شاعری

ہوا وہ خوب رو یوں بے حجاب آہستہ آہستہ

ہوا وہ خوب رو یوں بے حجاب آہستہ آہستہ نظر دیکھے ہے جیسے کوئی خواب آہستہ آہستہ بنے جیسے کلی کوئی گلاب آہستہ آہستہ یوں کچھ اس شوخ پر آیا شباب آہستہ آہستہ بڑھا ہے درد دل اور اضطراب آہستہ آہستہ ہوئے عاشق گرفتار عذاب آہستہ آہستہ ہے کیسا سحر یہ مدہوش کر کے تشنہ لب رکھا پلائی اس نظر ...

مزید پڑھیے

یوں تو ان آنکھوں میں آتا ہے نظر دریا مجھے

یوں تو ان آنکھوں میں آتا ہے نظر دریا مجھے پھر بھی اس کا قرب رکھتا ہے بہت پیاسا مجھے زندگی بس یار کے غم پر نہیں ہے منحصر رات دن بے چین رکھتا ہے غم دنیا مجھے اب تو ان زخموں سے میری آشنائی ہو گئی چارہ گر بہتر یہی ہے اب نہ کر اچھا مجھے میں کہ جس کے واسطے برسوں رہا اک آب جو جاتے جاتے ...

مزید پڑھیے

دلوں پہ یوں بھی عجب اختیار دیکھا ہے

دلوں پہ یوں بھی عجب اختیار دیکھا ہے جو پر سکوں تھے انہیں بیقرار دیکھا ہے ہلا سکے نہ قدم جن کے بادہ و ساغر انہی پہ زلف و نظر کا خمار دیکھا ہے ہے امتزاج عجب رنگ و حسن کا اس میں کہ جس نے دیکھا اسے بار بار دیکھا ہے کھلا ہے راز پس مرگ ذات کا اپنی فضا میں اڑتا ہوا جب غبار دیکھا ہے جو آ ...

مزید پڑھیے

تصورات کے خاکوں میں تیرا انگ بھرے

تصورات کے خاکوں میں تیرا انگ بھرے کبھی مصور‌ ہستی کچھ ایسا رنگ بھرے چمک اٹھے مرے خواب و خیال کی دنیا یوں میری ذات میں جلووں کے جل ترنگ بھرے خیال سود و زیاں پھر نہ ہو محبت میں تری نگاہ کبھی دل میں وہ امنگ بھرے ٹھہر نہ جائے کہیں آج پھر سے نبض حیات پلا وہ جام کہ جو خواہشوں میں جنگ ...

مزید پڑھیے

تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میں

تھم گیا درد اجالا ہوا تنہائی میں برق چمکی ہے کہیں رات کی گہرائی میں باغ کا باغ لہو رنگ ہوا جاتا ہے وقت مصروف ہے کیسی چمن آرائی میں شہر ویران ہوئے بحر بیابان ہوئے خاک اڑتی ہے در و دشت کی پہنائی میں ایک لمحے میں بکھر جاتا ہے تانا بانا اور پھر عمر گزر جاتی ہے یکجائی میں اس تماشے ...

مزید پڑھیے

شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا

شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا ہم نے تو اپنے باغ کو صحرا بنا دیا اس اونچ نیچ پر تو ٹھہرتے نہیں تھے پاؤں کس دست شوق نے اسے دنیا بنا دیا کن مٹھیوں نے بیج بکھیرے زمین پر کن بارشوں نے اس کو تماشا بنا دیا سیراب کر دیا تری موج خرام نے رکھا جہاں قدم وہاں دریا بنا دیا اک رات چاندنی ...

مزید پڑھیے

منظر صبح دکھانے اسے لایا نہ گیا

منظر صبح دکھانے اسے لایا نہ گیا آتی جاتی رہیں شامیں کوئی آیا نہ گیا رات بستر پہ کھلے چاند میں سوتا تھا کوئی میں نے چاہا کہ جگاؤں تو جگایا نہ گیا ایک مدت اسے دیکھا اسے چاہا لیکن وہ کبھی پاس سے گزرا تو بلایا نہ گیا گھیرے رہتی تھی اسے ایک جہاں کی نظریں پھر جو دیکھا تو وہ اس آن میں ...

مزید پڑھیے

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا بس یہی نہ درد کچھ دل کا سوا ہو جائے گا وہ مرے دل کی پریشانی سے افسردہ ہو کیوں دل کا کیا ہے کل کو پھر اچھا بھلا ہو جائے گا گھر سے کچھ خوابوں سے ملنے کے لیے نکلے تھے ہم کیا خبر تھی زندگی سے سامنا ہو جائے گا رونے لگتا ہوں محبت میں تو کہتا ہے ...

مزید پڑھیے

اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھی

اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھی باہر خزاں کا زور تھا اندر اندھیری رات تھی ایسے پریشاں تو نہ تھے ٹوٹے ہوئے سناہٹے جب عشق کی تیرے مرے غم پر بسر اوقات تھی کچھ تم کہو تم نے کہاں کیسے گزارے روز و شب اپنے نہ ملنے کا سبب تو گردش حالات تھی اک خامشی تھی تر بہ تر دیوار مژگاں سے ...

مزید پڑھیے

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا یہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ہونا دیکھتا اور نہ ٹھہرتا تو کوئی بات بھی تھی جس نے دیکھا ہی نہیں اس سے خفا کیا ہونا تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح بس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا ہونا یوں میری یاد میں محفوظ ہیں تیرے خد و خال جس طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4429 سے 4657