کس جھٹپٹے کے رنگ اجالوں میں آ گئے
کس جھٹپٹے کے رنگ اجالوں میں آ گئے ٹکڑے شفق کے دھوپ سے گالوں میں آ گئے افسردگی کی لے بھی ترے قہقہوں میں تھی پت جھڑ کے سر بہار کے جھالوں میں آ گئے اڑ کر کہاں کہاں سے پرندوں کے قافلے نادیدہ پانیوں کے خیالوں میں آ گئے حسن تمام تھے تو کوئی دیکھتا نہ تھا تم درد بن کے دیکھنے والوں میں ...