شاعری

دیا ہوں میں لیکن ہوا چاہتا ہوں

دیا ہوں میں لیکن ہوا چاہتا ہوں کہ اک بے وفا سے وفا چاہتا ہوں جو تیری نگاہوں کے جیسا نشہ دے میں ایسا کوئی میکدہ چاہتا ہوں تمہاری محبت کے صدقے میں جانا میں دل کے مرض کی دوا چاہتا ہوں وہ جس کے سبب زندگی زندگی ہو میں ایسا کوئی رہنما چاہتا ہوں شہید محبت کا عنوان لے کر رہ عشق میں ...

مزید پڑھیے

چار دن کی بہار ہے دنیا

چار دن کی بہار ہے دنیا موت کا انتظار ہے دنیا تو کہاں میری بات سمجھے گا تیرے سر پر سوار ہے دنیا زندگی جس پہ چلتی رہتی ہے ایسے خنجر کی دھار ہے دنیا جیت ہوگی تمہاری نظروں میں میری نظروں میں ہار ہے دنیا میکدے جا کے دیکھیے صاحب کس قدر دین دار ہے دنیا یہ تجھے کیا قرار بخشے گی جب کہ ...

مزید پڑھیے

یار تجھ سے جدا نہیں ہوتا

یار تجھ سے جدا نہیں ہوتا تو اگر بے وفا نہیں ہوتا چشم ساقی اگر نہیں ہوتے زندگی میں مزہ نہیں ہوتا اب تو سن لو ہماری فریادیں کام تمرے بنا نہیں ہوتا میں نے دیکھا ہے آپ کا چہرہ کیسے کہہ دوں خدا نہیں ہوتا حسن ان کا تو نور جیسا ہے ہر کسی کو عطا نہیں ہوتا گر تمہاری انا نہیں ...

مزید پڑھیے

آج جو کچھ بھی میری عزت ہے

آج جو کچھ بھی میری عزت ہے بس میرے یار کی بدولت ہے عشق کر عشق اے دل ناداں عشق سب سے بڑی عبادت ہے لیجئے آج کہہ ہی دیتے ہیں ہاں ہمیں آپ سے محبت ہے جتنا جی چاہے کھیلئے دل سے آپ کو ہر طرح اجازت ہے چاہتا ہوں کی دیکھتا ہی رہوں وہ جو ایک چاند جیسی صورت ہے اس زمانہ میں پیار کا مطلب صرف ...

مزید پڑھیے

تو ہمارے در سے جب بھی در بدر ہو جائے گی

تو ہمارے در سے جب بھی در بدر ہو جائے گی ساری دنیا کو ترے غم کی خبر ہو جائے گی انٹری جب بھی مری ہوگی تمہاری فلم میں بے اثر جو ہے کہانی با اثر ہو جائے گی جس کی خاطر گھر بنانے میں لگے ہو رات دن ایک دن یہ زندگی بھی در بدر ہو جائے گی آج تم سے مل رہا ہوں مدتوں کے بعد میں دیکھنا یہ رات ...

مزید پڑھیے

زمانہ ساتھ گزارا اکیلیاں نہ کھلیں

زمانہ ساتھ گزارا اکیلیاں نہ کھلیں اداس ہونے سے پہلے سہیلیاں نہ کھلیں غموں کی دھوپ میں پھر بے نمک ہوئے چہرے نگاہ بجھ گئی رنگوں کی تھیلیاں نہ کھلیں لپٹ کے روئے امر بیل سے در و دیوار پلٹ کے آئے مسافر حویلیاں نہ کھلیں کتاب زیست کے سارے سوال بے معنی جواب الجھنے لگے اور پہیلیاں نہ ...

مزید پڑھیے

غبار وقت میں بے رنگ و بو پڑا ہوا میں

غبار وقت میں بے رنگ و بو پڑا ہوا میں کھڑا ہوں عرصۂ آفاق میں تھکا ہوا میں تری نگاہ نگارش طلب کو کیا معلوم کہ حرف و صوت سے گزرا تو کیا سے کیا ہوا میں نجوم بجھتے ہوئے کہہ رہے ہیں صبح بخیر مگر وہ پلکیں اور ان میں کہیں جڑا ہوا میں یہ دیکھنے کو کہ فطرت کہاں بدلتی ہے وہ روٹھنے ہی لگا ...

مزید پڑھیے

لہر ٹوٹی ہے کہ آئنۂ مہتاب میں ہم

لہر ٹوٹی ہے کہ آئنۂ مہتاب میں ہم چاند چمکا تو پڑے رہ گئے تالاب میں ہم قوس کے رنگ چرا لائیں گے اور آئیں گے پیرہن بننے کو فرصت سے ترے خواب میں ہم کوئی بے نام ہوا فصل بدن کیوں کاٹے لہلہاتے نہیں ہر خطۂ شاداب میں ہم ساحلوں پر کھڑے لوگوں کی نظر سے دیکھو ایک کشتی میں ہیں اور ایک ہی ...

مزید پڑھیے

ہوائیں چپ تھیں لہکتی جہت پہ کوئی نہ تھا

ہوائیں چپ تھیں لہکتی جہت پہ کوئی نہ تھا پتنگ لوٹ کے آیا تو چھت پہ کوئی نہ تھا بڑے دنوں میں پرندوں سے گفتگو سیکھی پھر انحصار ہمارا لغت پہ کوئی نہ تھا پڑی وہ دھوپ کہ شہزادیاں ٹھہر نہ سکیں وہی تھیں ریشمی سانسیں بنت پہ کوئی نہ تھا وہی رہی سہی باتیں وہی رہے سہے غم تمام شہر میں اپنی ...

مزید پڑھیے

عمر بھر ایک ہی کردار سے ڈر لگتا ہے

عمر بھر ایک ہی کردار سے ڈر لگتا ہے آدمی ہوں مجھے تکرار سے ڈر لگتا ہے آنکھ تھک جاتی ہے چہروں کا تعاقب کرتے تیز چلتا ہوں تو رفتار سے ڈر لگتا ہے چوکھٹے بیچنے والے تری کن رس آواز کھینچ بھی لائے تو بازار سے ڈر لگتا ہے پھر کوئی زخم کہ کچھ دن ہمیں پر کار رکھے عشق کو فرصت بیکار سے ڈر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 434 سے 4657