کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئے
کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئے تمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے بہت اداس ہو تم اور میں بھی بیٹھا ہوں گئے دنوں کی کمر سے کمر لگائے ہوئے ابھی سپاہ ستم خیمہ زن ہے چار طرف ابھی پڑے رہو زنجیر در لگائے ہوئے کہاں کہاں نہ گئے عالم خیال میں ہم نظر کسی کے در و بام پر لگائے ...