شاعری

یہ مے کشی کا سبق ہے نئے نصاب کے ساتھ

یہ مے کشی کا سبق ہے نئے نصاب کے ساتھ کہ خون دل ہمیں پینا ہے اب شراب کے ساتھ بس اس یقین پہ ہوتی ہیں لغزشیں اکثر کہ رحمتوں کا بھی داتا ہے تو عذاب کے ساتھ یہ قربتوں کا اشارہ ہے یا جدائی کا جو زرد پھول ملا ہے ترے جواب کے ساتھ ذرا وہ ساتھ بھی چلتے ہیں لوٹ جاتے ہیں حجاب ٹوٹ رہے ہیں مگر ...

مزید پڑھیے

ازل سے بے ثباتی کا گلہ تھا

ازل سے بے ثباتی کا گلہ تھا مگر انسان خود کم حوصلہ تھا جسے سمجھے سمندر کی روانی سبیل زندگی کا بلبلہ تھا عجب سی تھی مسافت تیرگی کی چلا تھا گر پڑا تھا پھر چلا تھا ہر اک لمحہ رفاقت کا ہماری دھنک کے سات رنگوں سے سجا تھا توازن تھا ضروری زندگی میں تلون کا مگر اپنا مزا تھا کھڑا تھا ...

مزید پڑھیے

الجھن میں ہست و بود کی یوں مبتلا ہوں میں

الجھن میں ہست و بود کی یوں مبتلا ہوں میں خود اپنا عکس ہوں کہ ترا آئنہ ہوں میں مجھ کو کیا ہے لائق سجدہ اسی لئے اجزائے کائنات میں سب سے جدا ہوں میں تو ایک ہے مگر ہیں ترے ان گنت مجاز ہر آئنے میں تیرے نمایاں ہوا ہوں میں تشنہ لبی میں ضبط ہو اور وہ بھی اس گھڑی جب اتفاق سے لب دریا کھڑا ...

مزید پڑھیے

کیا فسانے میں مرا نام کہیں ہوتا ہے

کیا فسانے میں مرا نام کہیں ہوتا ہے تیرے ہونٹوں پہ نہیں ہے تو نہیں ہوتا ہے تو جسے ڈھونڈھتا پھرتا ہے زمانے بھر میں اپنے دل میں تو ذرا جھانک وہیں ہوتا ہے کتنے سادہ ہیں یہ کشتی کے مسافر جن کو ناخداؤں کی خدائی پہ یقیں ہوتا ہے توڑ کر بند قبا چاک گریباں ہو کر رنگ وحشت کا مری اور حسیں ...

مزید پڑھیے

یہ دیا خوں سے جلا پھر بھی جلا ہے تو سہی

یہ دیا خوں سے جلا پھر بھی جلا ہے تو سہی لاکھ رسماً ہی ملا مجھ سے ملا ہے تو سہی ان کہی بات سمجھ لو تو بڑی بات ہے یہ میری خاموش نوائی میں صدا ہے تو سہی ڈگمگاتا مجھے دیکھے تو سہارا دے کوئی یہ جو لغزش ہے تو لغزش کا مزا ہے تو سہی بھیگی آنکھیں یہ بتاتی ہیں کہ سن کر مرا حال کچھ نہ کچھ تجھ ...

مزید پڑھیے

بس ہر اک رات یہی جرم کیا ہے میں نے

بس ہر اک رات یہی جرم کیا ہے میں نے لا کے خوابوں میں تجھے دیکھ لیا ہے میں نے ہر برس زیست کا لمحہ سا لگا ہے لیکن بعض لمحوں میں تو صدیوں کو جیا ہے میں نے چھوٹے جاتے ہیں سبھی اہل خرابات جنوں کیا عجب عقل سے سودا یہ کیا ہے میں نے ساغر مرگ کو سقراط نے پی کر یہ کہا زندگی تیرے لئے زہر پیا ...

مزید پڑھیے

مصروف رہ گزر پہ چلا جا رہا تھا میں

مصروف رہ گزر پہ چلا جا رہا تھا میں پھر کیوں لگا کہ سب سے جدا جا رہا تھا میں تعمیر ذات ہی میں لگی زندگی تمام خالق بنا رہا تھا بنا جا رہا تھا میں حاصل تھیں جن کو راحتیں وہ بھی فنا ہوئے کیوں اپنی مفلسی سے ڈرا جا رہا تھا میں دریائے زیست کی یہی منزل تھی آخری اک بحر بیکراں میں گرا جا ...

مزید پڑھیے

مے کدہ سا بنا دیا گھر میں

مے کدہ سا بنا دیا گھر میں اور ساقی بٹھا دیا گھر میں اس کی ضد تھی کہ اہتمام کروں میں نے خود کو بچھا دیا گھر میں تیرے پہرے جگہ جگہ پا کر خود کو قیدی بنا دیا گھر میں تیری قربت تھی آگ تھی کیا تھی میرا سب کچھ جلا دیا گھر میں ڈر کے اپنے ہی سائے سے میں نے ہر دیے کو بجھا دیا گھر میں خود ...

مزید پڑھیے

یہ ریگ رواں یاد دہانی تو نہیں کیا

یہ ریگ رواں یاد دہانی تو نہیں کیا صحرا کسی دریا کی نشانی تو نہیں کیا دیکھو مرا کردار کہیں پر بھی نہیں ہے دیکھو یہ کوئی اور کہانی تو نہیں کیا روشن ہے نیا عکس سر چشم تماشہ بیتے ہوئے منظر کی روانی تو نہیں کیا اس گھر کے در و بام بھی اپنے نہیں لگتے قسمت میں نئی نقل مکانی تو نہیں ...

مزید پڑھیے

عمر رفتہ میں ترے ہاتھ بھی کیا آیا ہوں

عمر رفتہ میں ترے ہاتھ بھی کیا آیا ہوں دن بتانے تھے مگر خود کو بتا آیا ہوں دھول بھی ایسے قرینے سے اڑائی ہے کہ میں ایک مرتے ہوئے رستے کو بچا آیا ہوں کل کو دے آؤں گا جا کر اسے بینائی بھی آنکھ دیوار پہ فی الحال بنا آیا ہوں وادئ صوت نہیں مجھ کو بھلانے والی نقش یوں کر کے وہاں اپنی صدا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4446 سے 4657