوہر شناس کی ہے کمی زیادہ دام ہیں ہیروں سے سنگ پاروں کے طلوع مہر بدلنے کو ہے نظام فلک کہو کہ کوچ کریں کارواں ستاروں کے حسین چاند کی کرنوں سے کھیلنے والی مرے جہاں میں کئی کھیت ہیں ستاروں کے

مزید پڑھیے

ہر سوال کا اپنے خود جواب ہو جائے

ہر سوال کا اپنے خود جواب ہو جائے ذرے کی تمنا ہے آفتاب ہو جائے تو کبھی جو بھولے سے بے نقاب ہو جائے منتقل حقیقت میں اپنا خواب ہو جائے عشق کے پرستارو کچھ کمی تو ہے ورنہ بوالہوس محبت میں کامیاب ہو جائے ہم نفس خدا حافظ غنچہ و عنادل کا باغباں کی نیت ہی جب خراب ہو جائے میکدے میں توبہ ...

مزید پڑھیے

جلوے نہیں ہوتے وہ نظارے نہیں ہوتے

جلوے نہیں ہوتے وہ نظارے نہیں ہوتے جب چاند کے پہلو میں ستارے نہیں ہوتے ہم اس لیے کرتے ہیں ترے غم کی پرستش کانٹوں کے خریدار تو سارے نہیں ہوتے ساحل کے طلب گار یہ پہلے سے سمجھ لیں دریائے محبت کے کنارے نہیں ہوتے اٹھتے ہوئے جذبات کے طوفاں نہیں رکتے پابند روش وقت کے دھارے نہیں ہوتے

مزید پڑھیے

ابھی محبت کی ابتدا ہے دلوں کے ارماں نکل رہے ہیں

ابھی محبت کی ابتدا ہے دلوں کے ارماں نکل رہے ہیں ابھی ہے آغاز مستیوں کا شراب کے دور چل رہے ہیں عجیب برسات کا سماں ہے نظر کو ہر وقت یہ گماں ہے کہ حسن انگڑائی لے رہا ہے حسین کپڑے بدل رہے ہیں ابھی جوانی پہ ہیں امنگیں دلوں میں ہیں سینکڑوں ترنگیں جو دو چراغ آج بجھ رہے ہیں تو دس چراغ ...

مزید پڑھیے

وقت آنے دو چاک سی لیں گے

وقت آنے دو چاک سی لیں گے ابر اٹھنے دو ہم بھی پی لیں گے انقطاع تعلقات سہی اپنی ہمت ہوئی تو جی لیں گے تم پرستش کرو ستاروں کی ہم ستاروں سے روشنی لیں گے مسئلہ زندگی کا سیدھا ہے ہم مرے بھی تو زندگی لیں گے سانس لینے کو یوں تو لیتے ہیں چین کا سانس بھی کبھی لیں گے آتش و آب لیں گے شبنم ...

مزید پڑھیے

ابھی جوانی ہے میکدے پر ابھی تو بادل بھی ہے گھنیرا

ابھی جوانی ہے میکدے پر ابھی تو بادل بھی ہے گھنیرا ابھی تو زندہ ہے حسن ساقی ابھی سلامت ہے عشق میرا وہ شب کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں وہ لڑکھڑانے لگا اندھیرا اٹھو مصیبت کشو اٹھو بھی اٹھو کہ ہونے کو ہے سویرا مجھے نہ محبوس کر سکے گی کسی بھی پازیب کی چھنا چھن گرفت کی منزلوں سے آگے گزر چکا ...

مزید پڑھیے

عشق مانوس التجا نہ ہوا

عشق مانوس التجا نہ ہوا حسن آزردۂ جفا نہ ہوا جیسا چاہا بنا لیا تم نے اک کھلونا ہوا خدا نہ ہوا بت خدا بن کے بار بار آئے میں ہی شرمندۂ دعا نہ ہوا سب غلط فہمیاں ہی مٹ جاتیں دل سزاوار التجا نہ ہوا ہائے مجبوریاں محبت کی میں خفا ہو کے بھی خفا نہ ہوا جانے لا کر کہاں ڈبو دیتا خیر گزری ...

مزید پڑھیے

گر ایک شب بھی وصل کی لذت نہ پائے دل

گر ایک شب بھی وصل کی لذت نہ پائے دل پھر کس امید پر کوئی تم سے لگائے دل اک دل تجھے مدام ستانے کو چاہیے تیرے لئے کہاں سے کوئی روز لائے دل اترا نہ آ کے یاں کوئی جز کاروان غم مہماں سرا سے کم نہیں یارو سرائے دل کوچہ سے اپنے ہم کو اٹھاتا ہے کس لئے بیٹھیں ہیں ہم جہان سے اپنا اٹھائے ...

مزید پڑھیے

دنیا کے جو مزے ہیں ہرگز وہ کم نہ ہوں گے

دنیا کے جو مزے ہیں ہرگز وہ کم نہ ہوں گے چرچے یہی رہیں گے افسوس ہم نہ ہوں گے آغاز عشق ہی میں شکوہ بتوں کا اے دل دکھ صبر ابھی تو کیا کیا ستم نہ ہوں گے بلبل کے درد دل کو ممکن نہیں مداوا گلچیں کے ہاتھ دونوں جب تک قلم نہ ہوں گے یاد گزشتگاں پر کیا روئیں اب ترقیؔ کیا ہم روانہ سوئے ملک ...

مزید پڑھیے

یہاں وہاں سے ادھر ادھر سے نہ جانے کیسے کہاں سے نکلے

یہاں وہاں سے ادھر ادھر سے نہ جانے کیسے کہاں سے نکلے خوشی سے جینے کی جستجو میں ہزار غم ایک جاں سے نکلے یہ کمتری برتری کے فتنے یہ عام و اعلیٰ کے سرد جھگڑے ہمیں نے نازو سے دل میں پالے ہمارے ہی درمیاں سے نکلے خلوص کی گفتگو تو چھوڑو کسی کو فرصت نہیں ہے خود سے میاں غنیمت سمجھ لو شکوے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4475 سے 4657