شاعری

سسکتا چیختا احساس تھا مرے اندر

سسکتا چیختا احساس تھا مرے اندر کبھی تو جھانک کے وہ دیکھتا مرے اندر کسی کے لمس کی خواہش نہ فاصلوں کی کسک یہ کیسا زہر اچھالا گیا مرے اندر وہ ایک شخص جسے ڈھونڈنا بھی مشکل تھا بڑے خلوص سے رہنے لگا مرے اندر لہو کی سوکھی ہوئی جھیل میں اتر کر یوں تلاش کس کو وہ کرتا رہا مرے اندر یہ ...

مزید پڑھیے

نازل ہوا تھا شہر میں کالا عذاب ایک

نازل ہوا تھا شہر میں کالا عذاب ایک غارت گر نصیب تھا خانہ خراب ایک سانسیں سسکتی رہ گئیں دیوار و در کے بیچ برپا ہوا تھا چھت پہ نیا انقلاب ایک میرا سفر تھا جسم کے باہر فلک کی سمت اترا تھا میری قبر پہ جب آفتاب ایک میرے لیے بہت تھی خزاں دیدہ روشنی اس کی پسند لاکھ مرا انتخاب ایک ارض ...

مزید پڑھیے

مصلحت کا کوئی خدا ہے یہاں

مصلحت کا کوئی خدا ہے یہاں کام جو سب کے کر رہا ہے یہاں اور ملتا بھی کیا فقیروں سے صرف اک حوصلہ ملا ہے یہاں لوگ محتاط ہیں رویوں میں قربتوں میں بھی فاصلہ ہے یہاں عادتا پوچھنے لگے ہیں لوگ کیا کوئی حادثہ ہوا ہے یہاں علم تو دفن ہو چکا کب کا کچھ کتابوں کا سلسلہ ہے یہاں روشنی منتقل ...

مزید پڑھیے

کس طرح جاؤں کہ یہ آئے ہوئے رات میں ہیں

کس طرح جاؤں کہ یہ آئے ہوئے رات میں ہیں یہ اندھیرے نہیں ہیں سائے مری گھات میں ہیں ملتا رہتا ہوں میں ان سے تو یہ مل لیتے ہیں یار اب دل میں نہیں رہتے ملاقات میں ہیں یہ تو ناکام اثاثہ ہے سمندر کے پاس کچھ غضب ناک سی لہریں مرے جذبات میں ہیں یہ دھوئیں میں جو نظر آتے ہیں سرسبز یہاں یہ ...

مزید پڑھیے

پہلے پہل لڑیں گے تمسخر اڑائیں گے

پہلے پہل لڑیں گے تمسخر اڑائیں گے جب عشق دیکھ لیں گے تو سر پر بٹھائیں گے تو تو پھر اپنی جان ہے تیرا تو ذکر کیا ہم تیرے دوستوں کے بھی نخرے اٹھائیں گے غالبؔ نے عشق کو جو دماغی خلل کہا چھوڑیں یہ رمز آپ نہیں جان پائیں گے پرکھیں گے ایک ایک کو لے کر تمہارا نام دشمن ہے کون دوست ہے پہچان ...

مزید پڑھیے

تیرے آگے سرکشی دکھلاوں گا؟

تیرے آگے سرکشی دکھلاوں گا؟ تو تو جو کہہ دے وہی بن جاؤں گا اے زبوری پھول اے نیلے گلاب مت خفا ہو میں دوبارہ آؤں گا سات صدیاں سات راتیں سات دن اک پہیلی ہے کسے سمجھاؤں گا یار ہو جائے سہی تجھ سے مجھے تیرے قبضے سے تجھے چھڑواؤں گا تم بہت معصوم لڑکی ہو تمہیں نظم بھیجوں گا دعا پہناؤں ...

مزید پڑھیے

غموں کی دھوپ میں جلتا ہوں مثل صحرا میں

غموں کی دھوپ میں جلتا ہوں مثل صحرا میں بچھڑ گیا مرا سایہ کھڑا ہوں تنہا میں کوئی بھی ساتھ کہاں تھا رہ محبت میں یہ اور بات کہ اب ہو گیا اکیلا میں کہیں تو بچھڑے ہوؤں کا سراغ پاؤں گا نکل پڑا ہوں یہی سوچ کر اکیلا میں زمانہ مجھ کو سمجھنے میں دیر کرتا رہا یہ اور بات زمانے کو بھی نہ ...

مزید پڑھیے

جنگل بھی تھے دریا بھی

جنگل بھی تھے دریا بھی ساتھ چلا اک رستہ بھی محرومی نے خوابوں کا جھلس دیا ہے چہرہ بھی روٹھ گئی خوشبو میری چھوڑ گیا ہے سایہ بھی تو ہر شخص کا دکھ بانٹے تیرا دکھ کوئی سمجھا بھی اک لمحہ تھا حاصل عمر یاد نہیں وہ لمحہ بھی یاد سفر میں ساتھ رہی یاد تھی میرا رستہ بھی سونا شہر اداس ...

مزید پڑھیے

آتش عشق میں جلتا رہا بجھتا رہا دل

آتش عشق میں جلتا رہا بجھتا رہا دل رنج‌ بیتاب سے دریا کبھی صحرا رہا دل اک سفر ہاں وہ سفر پاؤں کی زنجیر بنا بعد اے یار تری یاد میں جلتا رہا دل محفل آرائی کی خواہش تھی سو دل اس کے سبب محفل آرا رہا ویراں رہا تنہا رہا دل موجۂ خوں کسی سینے میں رکا تھا کل رات درد اٹھتا رہا چبھتا رہا ...

مزید پڑھیے

کہا تھا میں نے کیا تو نے سنا کیا

کہا تھا میں نے کیا تو نے سنا کیا مگر اس بات کا تجھ سے گلا کیا جو میرے کرب سے غافل رہا تھا اسی کو اب کہوں درد آشنا کیا یہی ٹھہری ہے کشتی ڈوب جائے تو ایسے میں خدا کیا ناخدا کیا دلوں کے رابطے باقی ہیں جاناں تو پھر یہ درمیاں کا فاصلہ کیا گلی کوچوں میں سناٹا ہے کیسا علی وجدانؔ عاشق ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4217 سے 4657