شاعری

جب بھی گلزار سے لہو نکلا

جب بھی گلزار سے لہو نکلا اس کی تکرار سے لہو نکلا دیکھتے ہی مرے جنازے کو چشم اغیار سے لہو نکلا جب لگا مجھ پہ عشق کا بہتان میرے کردار سے لہو نکلا مدتوں بعد ڈایری کھولی سبھی اشعار سے لہو نکلا بوڑھا ہوتے ہی اڑ گئے پنچھی اور اشجار سے لہو نکلا مرنے پر اس شریر لڑکی کے یار اخبار سے ...

مزید پڑھیے

روٹھ کر اس نے جتایا بھی نہیں

روٹھ کر اس نے جتایا بھی نہیں کیوں ہے وہ برہم بتایا بھی نہیں چل دیا وہ بزم ماتم چھوڑ کر حال دل اپنا سنایا بھی نہیں کیوں خزاں نے گھیر رکھی ہے بہار پنچھی کوئی چہچہایا بھی نہیں ان سے ملتے ہی میں پتھر ہو گیا ہاتھ پکڑا اور دبایا بھی نہیں اک عجب دوراہے پر آ پہنچا ہوں وہ نہیں اپنا ...

مزید پڑھیے

ہوا ہے تیری محبت کا حوصلہ ساقی

ہوا ہے تیری محبت کا حوصلہ ساقی مگر گراں ہے قناعت کا مرحلہ ساقی نظر نظر میں جگہ ڈھونڈھتا رہا میکش کوئی تو جانتا رندی کا مرتبہ ساقی بلا کشان در مے کدہ کہاں جائیں قدم قدم ہے قیامت کا فاصلہ ساقی مری حیات کا سب کچھ فضائے مے خانہ سبو و جام ترا ایک مشغلہ ساقی یہ دشت‌ تشنہ لبی ہے ...

مزید پڑھیے

دار پہ چڑھ کے جو تجدید وفا ہوتی ہے

دار پہ چڑھ کے جو تجدید وفا ہوتی ہے اس شہادت پہ تو سو جان فدا ہوتی ہے جن کو دعوئے خرد ہو ذرا آ کر دیکھیں عشق کی راہ بہت ہوش ربا ہوتی ہے درد میں ڈوبی نگاہوں کی زباں ہے گویا اور باتوں سے گو یہ بات جدا ہوتی ہے حسن جب سوز محبت سے جلا پاتا ہے کیا تجلی پس فانوس وفا ہوتی ہے ان حسیں ...

مزید پڑھیے

کبھی تو خواب میں آؤ کہ رات بھاری ہے

کبھی تو خواب میں آؤ کہ رات بھاری ہے بجھے چراغ جلاؤ کہ رات بھاری ہے میری امید کی دنیا ہے سونی سونی سی ذرا سی آس بندھاؤ کہ رات بھاری ہے مرا وجود اداسی کی ایک پرچھائی مری حیات پہ چھاؤ کہ رات بھاری ہے نفس نفس میں تمنا کہ ہچکیوں کی کسک رخ جمیل دکھاؤ کہ رات بھاری ہے یہ نیند ہے ذرا ...

مزید پڑھیے

داروئے ہوش ربا نرگس بیمار تو ہو

داروئے ہوش ربا نرگس بیمار تو ہو اب عناں گیر خرد گیسوئے خم دار تو ہو حسن کا ناز تجلی ہے نیاز آمادہ عشق آداب تمنا کے سزاوار تو ہو جرأت شوق سے پندار کرم جھک کے ملے حوصلہ مند کوئی ایسا گنہ گار تو ہو لالہ کاری سے رگ جاں کے گلستاں لہکے ہر نفس ایک لچکتی ہوئی تلوار تو ہو دل سے وہ جلوہ ...

مزید پڑھیے

تم کو دیکھا ہے ابھی تک یہ گماں ہوتا ہے

تم کو دیکھا ہے ابھی تک یہ گماں ہوتا ہے نقش جو دل میں ہے آنکھوں سے نہاں ہوتا ہے شوق کا عالم اعجاز عیاں ہوتا ہے کھنچ کے آتا ہے یہاں حسن جہاں ہوتا ہے قصۂ درد خموشی سے عیاں ہوتا ہے طور اظہار نظر طرز بیاں ہوتا ہے رات خاموش ہے ایسے میں ستارو سن لو دل مضطر مرا مائل بہ فغاں ہوتا ہے میری ...

مزید پڑھیے

یاد آئی ہے تری سخت مقام آیا ہے

یاد آئی ہے تری سخت مقام آیا ہے دل کے صحرا میں یہ وقت سر شام آیا ہے اک نئے رنگ میں آج ان کا پیام آیا ہے آرزؤں کے لئے نام بنام آیا ہے جاں بہ لب شوق کے سجدے بھی تڑپ اٹھے ہیں ان کے انداز تغافل کو سلام آیا ہے میرے غم خانہ کے اندوہ خموشی کا حریف کیسی بیگانہ مزاجی کا کلام آیا ہے ہل رہی ...

مزید پڑھیے

ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون

ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون اتر رہا ہے شمارؔ آج میرے دھیان سے کون ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون لہو میں آگ لگا کر یہ کون ہنستا ہے یہ انتقام سا لیتا ہے روح و جان سے کون یہ دار چوم کے مسکا رہا ہے کون ادھر گزر رہا ہے تمہارے یہ امتحان سے ...

مزید پڑھیے

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4250 سے 4657