کیا بتائیں حال دل ان کی شناسائی کے بعد
کیا بتائیں حال دل ان کی شناسائی کے بعد حبس بڑھتا ہی چلا جاتا ہے پروائی کے بعد ایک مدت پر خیال ان کا کہاں سے آ گیا کتنی اچھی انجمن لگتی ہے تنہائی کے بعد جب نظر آیا نہ ساحل ان کی چشم ناز میں کیا دکھائی دے گا وہ دریا کی گہرائی کے بعد در بدر کی ٹھوکریں کھائیں محبت میں تو کیا ہو گئے ...