شاعری

ہر ایک لفظ ہے زندہ علامتوں سے تری

ہر ایک لفظ ہے زندہ علامتوں سے تری مری غزل کی یہ قامت نزاکتوں سے تری ترے بغیر تو بے سمت تھی مسافت عمر مرا سفر ہوا آساں رفاقتوں سے تری اب اس میں تیری مری خامشی ہی بہتر ہے کہ بات پھیل گئی ہے وضاحتوں سے تری مرے رفیق مرے اس قدر خلاف نہ تھے یہ اختلاف بڑھا ہے حمایتوں سے تری تری طلب کے ...

مزید پڑھیے

سفر ہے دھوپ کا اس میں قیام تھوڑی ہے

سفر ہے دھوپ کا اس میں قیام تھوڑی ہے بلا ہے عشق یہ بچوں کا کام تھوڑی ہے کسی کو وصل ہے بوجھل کوئی فراق میں خوش دلوں کے کھیل میں کوئی نظام تھوڑی ہے ہمارے دل میں دھڑکتا ہے نام اس کا ابھی ہے یہ شروع محبت تمام تھوڑی ہے جو اہل عشق ہیں منزل کا غم نہیں کرتے یہ خاص لوگوں کا رستہ ہے عام ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ آنے سے سانسوں کے روٹھ جانے تک

زمیں پہ آنے سے سانسوں کے روٹھ جانے تک یہ اک سفر ہے مسلسل قضا کے شانے تک جو کائنات پہ حق اپنا مان بیٹھے تھے انہیں بھی آنا پڑا آخری ٹھکانے تک زمیں پہ دل کی محبت جوان ہوتی رہی وفا کی دھوپ پہ بادل جفا کے چھانے تک پھر اس کے بعد ہوا کیا مجھے نہیں معلوم میں ہوش میں رہی بت کو خدا بنانے ...

مزید پڑھیے

غیب سے پیغام جاری ہو گیا

غیب سے پیغام جاری ہو گیا مجھ پہ اس کا رنگ طاری ہو گیا منتظر رہنے لگا دل اس قدر لمحہ لمحہ انتظاری ہو گیا ایک شب وہ خواب میں آیا مرے دل مرا اس کا پجاری ہو گیا کچھ نشہ تو تھا وصال یار میں عمر بھر کی جو خماری ہو گیا جان کی بازی لگا بیٹھا ہے پھر پھر کوئی عاشق جواری ہو گیا

مزید پڑھیے

ہو جائیں گے جس روز سبھی کام مکمل

ہو جائیں گے جس روز سبھی کام مکمل آ جائے گا اس روح کو آرام مکمل دل میں ہے مگر اس سے کبھی کہہ نہیں پائے آنے سے ترے ہوتی ہے یہ شام مکمل باتوں میں مہارت جسے حاصل نہیں ہوتی اکثر وہی ہو جاتا ہے ناکام مکمل کچھ کام تو ہو جاتے ہیں اس خوف سے اکثر ہو جائیں نہ ہم بھی کہیں گمنام مکمل آ جاتا ...

مزید پڑھیے

توڑ دیتی ہیں بیڑیاں اکثر

توڑ دیتی ہیں بیڑیاں اکثر قید میں رہ کے بیٹیاں اکثر چیر دیتی ہیں دل کے دامن کو تنگ ذہنوں کی برچھیاں اکثر خواب آنکھوں میں چھوڑ کر آدھے جاگ جاتی ہیں لڑکیاں اکثر زہر رشتوں میں گھول دیتی ہیں سخت لہجے کی تلخیاں اکثر نام پرچی پہ اس کا لکھ لکھ کے دل لگاتا ہے عرضیاں اکثر جب بھی سوچوں ...

مزید پڑھیے

ذہن اور دل میں جنگ جاری تھی

ذہن اور دل میں جنگ جاری تھی جاگ کر میں نے شب گزاری تھی دل گیا تو گیا یہ جاں بھی گئی وہ نظر اس قدر شکاری تھی بس گیا تھا خیال و خواب میں وہ وہ خماری بھی کیا خماری تھی اس نے نظروں سے پڑھ لیا ہوگا دل میں محفوظ رازداری تھی جو ترے انتظار میں گزری اک وہی رات مجھ پہ بھاری تھی اپنی جاں ...

مزید پڑھیے

آج موسم میں کچھ نمی سی ہے

آج موسم میں کچھ نمی سی ہے برف رشتوں میں پھر جمی سی ہے ساتھ سب ہیں مگر بنا تیرے سونی محفل ہے کچھ کمی سی ہے میں فرشتہ سمجھ سمجھ رہی تھی جسے اس کی فطرت بھی آدمی سی ہے جب سے اس نے کہا وہ آئے گا جانے کیوں سانس یہ تھمی سی ہے آج وہ ہے مری پناہوں میں آج کی رات شبنمی سی ہے

مزید پڑھیے

ہر صبح میں پتھر کی طرح سخت بنا ہوں

ہر صبح میں پتھر کی طرح سخت بنا ہوں شام آتے ہی شیشے کی طرح ٹوٹ گیا ہوں گرتی ہوئی دیوار کے سائے میں ٹھہر کر چڑھتے ہوئے سورج کی طرف دیکھ رہا ہوں اک بار کسی نے مجھے دیوانہ کہا تھا اب تک اسی لہجے کی ادا ڈھونڈ رہا ہوں تم صبح کے دیوان میں شاداب کھڑی ہو میں رات کی دلدل میں اترتا ہی چلا ...

مزید پڑھیے

نہ طرز دوست نہ رنگ عدو سے ملتا ہے

نہ طرز دوست نہ رنگ عدو سے ملتا ہے وہ بانکپن جو تری گفتگو سے ملتا ہے میں کیا بتاؤں یہ کس خوبرو سے ملتا ہے جب آفتاب لب آب جو سے ملتا ہے ہمارے زخم ہرے ہوں تو مسکراتے ہیں ہمیں سکون بھلا کب رفو سے ملتا ہے ہماری طرح یہ ہے کشتۂ ستم کہ نویدؔ حنا کا رنگ ہمارے لہو سے ملتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4188 سے 4657