شاعری

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے وہ خود کو سب کچھ سمجھ رہا تھا وبا سے پہلے پلک جھپکتے ہی سارا منظر بدل گیا ہے یہاں تو میلہ لگا ہوا تھا وبا سے پہلے تم آج ہاتھوں سے دوریاں ناپتے ہو سوچو دلوں میں کس درجہ فاصلہ تھا وبا سے پہلے عجیب سی دوڑ میں سب ایسے لگے ہوئے تھے مکاں مکینوں کو ...

مزید پڑھیے

یہ شعلہ آزمانا جانتے ہیں

یہ شعلہ آزمانا جانتے ہیں سو ہم دامن بچانا جانتے ہیں تعلق جو بھی رکھو سوچ لینا کہ ہم رشتہ نبھانا جانتے ہیں کھنکتی نقرئی دل کش ہنسی میں ہم اپنا غم چھپانا جانتے ہیں بلانا ہی نہیں پڑتا ہے عنبرؔ یہ غم اپنا ٹھکانہ جانتے ہیں

مزید پڑھیے

اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے

اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے ہر جیت ہے لا حاصل ہر مات ادھوری ہے کچھ دیر کی رم جھم کو معلوم نہیں شاید جل تھل نہ ہو آنگن تو برسات ادھوری ہے کیا خوب تماشہ ہے یہ کار گہ ہستی ہر جسم سلامت ہے ہر ذات ادھوری ہے محروم تمازت دن شب میں بھی نہیں خنکی یہ کیسا تعلق ہے ہر بات ادھوری ہے

مزید پڑھیے

جب سے زندگی ہوا دل گردش تقدیر کا

جب سے زندگی ہوا دل گردش تقدیر کا روز بڑھ جاتا ہے اک حلقہ مری زنجیر کا میرے حصہ میں کہاں تھیں عجلتوں کی منزلیں میرے قدموں کو سدا رستہ ملا تاخیر سے کس لیے بربادیوں کا دل کو ہے اتنا ملال اور کیا اندازہ ہو خمیازۂ تعمیر کا خون دل جن کی گواہی میں ہوا نذر وفا رنگ تو وہ اڑ گئے اب کیا ...

مزید پڑھیے

ستارہ بار بن جائے نظر ایسا نہیں ہوتا

ستارہ بار بن جائے نظر ایسا نہیں ہوتا ہر اک امید بر آئے مگر ایسا نہیں ہوتا محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا سبھی کے ہاتھ میں مثل سفال نم نہیں رہنا جو مل جائے وہی ہو کوزہ گر ایسا نہیں ہوتا کہا جلتا ہوا گھر دیکھ کر اہل تماشا نے دھواں ...

مزید پڑھیے

محبت کا گلشن سجانے لگے ہیں

محبت کا گلشن سجانے لگے ہیں ہم اپنی وفا کو نبھانے لگے ہیں اٹھی تھی جو دیوار نفرت کی دل میں اسے رفتہ رفتہ گرانے لگے ہیں جھکا کر جو نظریں تھے خموش بیٹھے وہی درد اپنا بتانے لگے ہیں جنہیں پیار کے پھول ہم نے تھے بھیجے وہی دل پہ خنجر چلانے لگے ہیں خبر جن کو عیبوں کی اپنے نہیں ہے وہی ...

مزید پڑھیے

مٹاتا ہی رہا خود کو رلاتا ہی رہا خود کو

مٹاتا ہی رہا خود کو رلاتا ہی رہا خود کو جلا کر خط محبت کے بجھاتا ہی رہا خود کو چلا کر فون میں شب بھر کہیں جگجیت کی غزلیں لگا کر کش میں سگریٹ کے جلاتا ہی رہا خود کو ہوا جو قتل خوابوں کا بہا آنسو کا جو دریا تو پھر نمکین پانی میں ڈبوتا ہی رہا خود کو وہ شاعر تھا یا دیوانہ یا کوئی غم ...

مزید پڑھیے

درد کا کوئی انت نہیں ہے

درد کا کوئی انت نہیں ہے اس میں جیون پگھلا جائے دور گلی کے نکڑ پر زرد اداسی کا ڈیرا ہے اور لیمپ پوسٹ کی روشنی میں تنہائی کا بسیرا ہے آنگن میں جب اترے پرندے یادوں کا چوگا ختم ہوا خالی کٹورا درد بھرا تھا درد کا کوئی انت نہیں ہے

مزید پڑھیے

خوش رنگ و سحر کار نظاروں کو کیا ہوا

خوش رنگ و سحر کار نظاروں کو کیا ہوا اللہ اس چمن کی بہاروں کو کیا ہوا روشن تھیں جن سے بزم تصور کی خلوتیں ان رشک مہر و ماہ ستاروں کو کیا ہوا ساحل کو پا سکی نہ کبھی کشتیٔ حیات دریائے آرزو کے کناروں کو کیا ہوا اپنے پرائے ہو گئے قسمت کے ساتھ ساتھ مجبور زندگی کے سہاروں کو کیا ...

مزید پڑھیے

زندگی درد سے قریب رہے

زندگی درد سے قریب رہے غم کی دولت مجھے نصیب رہے موسم ایسا بھی ہو کوئی صیاد باغ جب وقف عندلیب رہے مسکرا دو کسی کی میت پر موت کیوں تیرہ و مہیب رہے وصل کو وصل جاننے کے لیے زینت بزم اک رقیب رہے جان کا کھیل کھیلنے والو امتحاں کو در حبیب رہے جاگ کر میں نے کاٹ دیں راتیں نیند میں گم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4181 سے 4657