شاعری

ہزاروں سر کسی کے پاؤں پر دیکھے نہیں جاتے

ہزاروں سر کسی کے پاؤں پر دیکھے نہیں جاتے نظام زر کے یہ زیر و زبر دیکھے نہیں جاتے احاطے یہ رواجوں کے یہ دیواریں سماجوں کی دلوں کے شہر میں پتھر کے گھر دیکھے نہیں جاتے الٹ دو ان نقابوں کو یہ پردے چاک کر ڈالو گھٹاؤں کے لپیٹے میں قمر دیکھے نہیں جاتے مسرت جن سے برگشتہ اذیت جان کا ...

مزید پڑھیے

شاید وہ پڑھ سکیں گے نہ لکھا ہوا تمام

شاید وہ پڑھ سکیں گے نہ لکھا ہوا تمام خط میرا آنسوؤں میں ہے بھیگا ہوا تمام روداد درد عشق سنانے چلا تھا میں تم سے ملی نگاہ تو قصہ ہوا تمام دل میرا حسرتوں کی ہے دنیا لئے ہوئے آنکھوں میں سیل اشک ہے ٹھہرا ہوا تمام اونچی عمارتیں ہیں مگر پستہ قد ہیں لوگ یہ تیرا شہر میرا ہے دیکھا ہوا ...

مزید پڑھیے

خیالوں میں تم کو بسانے لگا ہوں

خیالوں میں تم کو بسانے لگا ہوں میں خود سے بہت دور جانے لگا ہوں خوشی ایک چاہی تو انجام یہ ہے کہ خوشیوں سے دامن بچانے لگا ہوں گئے جب سے تم دور نظروں سے میری تمہیں دل کے نزدیک پانے لگا ہوں کہیں پھر نہ دیکھے وہ نظر کرم سے سکوں بے رخی میں جو پانے لگا ہوں تفکر ہے چہرے پہ پھر باغباں ...

مزید پڑھیے

ہمارے خون کے پیاسے پشیمانی سے مر جائیں

ہمارے خون کے پیاسے پشیمانی سے مر جائیں اگر ہم ایک دن اپنی ہی نادانی سے مر جائیں اذیت سے جنم لیتی سہولت راس آتی ہے کوئی ایسی پڑے مشکل کہ آسانی سے مر جائیں ادھوری سی نظر کافی ہے اس آئینہ داری پر اگر ہم غور سے دیکھیں تو حیرانی سے مر جائیں بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں ...

مزید پڑھیے

جب اک سراب میں پیاسوں کو پیاس اتارتی ہے

جب اک سراب میں پیاسوں کو پیاس اتارتی ہے مرے یقیں کو قرین قیاس اتارتی ہے ہمارے شہر کی یہ وحشیانہ آب و ہوا ہر ایک روح میں جنگل کی باس اتارتی ہے یہ زندگی تو لبھانے لگی ہمیں ایسے کہ جیسے کوئی حسینہ لباس اتارتی ہے تمہارے آنے کی افواہ بھی سر آنکھوں پر یہ بام و در سے اداسی کی گھاس ...

مزید پڑھیے

نشاں منزل کا بتلایا نہ مجھ کو ہم سفر جانا

نشاں منزل کا بتلایا نہ مجھ کو ہم سفر جانا تذبذب میں پڑا ہے وہ جسے میں نے خضر جانا نظر میری بصیرت کو سدا محدود رکھتی ہے پس منظر نہیں دیکھا فقط پیش نظر جانا جہاں تقدیر لے جائے وہاں رستے نہیں جاتے کیا تھا رخ ادھر کا کیوں لکھا تھا جب ادھر جانا حوالہ زندگی کا بھی تمہاری زلف جیسا ...

مزید پڑھیے

ہم سے تو راہ و رسم ہے اغیار کی طرح

ہم سے تو راہ و رسم ہے اغیار کی طرح دنیا پہ مہربان ہیں غم خوار کی طرح کم مائیگی نہ پوچھ مری بزم غیر میں اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح میں تاجران عشق کے بارے میں کیا کہوں ان کا جنوں ہے گرمئ بازار کی طرح خود ساختہ بتوں کو میں اب توڑ تاڑ کر پوجوں گا بس اسی کو پرستار کی طرح ذوق نظر ...

مزید پڑھیے

ساز ہستی پہ ابھی جھوم کے گا لے مجھ کو

ساز ہستی پہ ابھی جھوم کے گا لے مجھ کو زندگی سے یہ کہو اور نہ ٹالے مجھ کو میں نے تو صبح درخشاں کی دعا مانگی تھی کیوں ملے زرد چراغوں کے اجالے مجھ کو تجھ کو پانے کے لیے عمر گنوا دی میں نے حق تو بنتا ہے کہ تو اپنا بنا لے مجھ کو یہ تو ساقی کی جگہ اور کوئی بیٹھا ہے یہ جو گن گن کے پلاتا ہے ...

مزید پڑھیے

دستور تھا جو غم کا پرانا بدل گیا

دستور تھا جو غم کا پرانا بدل گیا سنبھلے نہ تھے ابھی کہ زمانہ بدل گیا شکوہ نہیں کہ ساغر و مینا بدل گئے ٹوٹا خمار کیف شبانہ بدل گیا جو باب تھے اہم ابھی ہونے تھے وہ رقم پر کیا کہ لکھتے لکھتے فسانہ بدل گیا مشق سخن وہی ہے مشقت بھی ہے وہی کیسے کروں یقین زمانہ بدل گیا نغمہ سرا ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے زخم سبھی کو دکھا نہیں سکتے

ہم اپنے زخم سبھی کو دکھا نہیں سکتے جو شکوہ تم سے ہے سب کو سنا نہیں سکتے مرے خیال کی گہرائی کو ذرا سمجھو کہ صرف لفظ تو مطلب بتا نہیں سکتے ملال یہ ہے کہ ساقی تو بن گئے صاحب شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے عجب ہے پھول کی فطرت اسے مسل کر تم مہکتے ہاتھوں کی خوشبو چھپا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4445 سے 4657