شاعری

آج اتنا جلاؤ کہ پگھل جائے مرا جسم

آج اتنا جلاؤ کہ پگھل جائے مرا جسم شاید اسی صورت ہی سکوں پائے مرا جسم آغوش میں لے کر مجھے اس زور سے بھینچو! شیشے کی طرح چھن سے چٹخ جائے مرا جسم یا دعویٔ مہتاب تجلی نہ کرے وہ یا نور کی کرنوں سے وہ نہلائے مرا جسم کس شہر طلسمات میں لے آیا تخیل جس سمت نظر جائے نظر آئے مرا جسم آئینے ...

مزید پڑھیے

غموں کی دھوپ میں برگد کی چھاؤں جیسی ہے

غموں کی دھوپ میں برگد کی چھاؤں جیسی ہے مرے لیے مری ہمشیر ماؤں جیسی ہے بھٹکتا ہوں تو مجھے راستہ دکھاتی ہے وہ ہم سفر ہے مگر رہنماؤں جیسی ہے ہو جیسے ایک ہی کنبے کی ساری آبادی فضا ہمارے محلے کی گاؤں جیسی ہے نئے بشر نے مسخر کئے مہ و انجم نئے دماغ میں وسعت خلاؤں جیسی ہے حقیقتوں کے ...

مزید پڑھیے

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے دل پہروں مرا کرب کے دوزخ میں جلا ہے عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے ہر اہل ہوس جیب میں بھر لایا ہے پتھر ہمسائے کی بیری پہ ابھی بور پڑا ہے اب تک مرے اعصاب پہ محنت ہے مسلط اب تک مرے کانوں میں مشینوں کی صدا ...

مزید پڑھیے

چھت کی کڑیاں جانچ لے دیوار و در کو دیکھ لے

چھت کی کڑیاں جانچ لے دیوار و در کو دیکھ لے مجھ کو اپنانے سے پہلے میرے گھر کو دیکھ لے چند لمحوں کا نہیں یہ عمر بھر کا ہے سفر راہ کی پڑتال کر لے راہبر کو دیکھ لے اپنی چادر کی طوالت دیکھ کر پاؤں پسار بوجھ سر پر لادنے سے قبل سر کو دیکھ لے ایک حرکت سے بدل جاتا ہے لفظوں کا مزاج اپنی ہر ...

مزید پڑھیے

کسی کو عشق میں دھوکا دکھائی دیتا ہے

کسی کو عشق میں دھوکا دکھائی دیتا ہے ہمیں تو یار کا چہرہ دکھائی دیتا ہے مجھے کیا ہو گیا کیوں ہو گیا دیوانہ میں کہ ہر طرف ترا سایہ دکھائی دیتا ہے تمہیں بتائے گا اک درد کی کہانی کوئی جو میرے ہاتھ میں پرچہ دکھائی دیتا ہے مجھے تو دولت و شہرت کی کوئی آس نہیں یہ تیرے عشق میں ادنیٰ ...

مزید پڑھیے

طواف حسن کروں اور سر جھکاؤں میں

طواف حسن کروں اور سر جھکاؤں میں وہ چاہتا ہے کہ کعبے کو بھی نا جاؤں میں میرا جنون محبت مجھے یہ کہتا ہے پڑا رہوں تیرے کوچے میں گھر نا جاؤں میں وہ ایک شخص جو بالیں پہ میری بیٹھے تو کفن اتار دوں چہرے سے مسکراؤں میں یہ جان کر بھی کہ وعدہ خلاف تو ہی ہے تیری وفا کو نہیں خود کو آزماؤں ...

مزید پڑھیے

عشق کہ دنیا کا یہ دستور ہونا چاہئے

عشق کہ دنیا کا یہ دستور ہونا چاہئے قربتوں میں فاصلہ منظور ہونا چاہئے سرو قد سیمیں بدن آنکھیں نشیلی سرخ ہونٹ آپ کو تھوڑا بہت مغرور ہونا چاہئے خود بہ خود آ جائے گا تجھ کو سلیقہ پیار کا سامنے تیرے کوئی مغرور ہونا چاہئے گر تجھے محسوس کرنا ہے محبت کا مزہ پیار جو کرتا ہے تجھ سے دور ...

مزید پڑھیے

خاک دل پر غم کا بادل جب تلک برسا نہ تھا

خاک دل پر غم کا بادل جب تلک برسا نہ تھا اپنے اندر کا چمن کچھ اس طرح مہکا نہ تھا چلچلاتی دھوپ میں بن ماں کے بچے کے لیے جا بجا پیڑوں کے جھرمٹ میں کہیں سایہ نہ تھا غم کے موسم میں سفر لگتا تھا صدیوں پر محیط رت بدلنے پر لگا ایسا بہت عرصہ نہ تھا آج آنکھیں فرش رہ ان کے لیے کرنا پڑیں ہم ...

مزید پڑھیے

جو گزرے دل پہ چہرے پر اسے تحریر کرنا کیا

جو گزرے دل پہ چہرے پر اسے تحریر کرنا کیا کہ غم کا بھی ہے اک موسم اسے زنجیر کرنا کیا ہمارے واسطے کافی تھا اک غنچے کا کھل جانا ہمیں پھولوں بھرے باغوں کی اب جاگیر کرنا کیا بہت کچھ کہہ دیا ہے چشم و ابرو کے اشاروں نے اب اپنے ان کہے جذبات کی تحقیر کرنا کیا سمے کی بارشوں سے دھل گئیں ...

مزید پڑھیے

وہ جدھر سے گزر کے جاتے ہیں

وہ جدھر سے گزر کے جاتے ہیں بن کے خوشبو بکھر کے جاتے ہیں چاند بھی سر پٹکنے لگتا ہے جب وہ سج کے سنور کے جاتے ہیں میں نشے میں بہکنے لگتا ہوں پیالے آنکھوں سے بھر کے جاتے ہیں ماں کے پیروں میں دیکھ لی جنت لوگ جنت میں مر کے جاتے ہیں ان سے پوچھو کبھی نیازیؔ میاں کیوں وہ دیوانہ کرکے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 433 سے 4657