شاعری

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے

حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے یہ دل ملول تھا آزار سے نکلتے ہوئے بڑی ہی دیر تلک دھوپ مجھ کو چھو نہ سکی تمہارے سایۂ دیوار سے نکلتے ہوئے کہ پھر سے تخت کو آنا تھا میرے قدموں میں میں پر یقین تھا دربار سے نکلتے ہوئے شعاع نور کے پھوٹے سے جاں لرزتی تھی تمہاری گرمئ رخسار سے نکلتے ...

مزید پڑھیے

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا

ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا اور اس کے بعد فقط آندھیوں کو آنا تھا میں گھر کو پھونک رہا تھا بڑے یقین کے ساتھ کہ تیری راہ میں پہلا قدم اٹھانا تھا وگرنہ کون اٹھاتا یہ جسم و جاں کے عذاب یہ زندگی تو محبت کا اک بہانہ تھا یہ کون شخص مجھے کرچیوں میں بانٹ گیا یہ آئنہ تو مرا آخری ...

مزید پڑھیے

اس کی چاہ میں نام نہیں آنے والا

اس کی چاہ میں نام نہیں آنے والا اب میرا انجام نہیں آنے والا حسن سے کام پڑا ہے آخری سانسوں میں اور وہ کسی کے کام نہیں آنے والا میری صدا پر وہ نزدیک تو آئے گا لیکن زیر دام نہیں آنے والا ایک جھلک سے پیاس کا روگ بڑھے گا اور اس سے مجھے آرام نہیں آنے والا عشق کے نام پہ تیرا رنگ نہ ...

مزید پڑھیے

ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیں

ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیں تو نہیں ہے اور تری دھڑکنیں مرے ساتھ ہیں تو نے ایک عمر کے بعد پوچھا ہے حال دل وہی درد و غم وہی حسرتیں مرے ساتھ ہیں ترے ساتھ گزرے حسین لمحوں کی شوخیاں وہی رنگ و بو وہی رونقیں مرے ساتھ ہیں مرے پاؤں میں ہیں زمین کی سبھی گردشیں سبھی آسمان کی ...

مزید پڑھیے

وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا

وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا میں خواب خواب میں اس کو صدا دیا کرتا قریب آتی جو تاریخ اس کے ملنے کی وہ اپنے وعدے کی مدت بڑھا دیا کرتا میں زندگی کے سفر میں تھا مشغلہ اس کا وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے مجھ کو گنوا دیا کرتا اسے سمیٹتا میں جب بھی ایک نقطے میں وہ میرے دھیان میں تتلی اڑا دیا ...

مزید پڑھیے

خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے

خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے دل مرا کوئے ملامت سے نکلتا کیسے سایۂ وہم و گماں چار طرف پھیلا ہے میں ابھی کرب و اذیت سے نکلتا کیسے میری رسوائی اگر ساتھ نہ دیتی میرا یوں سر بزم میں عزت سے نکلتا کیسے میری نظریں جو نہ پڑتیں تو وہاں پچھلی شب اک ستارا سا تری چھت سے نکلتا کیسے میں کہ ...

مزید پڑھیے

لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا

لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا ترا پیام تو خاموش سی ہوا نے دیا جلا رہا تھا مجھے میں نے بھی جلانے دیا اجالا اس نے دیا بھی تو کس بہانے دیا ابھی کچھ اور ٹھہر جاتا میرے کہنے پر وہ جانے والا تھا خود ہی سو میں نے جانے دیا وہ اپنی سیر کے قصے مجھے سناتا رہا مجھے تو حال دل اس نے ...

مزید پڑھیے

اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا

اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا تب جا کر وہ خون کا دریا پار کیا تھا پتھر پھینک کے لوگوں نے جب عزت بخشی ہم نے اپنے ہاتھوں کو دستار کیا تھا کون سے خواب نے رات اپنی آنکھیں کھولی تھیں کس کی خوشبو نے دل کو بیدار کیا تھا اس نے دل پر قبضہ کیا بن بیٹھا آمر ہم نے جس کی شاہی سے انکار کیا ...

مزید پڑھیے

ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے

ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے مگر یہ دکھ کہ مری عمر رائیگاں کم ہے مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کر مری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے تجھے خبر بھی کہاں ہے مرے ارادوں کی تو میری سوچتی آنکھوں کا راز داں کم ہے اسی سے ہو گئے مانوس طائران چمن وہ جو کہ باغ کا دشمن ہے باغباں کم ...

مزید پڑھیے

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے آنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے خون میں شامل اچھوتی خوشبوؤں کے ساتھ ساتھ کیوں کہوں مجھ میں جو بہتا ہے وہ دریا جھوٹ ہے زندگی کے بارے اتنا ہی کہا سچ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4251 سے 4657