شاعری

کیا بتائیں حال دل ان کی شناسائی کے بعد

کیا بتائیں حال دل ان کی شناسائی کے بعد حبس بڑھتا ہی چلا جاتا ہے پروائی کے بعد ایک مدت پر خیال ان کا کہاں سے آ گیا کتنی اچھی انجمن لگتی ہے تنہائی کے بعد جب نظر آیا نہ ساحل ان کی چشم ناز میں کیا دکھائی دے گا وہ دریا کی گہرائی کے بعد در بدر کی ٹھوکریں کھائیں محبت میں تو کیا ہو گئے ...

مزید پڑھیے

عجیب چیز محبت کی واردات بھی ہے

عجیب چیز محبت کی واردات بھی ہے حدیث دل بھی ہے روداد کائنات بھی ہے عبودیت تو ہمارا ہے شیوۂ‌ فطری اگر خدائی کریں ہم تو کوئی بات بھی ہے ادھر بھی اٹھتی ہے ارباب انجمن کی نظر کچھ آپ ہی نہیں محفل میں میری ذات بھی ہے مرے وجود سے نا ممکنات کا عالم مرے وجود سے دنیائے ممکنات بھی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

میرے لیے ساحل کا نظارا بھی بہت ہے

میرے لیے ساحل کا نظارا بھی بہت ہے گرداب میں تنکے کا سہارا بھی بہت ہے دم ساز ملا کوئی نہ صحرائے جنوں میں ڈھونڈا بھی بہت ہم نے پکارا بھی بہت ہے اپنی روش لطف پہ کچھ وہ بھی مصر ہیں کچھ تلخئ غم ہم کو گوارا بھی بہت ہے انجام وفا دیکھ لیں کچھ اور بھی جی کے سنتے ہیں خیال ان کو ہمارا بھی ...

مزید پڑھیے

بہار آئے گی گلشن میں تو دار و گیر بھی ہوگی

بہار آئے گی گلشن میں تو دار و گیر بھی ہوگی جہاں اہل جنوں ہوں گے وہاں زنجیر بھی ہوگی اسی امید پر ہم گامزن ہیں راہ منزل میں یہاں ظلمت سہی آگے کہیں تنویر بھی ہوگی اگر رہنا ہے گلشن میں تو اپنے آشیانے کی کبھی تخریب بھی ہوگی کبھی تعمیر بھی ہوگی یہی تو سوچ کر ہم ان کی محفل سے چلے ...

مزید پڑھیے

غم حیات کے پیش و عقب نہیں پڑھتا

غم حیات کے پیش و عقب نہیں پڑھتا یہ دور وہ ہے جو شعر و ادب نہیں پڑھتا کوئی تو بات ہے روداد خون ناحق میں کہیں کہیں سے وہ پڑھتا ہے سب نہیں پڑھتا کسی کا چہرۂ تاباں کہ ماہ رخشندہ جو پڑھنے والا ہے قرآں وہ کب نہیں پڑھتا وہ کون ہے جو تجھے رات دن نہیں لکھتا وہ کون ہے جو تجھے روز و شب نہیں ...

مزید پڑھیے

لب دریا ہوں لیکن تشنگی محسوس کرتا ہوں

لب دریا ہوں لیکن تشنگی محسوس کرتا ہوں میں اپنے گھر میں خود کو اجنبی محسوس کرتا ہوں خدا جانے وفور شوق کا یہ کیسا عالم ہے نشاط و غم میں یکساں بے خودی محسوس کرتا ہوں کسی سے بے تکلف گفتگو ہوتی ہے محفل میں مگر خلوت میں لفظوں کی کمی محسوس کرتا ہوں کبھی مخلص کبھی حاسد کبھی مے کش کبھی ...

مزید پڑھیے

دل شکستہ ہے روح پیاسی ہے

دل شکستہ ہے روح پیاسی ہے ایک بے نام سی اداسی ہے رنج کیا عیش کیا تمیز کسے سلسلہ وار بد حواسی ہے صاف گوئی کہ وصف تھی پہلے ان دنوں جرم ناروا سی ہے کتنا آساں ہے معتبر ہونا کتنی دشوار خود شناسی ہے میری عصیاں نگاہی کا موجب آپ کی مختصر لباسی ہے تھوڑی جرأت سے کیا نہیں ہوتا پھر وہ ...

مزید پڑھیے

خوش بہت ہے کہ خوش گماں بھی تو ہے

خوش بہت ہے کہ خوش گماں بھی تو ہے ربط دونوں کے درمیاں بھی تو ہے سر سے پا تک وہ آتش خاموش دیدۂ نم دھواں دھواں بھی تو ہے خیمہ جلنے کا راز سر بستہ کوئی در پردہ مہرباں بھی تو ہے شاخساروں پہ اعتماد بھی کم چار تنکوں کا آشیاں بھی تو ہے تیز چلنے پہ اختیار سہی ہم سفر کوئی ناتواں بھی تو ...

مزید پڑھیے

احتیاطاً کوئی جواب نہ دے

احتیاطاً کوئی جواب نہ دے پیالہ بے ظرف ہے شراب نہ دے دائرہ بند مشک بو کو صدا اے دل خانماں خراب نہ دے خاطر زود رنج رکھتا ہوں نا دمیدہ کوئی گلاب نہ دے حادثے میں شریک تھے کتنے مہرباں جھوٹ سچ حساب نہ دے خواب اسلاف خواب ہے اب تک از سر نو مزید خواب نہ دے کار بے سود ہے مجھے ناحق قد سے ...

مزید پڑھیے

آشنا شکل ناآشنا آدمی

آشنا شکل ناآشنا آدمی خود فریبی میں ہے مبتلا آدمی جانے کن کن عنایات سے ٹوٹ کر جھیلتا ہے شکست انا آدمی کتنا مشکل ہے مردم شناسی کا فن کتنا گھائل تھا وہ مسخرہ آدمی کس سے احوال کی کوئی پرسش کرے دوڑتا بھاگتا حادثہ آدمی اک حباب رواں موج سیال پر ہے مگر کس قدر خود نما آدمی یوں تعلق ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4444 سے 4657