جی رہے ہیں عافیت میں تو ہنر خوابوں کا ہے
جی رہے ہیں عافیت میں تو ہنر خوابوں کا ہے اب بھی لگتا ہے کہ یہ سارا سفر خوابوں کا ہے جی لگا رکھا ہے یوں تعبیر کے اوہام سے زندگی کیا ہے میاں بس ایک گھر خوابوں کا ہے رات چلتی رہتی ہے اور جلتا رہتا ہے چراغ ایک بجھتا ہے تو پھر نقش دگر خوابوں کا ہے رنگ بازار خرد کا اور یہ میرا جنوں اک ...