ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر
ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر منتظر جانے کس کی رہی رات بھر ہم جلاتے رہے اپنے دل کے دیے تیرگی قتل ہوتی رہی رات بھر میری آنکھوں کو کر کے عطا رت جگے میری تنہائی سوتی رہی رات بھر ایک خوشبو درازوں سے چھنتی ہوئی دستکیں جیسے دیتی رہی رات بھر دل کے اندر کوئی جیسے چلتا رہا چاپ قدموں کی ...