شاعری

ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر

ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر منتظر جانے کس کی رہی رات بھر ہم جلاتے رہے اپنے دل کے دیے تیرگی قتل ہوتی رہی رات بھر میری آنکھوں کو کر کے عطا رت جگے میری تنہائی سوتی رہی رات بھر ایک خوشبو درازوں سے چھنتی ہوئی دستکیں جیسے دیتی رہی رات بھر دل کے اندر کوئی جیسے چلتا رہا چاپ قدموں کی ...

مزید پڑھیے

خوشی نے مجھ کو ٹھکرایا ہے درد و غم نے پالا ہے

خوشی نے مجھ کو ٹھکرایا ہے درد و غم نے پالا ہے گلوں نے بے رخی کی ہے تو کانٹوں نے سنبھالا ہے محبت میں خیال ساحل و منزل ہے نادانی جو ان راہوں میں لٹ جائے وہی تقدیر والا ہے جہاں بھر کو متاع لالہ و گل بخشنے والو ہمارے دل کا کانٹا بھی کبھی تم نے نکالا ہے کناروں سے مجھے اے ناخداؤ دور ہی ...

مزید پڑھیے

اب چھلکتے ہوئے ساغر نہیں دیکھے جاتے

اب چھلکتے ہوئے ساغر نہیں دیکھے جاتے توبہ کے بعد یہ منظر نہیں دیکھے جاتے مست کر کے مجھے اوروں کو لگا منہ ساقی یہ کرم ہوش میں رہ کر نہیں دیکھے جاتے ساتھ ہر ایک کو اس راہ میں چلنا ہوگا عشق میں رہزن و رہبر نہیں دیکھے جاتے ہم نے دیکھا ہے زمانے کا بدلنا لیکن ان کے بدلے ہوئے تیور نہیں ...

مزید پڑھیے

آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے

آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے غم کی توقیر ذرا اور بڑھا دی جائے کیا اسی واسطے سینچا تھا لہو سے اپنے جب سنور جائے چمن آگ لگا دی جائے عقل کا حکم کہ ساحل سے لگا دو کشتی دل کا اصرار کہ طوفاں سے لڑا دی جائے دور تک دل میں دکھائی نہیں دیتا کوئی ایسے ویرانے میں اب کس کو صدا دی ...

مزید پڑھیے

کاٹی ہے غم کی رات بڑے احترام سے

کاٹی ہے غم کی رات بڑے احترام سے اکثر بجھا دیا ہے چراغوں کو شام سے روشن ہے اپنی بزم اور اس اہتمام سے کچھ دل بھی جل رہا ہے چراغوں کے نام سے مدت ہوئی ہے خون تمنا کئے مگر اب تک ٹپک رہا ہے لہو دل کے جام سے صبح بہار ہم کو بلاتی رہی مگر ہم کھیلتے رہے کسی زلفوں کی شام سے ہر سانس پر ہے موت ...

مزید پڑھیے

غم سے منسوب کروں درد کا رشتہ دے دوں

غم سے منسوب کروں درد کا رشتہ دے دوں زندگی آ تجھے جینے کا سلیقہ دے دوں بے چراغی یہ تری شام غریباں کب تک چل تجھے جلتے مکانوں کا اجالا دے دوں زندگی اب تو یہی شکل ہے سمجھوتے کی دور ہٹ جاؤں تری راہ سے رستا دے دوں تشنگی تجھ کو بجھانا مجھے منظور نہیں ورنہ قطرہ کی ہے کیا بات میں دریا دے ...

مزید پڑھیے

اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا

اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا مل جائے کوئی شخص تو سارا نہیں ملتا اس کی بھی نکل آتی ہے اظہار کی صورت جس شخص کو لفظوں کا سہارا نہیں ملتا پھر ڈوبنا یہ بات بہت سوچ لو پہلے ہر لاش کو دریا کا کنارا نہیں ملتا یہ سوچ کے دل پھر سے ہے آمادۂ الفت ہر بار محبت میں خسارہ نہیں ...

مزید پڑھیے

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں جھگڑے سارے انا کے ہوتے ہیں بات نیت کی صرف ہے ورنہ وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں بھول جاتے ہیں مت برا کہنا لوگ پتلے خطا کے ہوتے ہیں وہ بظاہر جو کچھ نہیں لگتے ان سے رشتے بلا کے ہوتے ہیں وہ ہمارا ہے اس طرح شاید جیسے بندے خدا کے ہوتے ہیں بخش دینا بھی ٹھیک ہے ...

مزید پڑھیے

بنتے کھیل بگڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے

بنتے کھیل بگڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے سارے لوگ بچھڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے سپنوں سے مت جی بہلاؤ دیکھو لوگو سپنے پیچھے پڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے ضبط کرو تو بہتر ہے دیوانو ورنہ آنسو زور پکڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے جتنا ہوتا ہے اخترؔ کوئی کسی کے پاس اتنے فاصلے بڑھ جاتے ہیں دھیرے دھیرے

مزید پڑھیے

لفظ لکھنا ہے تو پھر کاغذ کی نیت سے نہ ڈر

لفظ لکھنا ہے تو پھر کاغذ کی نیت سے نہ ڈر اس قدر اظہار کی بے معنویت سے نہ ڈر دیکھ! گلشن میں ابھی شاخ تحیر بانجھ ہے پھول ہونا ہے تو کھلنے کی اذیت سے نہ ڈر ہم رہ موسم سفر کی بستیوں کے درمیاں نقش بر دیوار بارش کی وصیت سے نہ ڈر ایک ہلکی سی صدا تو بن زباں رکھتا ہے تو چار جانب خامشی کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4249 سے 4657