شاعری

قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا

قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا سبھی سے ہاتھ ملانا گلے نہیں ملنا تمہارے چھوڑ کے جانے سے میں نے سیکھا ہے جو ڈھیر شوق سے آئے اسے نہیں ملنا تیرے بغیر گزرتے ہوئے دنوں کی قسم یہ دن گزر بھی گئے تو تجھے نہیں ملنا ذرا سی دیر میں انسان سیکھ جاتا ہے کہ کس سے دوری بھلی ہے کسے نہیں ...

مزید پڑھیے

سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے

سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے نہیں سمجھتا تو بس دور سے سلام کرے جسے بھی چاہیے خیرات میں مری آواز وہ پہلے میری خموشی کا احترام کرے کواڑ کھلتے ہی ورنہ بدن سے لپٹے گی اسے کہو کہ اداسی کا انتظام کرے معاملات جہاں اس کے واسطے چھوڑے اور ایک وہ ہے جو فرصت سے اپنے کام کرے مجھے سکوں ...

مزید پڑھیے

کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے

کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے گلی میں تیر برستے رہے مکانوں سے یہ بردباری اچانک سے تھوڑی آئی ہے کلام کرنا پڑا مجھ کو بد زبانوں سے تمہارے ہاتھ سلامت رہیں تو شہزادے یہ شال یوں ہی سرکتی رہے گی شانوں سے ہماری راہ میں دیوار بن گئے وہ لوگ جنہیں سنائی نہیں دے رہا تھا کانوں ...

مزید پڑھیے

نئی زبان ملی ہے سو ایسا بولتے ہیں

نئی زبان ملی ہے سو ایسا بولتے ہیں شروع میں تو سبھی الٹا سیدھا بولتے ہیں خدا کرے کہ کبھی بات بھی نہ کر پائیں یہ جتنے لوگ تیرے آگے اونچا بولتے ہیں اسے کہا تھا کہ لوگوں سے گفتگو نہ کرے اب اس کے شہر کے سب لوگ میٹھا بولتے ہیں کسی سے بولنا باقاعدہ نہیں سیکھا بس ایک روز یوں ہی خود سے ...

مزید پڑھیے

نہ مشک بو ہے نہ ہے زعفران کی خوشبو

نہ مشک بو ہے نہ ہے زعفران کی خوشبو حریم جاں میں ہے اک مہربان کی خوشبو میں دیکھتی ہی نہیں خواب اونچے محلوں کے مجھے پسند ہے کچے مکان کی خوشبو اسی زمین میں اک دن پناہ لینی ہے کہ اس زمین میں ہے آسمان کی خوشبو کہیں بھی جاؤں مرے ساتھ ساتھ رہتی ہے کسی کی یاد کسی کے دھیان کی خوشبو مرے ...

مزید پڑھیے

محبت سے وقار زندگی ہے

محبت سے وقار زندگی ہے یہی تو اعتبار زندگی ہے وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتے ہیں انہی پر انحصار زندگی ہے محبت سے کوئی جب مسکرا دے تو ہر لمحہ بہار زندگی ہے کسی کی یاد تنہائی کا عالم جدا سب سے شعار زندگی ہے ہنسی کے ساتھ بھیگ اٹھتی ہیں پلکیں غم بے اختیار زندگی ہے تمہارے قرب کی معراج پا ...

مزید پڑھیے

مرے ہزار غموں کا حساب کون لکھے

مرے ہزار غموں کا حساب کون لکھے میں اک کہانی ہوں مجھ پر کتاب کون لکھے گناہ لکھتے رہے میری آہ کو لیکن جو اشک دل میں ہیں ان کو ثواب کون لکھے تمہاری یاد نہیں اک عذاب ہے گویا مگر تمہارے کرم کو عذاب کون لکھے ہم اپنے زخم جگر کو چھپائے بیٹھے ہیں تمہارے چہرے کو تازہ گلاب کون لکھے مرا ...

مزید پڑھیے

جسے محبوب خود داری بہت ہے

جسے محبوب خود داری بہت ہے اسے جینے میں دشواری بہت ہے یوں ہی اجڑا ہوا رہنے دو مجھ کو سنورنا دل پہ اب بھاری بہت ہے نہ جائے کوچۂ مہر و وفا میں وہ جس کو زندگی پیاری بہت ہے بہت تڑپا لیا اب آ بھی جاؤ طبیعت درد سے بھاری بہت ہے چل اے دل اک نئی دنیا بسائیں یہاں نفرت کی بیماری بہت ...

مزید پڑھیے

مجھ سے روٹھا ہے کیا کیا جائے

مجھ سے روٹھا ہے کیا کیا جائے وہ بھی اپنا ہے کیا کیا جائے ہو کھلونا تو دوسرا لے لوں دل جو ٹوٹا ہے کیا کیا جائے دل کے نشتر چھپا تو لوں لیکن سرخ آنکھوں کا کیا کیا جائے اس کی محفل کو چھوڑ آئی ہوں اب وہ تنہا ہے کیا کیا جائے اس کی حالت پہ دل لرزتا ہے غم میں ہنستا ہے کیا کیا جائے بات ...

مزید پڑھیے

زندگی وقت کے پھیروں میں گزر جاتی ہے

زندگی وقت کے پھیروں میں گزر جاتی ہے موت چپکے سے دبے پاؤں چلی جاتی ہے لوگ ہنستے ہوئے چہرے کو پڑھا کرتے ہیں حالت دل پہ کہاں کن کی نظر جاتی ہے صبح پھر دل میں اک امید جگا دیتی ہے شام پھر یوں ہی تماشوں میں گزر جاتی ہے دن تری یادوں کے سائے میں بدل جاتا ہے رات پھر غم کے اندھیروں میں گزر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4187 سے 4657