شاعری

دل و جگر کو مرے داغدار رہنے دے

دل و جگر کو مرے داغدار رہنے دے کسی کی سینے میں ہے یادگار رہنے دے لبوں پہ موج تبسم ہو آنکھ میں آنسو خزاں میں پرتو رنگ بہار رہنے دے شکست لذت گریہ ہے کرب روحانی میں اشک بار بھلا اشک بار رہنے دے نہیں نہیں مجھے راحت کی آرزو ہی نہیں اسی طرح سے مجھے بے قرار رہنے دے نہ موج اشک حسیناں ...

مزید پڑھیے

خزاں سے مانوس ہو چکے ہیں نہیں خبر کچھ بہار کیا ہے

خزاں سے مانوس ہو چکے ہیں نہیں خبر کچھ بہار کیا ہے تڑپ کی لذت ہے جن کو حاصل نظر میں ان کی قرار کیا ہے بچے گا کب تک غریب انساں حوادث گردش زماں سے ہوا کے جھونکوں میں جل سکے گا چراغ یہ اعتبار کیا ہے قریب ہو کر بھی دور ہیں جیسے ایک دریا کے دو کنارے یوں ہی گلستاں میں رہ کے بھی ہم نہیں ...

مزید پڑھیے

آہ دنیا سرائے فانی ہے

آہ دنیا سرائے فانی ہے کس قدر مختصر کہانی ہے خود کو دیتا ہوں مسکرا کے فریب دل مگر وقف نوحہ خوانی ہے مجھ سے ہنس بول لیں مرے ساتھی اب کوئی دن کی زندگانی ہے موسم گل میں وہ جو آن ملیں ہم بھی جانیں کہ رت سہانی ہے بے سبب تو نہیں بہے آنسو آنسو آنسو میں اک کہانی ہے اک سراپا کہ رنج و یاس ...

مزید پڑھیے

آ چل کے بسیں ہمدم دیرینہ کہیں اور

آ چل کے بسیں ہمدم دیرینہ کہیں اور میں ڈھونڈھ نکالوں گا فلک اور زمیں اور بچتی ہوئی نظروں سے ٹپکتے ہیں فسانے ایجاد تکلم کی ہوئی طرز حسیں اور گلہائے تبسم پہ نظر ڈالنے والے ان ہونٹھوں میں پنہاں ہیں کئی خلد بریں اور ضو بار و درخشاں ہے یہ انوار خودی سے سجدوں کی سیاہی کو ہے مطلوب ...

مزید پڑھیے

عشق پر دوستی کا چہرہ ہے

عشق پر دوستی کا چہرہ ہے گھاؤ دیکھو یہ کتنا گہرا ہے سن کے سب کی جو پہنچا منزل پہ شخص وہ اصلیت میں بہرا ہے دشت میں صرف پیاس پلتی ہے دشت دکھنے میں بس سنہرا ہے جس کو تم نے کہا تھا آؤگی پھول پکڑے وہ اب بھی ٹھہرا ہے

مزید پڑھیے

آنکھ میری رو رہی ہے

آنکھ میری رو رہی ہے آج دلہن وہ بنی ہے زندگی پر میں ہنسا تھا موت مجھ پر ہنس رہی ہے اس نے کچھ ایسے پکارا ہر طرف اب بے خودی ہے جیتتے ہی جا رہے ہو عشق ہے بازی نہیں ہے ایک تیری یاد ہے اب ایک میری شاعری ہے درد اے تحریر دیکھو اولی ثانی نہیں ہے

مزید پڑھیے

اس کے کنگن سے محبت کی کھنک آتی ہے

اس کے کنگن سے محبت کی کھنک آتی ہے زرد رو راتوں میں چندن کی مہک آتی ہے بھیڑ میں گم ہوئے بچے کی طرح میرا دل دیکھ لوں ماں کو تو آنکھوں میں چمک آتی ہے گاؤں کا گھر گھر کے آنگن میں کھلی وہ تلسی گھر سے اب پاؤں بڑھاتا ہوں سڑک آتی ہے ذکر ہوتا ہے ترا جب بھی کسی محفل میں موت قدموں سے یہ سینے ...

مزید پڑھیے

خدا کو آزمانا چاہتا ہوں

خدا کو آزمانا چاہتا ہوں میں یہ دنیا جلانا چاہتا ہوں کسی شاعر سے اس کی زندگی کے میں سارے غم چرانا چاہتا ہوں میں روح جونؔ کو جنت میں جا کر گلے کس کر لگانا چاہتا ہوں تری چھت پر ٹنگے سب پیرہن سے تری خوشبو چرانا چاہتا ہوں فقط مدہوش ہو کر کیا مزہ ہے میں پی کر لڑکھڑانا چاہتا ...

مزید پڑھیے

ہو گئی بات پرانی پھر بھی

ہو گئی بات پرانی پھر بھی یاد ہے مجھ کو زبانی پھر بھی موجۂ غم نے تو دم توڑ دیا رہ گیا آنکھ میں پانی پھر بھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا اس کو ہو گئی شام سہانی پھر بھی چشم نم نے اسے جاتے دیکھا دل نے یہ بات نہ مانی پھر بھی لوگ ارزاں ہوئے جاتے ہیں یہاں بڑھتی جاتی ہے گرانی پھر ...

مزید پڑھیے

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو تم بھی ناں دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے جیسے پہلی بار ملے ہو تم بھی ناں ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں مجھ میں ایسے آن بسے ہو تم بھی ناں عشق نے یوں دونوں کو آمیز کیا اب تو تم بھی کہہ دیتے ہو تم بھی ناں خود ہی کہو اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4180 سے 4657