شاعری

اسی معمورے میں کچھ ایسے ہیں سودائی بھی

اسی معمورے میں کچھ ایسے ہیں سودائی بھی جن کے کام آ نہ سکی تیری مسیحائی بھی شکر ہے آپ کو میرے لیے زحمت نہ ہوئی لیجئے کٹ گئی میری شب تنہائی بھی بڑھ سکی جس سے نہ انگشت بہ لب نادانی اسی منزل میں نظر آتی ہے دانائی بھی اللہ اللہ رے گراں جانئ بیمار وفا ناتوانی بھی ہے حیران توانائی ...

مزید پڑھیے

سوز دل شمع تپاں ہو جیسے

سوز دل شمع تپاں ہو جیسے آگ چولھے میں نہاں ہو جیسے کیسی افسردہ بہار آئی ہے اب بھی گلشن میں خزاں ہو جیسے مجھ پہ محفل میں تبسم کی نظر بہ طفیل دگراں ہو جیسے آپ کی چشم عنایت کا یقیں دل فریب ایک گماں ہو جیسے یوں وہ سنتے ہیں کہانی میری اک حدیث دگراں ہو جیسے چونک اٹھے ہم تو قیامت ...

مزید پڑھیے

مرے سجدہ ہائے نیاز کو ترے آستاں کی تلاش ہے

مرے سجدہ ہائے نیاز کو ترے آستاں کی تلاش ہے کسی فرد کی یہ طلب نہیں یہ تو اک جہاں کی تلاش ہے نئی سرزمیں کی ہے جستجو نئے آسماں کی تلاش ہے جو مکاں بھی ٹھیک نہ رکھ سکے انہیں لا مکاں کی تلاش ہے مرے پائے شوق سفر میں ہیں ابھی راہ و رسم کی بندشیں مجھے نقش پا کی ہے جستجو مجھے کارواں کی تلاش ...

مزید پڑھیے

رہ گزر باشوں کو سائے کی بھی کیا حاجت نہیں (ردیف .. م)

رہ گزر باشوں کو سائے کی بھی کیا حاجت نہیں پوچھتے ہیں عالم نو تیرے معماروں سے ہم کیا خبر تھی آ کے منزل پر وہ ہوگا چاک چاک جو بچا لائے تھے دامن راہ کے خاروں سے ہم جیسے سایہ بھی گناہوں کا نہیں ہم پر پڑا کس قدر دامن کشیدہ ہیں گنہ گاروں سے ہم دم نہ لیں گے جب تلک یہ سامنے سے ہٹ نہ ...

مزید پڑھیے

یوں وفا آزمائی جاتی ہے

یوں وفا آزمائی جاتی ہے دل کی رگ رگ دکھائی جاتی ہے اپنی صورت کے آئنے میں مجھے میری صورت دکھائی جاتی ہے ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے نئی دنیا بنائی جاتی ہے نہ بنے بات کچھ تو ہنس دینا بات یوں بھی بنائی جاتی ہے جلنے والا جلے دھواں بھی نہ ہو آگ یوں بھی لگائی جاتی ہے جانے والے تجھے خبر ...

مزید پڑھیے

اپنی خطا کہ رکھ کے دل ذوق خلش نہ پا سکے

اپنی خطا کہ رکھ کے دل ذوق خلش نہ پا سکے عقل کی جھڑکیاں سہیں پر نہ فریب کھا سکے ہجر بھی ایک وہم ہے وصل بھی اک فریب تھا کھو کے نہ تم کو کھو سکے پا کے نہ تم کو پا سکے تیری نظر نے بزم میں اٹھ کے ہمیں بٹھا دیا اٹھے تو بار بار ہم اٹھ کے مگر نہ جا سکے جرأت ترک عاشقی مجھ سے نہ ہو سکی ...

مزید پڑھیے

ادھر سے بھی تو ہوائے بہار گزری ہے

ادھر سے بھی تو ہوائے بہار گزری ہے کچھ ایک بار نہیں بار بار گزری ہے گلا نہیں یہ فقط عرض حال ہے اے دوست ترے بغیر بہت بے قرار گزری ہے وہی تو میری حیات سفر کی پونجی ہے وہ زندگی جو سر رہ گزار گزری ہے قلم لیے ہوئے سوچا کیے کہ کیا لکھیں کچھ اس طرح بھی شب انتظار گزری ہے بھلا سکیں گے نہ ...

مزید پڑھیے

ہے معمہ مری محبت بھی

ہے معمہ مری محبت بھی شکر کے ساتھ ہے شکایت بھی دل کو پیاری ہے جس کی نفرت بھی کیا ہو گر وہ کرے محبت بھی دشمن اعتبار ہوتی ہے بعض حالات میں حقیقت بھی اسی معمورے میں بنا لی ہے سادہ لوحوں نے اپنی جنت بھی اس محبت پہ ناز کیا کیجے ہو ملی جس میں کچھ مروت بھی آگ دل کی کسی طرح نہ بجھی پی کے ...

مزید پڑھیے

کسی طرح بھی جو اس ریگ زار ہستی پر (ردیف .. ن)

کسی طرح بھی جو اس ریگ زار ہستی پر ابھر سکا جو نہ پورا وہ نقش پا ہوں میں جو ہر طرف سے ہواؤں کی ٹھوکریں کھائے در قبول کی رد کردہ وہ دعا ہوں میں نہ حوصلوں میں تموج نہ ولولوں میں خروش اسی کا نام ہے جینا تو جی رہا ہوں میں وفا پہ طنز ہے آوارگیٔ شوق نہیں ہر آستاں پہ جو سجدے بکھیرتا ہوں ...

مزید پڑھیے

نظر آنے سے پہلے ڈر رہا ہوں

نظر آنے سے پہلے ڈر رہا ہوں کہ ہر منظر کا پس منظر رہا ہوں مجھے ہونا پڑے گا ریزہ ریزہ میں سر سے پاؤں تک پتھر رہا ہوں کسی کو کیوں میں یہ اعزاز بخشوں گا میں خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں مجھی کو سرخ رو ہونے کا حق ہے کہ میں اپنے لہو میں تر رہا ہوں مرے گھر میں تو کوئی بھی نہیں ہے خدا جانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4152 سے 4657