ہزاروں سر کسی کے پاؤں پر دیکھے نہیں جاتے
ہزاروں سر کسی کے پاؤں پر دیکھے نہیں جاتے نظام زر کے یہ زیر و زبر دیکھے نہیں جاتے احاطے یہ رواجوں کے یہ دیواریں سماجوں کی دلوں کے شہر میں پتھر کے گھر دیکھے نہیں جاتے الٹ دو ان نقابوں کو یہ پردے چاک کر ڈالو گھٹاؤں کے لپیٹے میں قمر دیکھے نہیں جاتے مسرت جن سے برگشتہ اذیت جان کا ...