شاعری

کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئے

کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئے تمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے بہت اداس ہو تم اور میں بھی بیٹھا ہوں گئے دنوں کی کمر سے کمر لگائے ہوئے ابھی سپاہ ستم خیمہ زن ہے چار طرف ابھی پڑے رہو زنجیر در لگائے ہوئے کہاں کہاں نہ گئے عالم خیال میں ہم نظر کسی کے در و بام پر لگائے ...

مزید پڑھیے

کہاں کی گونج دل ناتواں میں رہتی ہے

کہاں کی گونج دل ناتواں میں رہتی ہے کہ تھرتھری سی عجب جسم و جاں میں رہتی ہے قدم قدم پہ وہی چشم و لب وہی گیسو تمام عمر نظر امتحاں میں رہتی ہے مزہ تو یہ ہے کہ وہ خود تو ہے نئے گھر میں اور اس کی یاد پرانے مکاں میں رہتی ہے پتہ تو فصل گل و لالہ کا نہیں معلوم سنا ہے قرب و جوار خزاں میں ...

مزید پڑھیے

چھٹ گیا ابر شفق کھل گئی تارے نکلے

چھٹ گیا ابر شفق کھل گئی تارے نکلے بند کمروں سے ترے درد کے مارے نکلے شاخ پر پنکھڑیاں ہوں کہ پلک پر آنسو تیرے دامن کی جھلک دیکھ کے سارے نکلے تو اگر پاس نہیں ہے کہیں موجود تو ہے تیرے ہونے سے بڑے کام ہمارے نکلے تیرے ہونٹوں میری آنکھوں سے نہ بدلی دنیا پھر وہی پھول کھلے پھر وہی تارے ...

مزید پڑھیے

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو انہیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کو مکیں تھے یا کسی کھوئی ہوئی جنت کی تصویریں مکاں اس شہر کے بھولے ہوئے سپنے لگے ہم کو ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئے وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو بہت شفاف تھے جب تک کہ مصروف ...

مزید پڑھیے

کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا

کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا اک خواب محبت ہے کہ بوڑھا نہیں ہوتا وہ وقت بھی آتا ہے جب آنکھوں میں ہماری پھرتی ہیں وہ شکلیں جنہیں دیکھا نہیں ہوتا بارش وہ برستی ہے کہ بھر جاتے ہیں جل تھل دیکھو تو کہیں ابر کا ٹکڑا نہیں ہوتا گھر جاتا ہے دل درد کی ہر بند گلی میں چاہو کہ نکل ...

مزید پڑھیے

شام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیں

شام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیں وہ دوپہروں کی خموشی وہ ہماری باتیں آنکھیں کھولوں تو دکھائی نہیں دیتا کوئی بند کرتا ہوں تو ہو جاتی ہیں جاری باتیں کبھی اک حرف نکلتا نہیں منہ سے میرے کبھی اک سانس میں کر جاتا ہوں ساری باتیں جانے کس خاک میں پوشیدہ ہیں آنسو میرے کن فضاؤں میں ...

مزید پڑھیے

عجب نہیں کبھی نغمہ بنے فغاں میری

عجب نہیں کبھی نغمہ بنے فغاں میری مری بہار میں شامل ہے اب خزاں میری میں اپنے آپ کو اوروں میں رکھ کے دیکھتا ہوں کہیں فریب نہ ہوں درد مندیاں میری میں اپنی قوت اظہار کی تلاش میں ہوں وہ شوق ہے کہ سنبھلتی نہیں زباں میری یہی سبب ہے کہ احوال دل نہیں کہتا کہوں تو اور الجھتی ہیں گتھیاں ...

مزید پڑھیے

اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیئے جلائیے

اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیئے جلائیے عشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیے اس نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے میں نے کہا کہ چھوڑیئے اب انہیں بھول جائیے کیسے نفیس تھے مکاں صاف تھا کتنا آسماں میں نے کہا کہ وہ سماں آج کہاں سے لائیے کچھ تو سراغ مل سکے موسم درد ہجر کا سنگ جمال یار ...

مزید پڑھیے

عشق میں کون بتا سکتا ہے

عشق میں کون بتا سکتا ہے کس نے کس سے سچ بولا ہے ہم تم ساتھ ہیں اس لمحے میں دکھ سکھ تو اپنا اپنا ہے مجھ کو تو سارے ناموں میں تیرا نام اچھا لگتا ہے بھول گئی وہ شکل بھی آخر کب تک یاد کوئی رہتا ہے

مزید پڑھیے

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا دل مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیا میں بہت خوش تھا کڑی دھوپ کے سناٹے میں کیوں تری یاد کا بادل مرے سر پر آیا بجھ گئی رونق پروانہ تو محفل چمکی سو گئے اہل تمنا تو ستم گر آیا یار سب جمع ہوئے رات کی خاموشی میں کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا

مزید پڑھیے
صفحہ 4427 سے 4657