شاعری

شہر کو چھوڑ دو اور گاؤں کو جاؤ تم بھی

شہر کو چھوڑ دو اور گاؤں کو جاؤ تم بھی اس تعلق کے تکلف کو اٹھاؤ تم بھی آگ جنگل میں بھڑک جائے گی کل شام تلک آج بادل کو اداؤں سے لبھاؤ تم بھی دوسرے چہرے مجھے کم ہیں رفاقت کے لیے میری خاطر کوئی چہرہ تو سجاؤ تم بھی میں کہیں سبزۂ خود رو کی طرح اگ آؤں اور وہیں پھول کی صورت نکل آؤ تم ...

مزید پڑھیے

جلتی دوپہروں میں اک سایہ سا زیر غور ہے

جلتی دوپہروں میں اک سایہ سا زیر غور ہے بجھتی آنکھوں میں کوئی چہرہ سا زیر غور ہے اب کے میں زندہ رہوں یا پھر سے مر جاؤں سہیلؔ فیصلہ سب ہو چکا تھوڑا سا زیر غور ہے اتنی ویرانی میں روشن ہو تری تصویر کب اس سلگتے جسم میں شعلہ سا زیر غور ہے جسم کے آئینے میں شعلہ سا رکھا ہے سوال پاؤں کی ...

مزید پڑھیے

ہر ایک آن وہ ہم سے جدا سا کچھ تو ہے

ہر ایک آن وہ ہم سے جدا سا کچھ تو ہے ہماری ذات کے اندر خدا سا کچھ تو ہے وہ کیا ہے کچھ بھی نہیں اک ذرا سا کچھ تو ہے کبھی دعا تو کبھی بد دعا سا کچھ تو ہے لہو ہے برف ہے رقص شرر ہے کیا ہے یہ یہ جسم و جاں میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے سمجھ سکا نہ کوئی اب تلک کہ وہ کیا ہے وہ آئینہ نہ سہی آئینہ ...

مزید پڑھیے

جا چھپی ہے کہاں گپھاؤں میں

جا چھپی ہے کہاں گپھاؤں میں اے خوشی اب جھلک اداؤں میں زندگی بوجھ بنتی جاتی ہے کچھ تو ترمیم کر سزاؤں میں اک نظر تو پلٹ کے دیکھ ذرا میں بھی ہوں تیری آشناؤں میں شہر کا شہر یوں دوانہ نہیں بات کچھ تو ہے ان اداؤں میں دید سے ہی علاج ممکن ہے زہر ہی زہر ہے دواؤں میں زیست کی ہر تپش میں ...

مزید پڑھیے

شہد گل گیت ابر تارا ہے

شہد گل گیت ابر تارا ہے ماں محبت کا استعارہ ہے زندگی دائمی تلاطم ہے اور ماں ہر گھڑی کنارہ ہے تربیت انبیا بھی پاتے ہیں ماں کی آغوش وہ ادارہ ہے جتنے جذبات ہیں محبت کے سب پہ ماں بس ترا اجارہ ہے زندگی تیرگی سے پر ایمنؔ ماں چمکتا ہوا منارہ ہے

مزید پڑھیے

عشق جیون کا باب ہے ایمنؔ

عشق جیون کا باب ہے ایمنؔ عشق آنکھوں کا خواب ہے ایمنؔ خوب ہلچل مچاتا ہے دل میں عشق دریا چناب ہے ایمنؔ خواہشوں کے حسیں گلستاں میں عشق جلتا گلاب ہے ایمنؔ زندگی کے سوال ہیں جتنے عشق واحد جواب ہے ایمنؔ سنتا کب ہے کسی کی خود کے سوا عشق بگڑا نواب ہے ایمنؔ مجھ کو حاجت نہیں کتابوں ...

مزید پڑھیے

جو اشک دل پہ گرے وہ شمار کر نہ سکی

جو اشک دل پہ گرے وہ شمار کر نہ سکی میں اس کے جذبوں کو دل پہ سوار کر نہ سکی وہ کر رہا تھا بغاوت پہ مجھ کو آمادہ مگر قبیلے کی عزت پہ وار کر نہ سکی وہ سبز باغ دکھاتا تھا مجھ کو وعدوں کے یہ آنکھ اس پہ مگر انحصار کر نہ سکی بچھڑ کے تجھ سے مری خود سے جنگ جاری رہی میں دل کی دنیا کبھی سازگار ...

مزید پڑھیے

نظر ہتھیار کرنا چاہتے ہیں

نظر ہتھیار کرنا چاہتے ہیں ادا سے وار کرنا چاہتے ہیں نگاہیں چار کرنا چاہتے ہیں تمہیں ہم پیار کرنا چاہتے ہیں رہے ہیں صبر کی بستی میں زندہ تو اب اظہار کرنا چاہتے ہیں نگاہیں بند کر لی ہیں کہ جاناں ترا دیدار کرنا چاہتے ہیں بنا کر حوصلہ پتوار اب ہم سمندر پار کرنا چاہتے ...

مزید پڑھیے

گاؤں والے کہاں بدلتے ہیں

گاؤں والے کہاں بدلتے ہیں آؤ ہم ہی جہاں بدلتے ہیں ایک ہم سے گریز کی خاطر کتنے وہ آشیاں بدلتے ہیں وہ عقیدت کے رنگ کیا جانیں روز جو آستاں بدلتے ہیں عقل والوں نے ہار کر یہ کہا عشق والے کہاں بدلتے ہیں ہم کو اردو ہے جان سے پیاری ہم نہیں وہ جو جاں بدلتے ہیں کیوں نہیں آتی ہیں ...

مزید پڑھیے

نئے زمانوں کی چاپ تو سر پہ آ کھڑی تھی

نئے زمانوں کی چاپ تو سر پہ آ کھڑی تھی مری سماعت گزشتہ ادوار میں پڑی تھی ادھر دئیے کا بدن ہوا سے تھا پارہ پارہ ادھر اندھیرے کی آنکھ میں اک کرن گڑی تھی فلک پہ تھا آتشیں درختوں کا ایک جنگل اور ان درختوں کے بیچ تاریک جھونپڑی تھی سمائی کس طرح میری آنکھوں کی پتلیوں میں وہ ایک حیرت جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4355 سے 4657