شاعری

ہمارا دن کبھی یوں بھی شفق انجام ہو جائے

ہمارا دن کبھی یوں بھی شفق انجام ہو جائے پرندے جھیل پر قبضہ کریں اور شام ہو جائے کسی کا ذکر چھیڑوں استعاروں میں کنایوں میں کوئی سمجھے تو شاید دو گھڑی کہرام ہو جائے تعجب ہے اگر ہر نقش موضوع سخن ٹھہرے تعجب ہے اگر بے چہرگی الزام ہو جائے ہمارے بعد ممکن ہے سخن تکمیل تک پہنچے ہمارے ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھتی ہیں اجنبی پرچھائیاں

ڈھونڈھتی ہیں اجنبی پرچھائیاں کھڑکیوں سے جھانکتی تنہائیاں چن رہی ہے کنج بستر سے نظر عطر میں لپٹی ہوئی انگڑائیاں اک طرف سارا ادب اور اک طرف دیومالائی سی کچھ رسوائیاں دشت جاں میں اس قدر مٹی اڑی بھر گئیں آنکھوں کی گہری کھائیاں رات نکلا تھا سڑک پر گھومنے ننگی بھوکی تھیں کئی ...

مزید پڑھیے

کھینچ لائے گی کوئی مصرعۂ تر آخر کار

کھینچ لائے گی کوئی مصرعۂ تر آخر کار زلف زنجیر سے نازک ہے مگر آخر کار ہر دوراہے پہ کوئی یار بچھڑ جانا ہے کون ادا کرتا ہے تاوان سفر آخر کار کون خورشید کو پلٹائے کہ جنگل سے ادھر مورنی جھاڑ گئی جھیل میں پر آخر کار اڑ کے دیوار شفق سے یہ پرند مہتاب جانے کیا جھانکنے آیا مرے گھر آخر ...

مزید پڑھیے

خنک ہوا میں بڑی شعلہ خیز خوشبو ہے

خنک ہوا میں بڑی شعلہ خیز خوشبو ہے خیال یار چنبیلی کی تیز خوشبو ہے ہوا کے ہاتھ نہ لگ جائے موسموں سے کہو کہ ایک پھول کا سارا جہیز خوشبو ہے چرا گئے ہیں تری انگلیوں کا لوچ حروف عجیب خط ہے عجب عطر بیز خوشبو ہے پرانی یادوں سے صندوقچہ بھرا ہوا ہے سو خوب علم ہے کیوں زیر میز خوشبو ...

مزید پڑھیے

نہال عمر سے بے وقت جھڑنے والوں کو

نہال عمر سے بے وقت جھڑنے والوں کو صبا وداع نہ کرنا بچھڑنے والوں کو اداسیاں بھی مقدس اگر تصرف ہو فراق اذن ہنر ہے اجڑنے والوں کو کہاں اتار گیا سیل رنگ کیا معلوم نئی رتوں میں جڑوں سے اکھڑنے والوں کو گھروں کی یاد دلاتی ہے کسمساتی ہوا دیار غیر میں اجرت پہ لڑنے والوں کو دعا کرو کہ ...

مزید پڑھیے

زمیں کھنکتی رہی اور گھٹا نے کچھ نہ کہا

زمیں کھنکتی رہی اور گھٹا نے کچھ نہ کہا گلی تک آ کے بھی کالی بلا نے کچھ نہ کہا کہاں کہاں پہ درختوں کی چادریں اتریں لگی وہ چپ کہ برہنہ ہوا نے کچھ نہ کہا تمام شب پڑی جذبوں پہ اتنی اوس کہ بس تمام شب خلش دیر پا نے کچھ نہ کہا کہاں بجھے وہ دریچوں سے جھانکتے چہرے پلٹ کے آئی تو باد صبا نے ...

مزید پڑھیے

فصل نے ہے سخت جوبن پر نظر کے سامنے

فصل نے ہے سخت جوبن پر نظر کے سامنے پھر صلیب اگنے لگی دیوار و در کے سامنے دیر تک میں نے نہیں دیکھی پرندوں کی اڑان دیر تک بیٹھا تھا کوئی میرے گھر کے سامنے وقت مرہم ہے مگر مرہم کا بھی اک وقت ہے رو پڑا ہوں اک پرانے ہم سفر کے سامنے باری باری اپنی مٹی گوندھ کر سب چل پڑے دھول اڑتی جا ...

مزید پڑھیے

چرا رہا ہے خزانے نہ آج کل سے مرے

چرا رہا ہے خزانے نہ آج کل سے مرے یہ دزد عمر تعاقب میں ہے ازل سے مرے یہ کج ادا مجھے اچھے دنوں سے جانتی ہے بڑے مراسم دیرینہ ہیں غزل سے مرے دکھا دکھا کے نئے منظروں کا خالی پن درخت ہاتھ ملاتے ہیں دست شل سے مرے وہ آنکھ سو گئی وہ چاندنی بھی روٹھ گئی مکالمے نہ مکمل ہوئے کنول سے ...

مزید پڑھیے

الہام صوت پا کے اذانوں تک آ گیا

الہام صوت پا کے اذانوں تک آ گیا جتنا بھی دل کا شور تھا کانوں تک آ گیا اس پار جس قدر بھی غبار وجود تھا پہلی نظر میں آئنہ خانوں تک آ گیا ہر دستیاب زخم رہین ہنر کیا پھر میں کتاب بن کے دکانوں تک آ گیا مانا کہ میرے ہاتھ پہ دستک ادھار تھی لیکن یہ کیا کہ خالی مکانوں تک آ گیا کم قامتی کا ...

مزید پڑھیے

ٹھہرا کے ایک ادھوری ملاقات دیر تک

ٹھہرا کے ایک ادھوری ملاقات دیر تک دو سائے سر بہ زانو تھے کل رات دیر تک نکلا نہ سانس بھر کسی گل دائرے سے پاؤں تھی محو بازگشت کوئی بات دیر تک میں رسم الوداع میں بھی کم سخن رہا لہرائے بار بار مرے ہاتھ دیر تک اور شرط گفتگو کو طرح دے کے ایک بار وہ بھی سلگ اٹھا تھا مرے ساتھ دیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 435 سے 4657