شاعری

کن فیکوں کا حاصل یعنی مٹی آگ ہوا اور پانی

کن فیکوں کا حاصل یعنی مٹی آگ ہوا اور پانی پل میں بقا کا پل میں فانی مٹی آگ ہوا اور پانی نگری نگری پھرتی ہیں یہ دیواریں بھی ساتھ ہی میرے کرتے ہیں میری نگرانی مٹی آگ ہوا اور پانی خاک بسر ہوں شعلہ بجاں ہوں آہ کناں ہوں اشک فشاں ہوں دیکھ تو اپنی کارستانی مٹی آگ ہوا اور پانی میرا کیا ...

مزید پڑھیے

دنیا سے ہر رشتہ توڑا خود سے رو گردانی کی

دنیا سے ہر رشتہ توڑا خود سے رو گردانی کی صرف تمہارا دھیان رکھا اور جینے میں آسانی کی مجنوں اور فرہاد ہوئے جب عشق میں سب برباد ہوئے تب جنگل نے کوچ کیا صحرا نے نقل مکانی کی اس کی موہنی صورت جیسے پھولوں کا آمیزہ ہے اور اس کی آواز ہے گویا رے گا ما پا دھانی کی بھولی بسری یاد نے جب ...

مزید پڑھیے

اشک بھیجیں موج ابھاریں ابر جاری کیجئے

اشک بھیجیں موج ابھاریں ابر جاری کیجئے مہرباں سیل بلا کی آبیاری کیجئے اے چراغ طاق جاناں اے ہوائے کوئے دوست اپنی کیفیت ذرا ہم پر بھی طاری کیجئے شام ہجراں میں ستاروں کو نہ ٹھہرائیں شریک آئینہ خانے میں آ کر خود شماری کیجئے اشک باری سینہ چاکی دل خراشی ہو چکی لیجے صاحب عشق کا ...

مزید پڑھیے

انعکاس تشنگی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے

انعکاس تشنگی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے تر بتر یہ روشنی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے آگ پر میرا تصرف آب پر میری گرفت میری مٹھی میں ابھی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے جھیل میں ٹھہرا ہوا ہے اس کا عکس آتشیں آئنے میں اس گھڑی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے جل اٹھیں یادوں کی قندیلیں صدائیں ڈوب ...

مزید پڑھیے

خوش نہیں آئے بیاباں مری ویرانی کو

خوش نہیں آئے بیاباں مری ویرانی کو گھر بڑا چاہیئے اس بے سر و سامانی کو ڈھال دوں چشمۂ پر حرف کو آئینے میں اپنی آواز میں رکھ دوں تری حیرانی کو جادۂ نور کو ٹھوکر پہ سجاتا ہوا میں دیکھتا رہتا ہوں رنگوں کی پر افشانی کو سر صحرا مری آنکھوں کا تلاطم جاگا موجۂ ریگ نے سرشار کیا پانی ...

مزید پڑھیے

پھیل رہا ہے یہ جو خالی ہونے کا ڈر مجھ میں

پھیل رہا ہے یہ جو خالی ہونے کا ڈر مجھ میں آخر کار سمٹ آئے گا میرا باہر مجھ میں رو دوں گا تو اشک نہیں آنکھوں سے ریت بہے گی خون کہاں کچھ سوکھے دریا ہیں صحرا بھر مجھ میں پہروں جلتا رہتا ہوں میں جیسے کوئی سورج ایک کرن جب رک جاتی ہے تجھ سے چھن کر مجھ میں تو موجود ہے میں معدوم ہوں اس کا ...

مزید پڑھیے

آئینہ بن کے اپنا تماشا دکھائیں ہم

آئینہ بن کے اپنا تماشا دکھائیں ہم یوں سامنے رہیں کہ نظر بھی نہ آئیں ہم ممکن ہے دور جشن چراغاں ہو جب یہاں وہ تیرگی بڑھے کہ صحیفے جلائیں ہم درپیش ہے گزشتہ رتوں کا سفر ہمیں حیرت نہ کر کہ لوٹ کے واپس نہ آئیں ہم توفیق سیر باغ اگر ہو تو اب کی شام دل کی جگہ شجر پہ پرندے بنائیں ...

مزید پڑھیے

گمان کے لیے نہیں یقین کے لیے نہیں

گمان کے لیے نہیں یقین کے لیے نہیں عجیب رزق خواب ہے زمین کے لیے نہیں خیال جو قدم کشا ہے تیرے لا شعور میں غزال ہے مگر سبکتگین کے لیے نہیں ہوائیں گوش بر صدا ہیں کس کے باب میں خموش نہیں دیے کی آیۂ مبین کے لیے نہیں اسے چھپاؤ کشتگاں کے دل میں راز کی طرح یہ تیغ آب دار آستین کے لیے ...

مزید پڑھیے

غبار وقت کے گر آر پار دیکھئے گا

غبار وقت کے گر آر پار دیکھئے گا تو ایک پل میں مرا شہسوار دیکھئے گا میں ایک بار اسے پھیروں گا اپنی گردن پر اور آپ بس مرے خنجر کی دھار دیکھئے گا کسی کا نقش نہیں باندھئے گا آنکھوں میں جسے بھی دیکھیے آئینہ وار دیکھئے گا کبھی نہ لوٹ کے آئیں گے آپ جانتا ہوں پر آئیے تو مرا انتظار ...

مزید پڑھیے

راز درون آستیں کشمکش بیاں میں تھا

راز درون آستیں کشمکش بیاں میں تھا آگ ابھی نفس میں تھی شعلہ ابھی زباں میں تھا وہ جو کہیں تھا وہ بھی میں اور جو نہیں تھا وہ بھی میں آپ ہی تھا زمین پر آپ ہی آسماں میں تھا لمس صدائے ساز نے زخم نہال کر دیے یہ تو وہی ہنر ہے جو دست طبیب جاں میں تھا خواب زیاں ہیں عمر کا خواب ہیں حاصل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4356 سے 4657