شاعری

کیا بتائیں کہاں کہاں تھے پھول

کیا بتائیں کہاں کہاں تھے پھول خاک اڑتی ہے اب جہاں تھے پھول بھیگی بھیگی سی دیکھ کر کلیاں مسکرائے جہاں جہاں تھے پھول دل میں گلشن کھلا گئے کیا کیا یوں تو دو دن کے میہماں تھے پھول جب خزاں آئی جاں پہ کھیل گئے محرم جہد بے کراں تھے پھول جس نے توڑا اسی کو رنج ہوا مثل پیمانۂ مغاں تھے ...

مزید پڑھیے

کہیں صلیب کہیں کربلا نظر آئے

کہیں صلیب کہیں کربلا نظر آئے جدھر نگاہ اٹھے زخم سا نظر آئے بجھی ہے پیاس زمیں کی تو یہ تپش کیوں ہے وہ ابر ہے تو برستا ہوا نظر آئے بجا ہے اپنی عقیدت مگر سوال یہ ہے وہ آدمی ہو تو کیونکر خدا نظر آئے چلو کہ گھیر لیں اس کو لہو لہو چہرے ہر ایک سمت اسے آئنہ نظر آئے ہمیں نے تن سے جدا کر ...

مزید پڑھیے

نقش پانی پہ بنا ہو جیسے

نقش پانی پہ بنا ہو جیسے زندگی موج بلا ہو جیسے مجھ سے بچ بچ کے چلی ہے دنیا میرے نزدیک خدا ہو جیسے کوئی تحریر مکمل نہ ہوئی مجھ سے ہر لفظ خفا ہو جیسے کس قدر شہر میں سناٹا ہے اب کے کوئی نہ بچا ہو جیسے اس طرح پوج رہی ہے دنیا کوئی مجھ سے بھی بڑا ہو جیسے راہ ملتی ہے اندھیروں میں ...

مزید پڑھیے

خود اپنے ساتھ سفر میں رہے تو اچھا ہے

خود اپنے ساتھ سفر میں رہے تو اچھا ہے وہ بے خبر ہے خبر میں رہے تو اچھا ہے قدم قدم یونہی رکھنا دلوں میں اندیشہ چراغ راہ گزر میں رہے تو اچھا ہے کبھی کبھی مرے دامن کے کام آئے گی یہ دھوپ دیدۂ تر میں رہے تو اچھا ہے میں دل کا حال نہ آنے دوں اپنی پلکوں تک یہ گھر کی بات ہے گھر میں رہے تو ...

مزید پڑھیے

درد کا شہر کہیں کرب کا صحرا ہوگا

درد کا شہر کہیں کرب کا صحرا ہوگا لوگ واقف تھے کوئی گھر سے نہ نکلا ہوگا وہ جو اک شخص بضد ہے کہ بھلا دو مجھ کو بھول جاؤں تو اسی شخص کو صدمہ ہوگا آنکھ کھلتے ہی بچھڑ جائے گا ہر منظر شب چاند پھر صبح کے مقتل میں اکیلا ہوگا جن اجالوں کی طرف دوڑ رہی ہے دنیا ان اجالوں میں قیامت کا اندھیرا ...

مزید پڑھیے

فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے ہم نہ سقراط نہ منصور نہ عیسیٰ لیکن جو بھی قاتل ہے ہمارا ہی تمنائی ہے زندگی اور ہیں کتنے ترے چہرے یہ بتا تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شناسائی ...

مزید پڑھیے

غیروں سے بھی دھوکے کھائے ہیں اپنوں سے بھی دھوکے کھائے ہیں

غیروں سے بھی دھوکے کھائے ہیں اپنوں سے بھی دھوکے کھائے ہیں تب جا کے کہیں اس دنیا کے انداز سمجھ میں آئے ہیں وہ اپنی جفائے پیہم پر دم بھر بھی اگر شرمائے ہیں احساس وفاداری کو مرے پہروں پچھتاوے آئے ہیں ہم میں نہ محبت کی گرمی ہم میں نہ شرافت کی نرمی انسان کہیں کیوں سب ہم کو ہم چلتے ...

مزید پڑھیے

سنیں بہار کی رنگیں بیانیاں کیا کیا

سنیں بہار کی رنگیں بیانیاں کیا کیا کہیں تبسم گل نے کہانیاں کیا کیا دیا جواب نہ کچھ مسکرا کے رہ گئے پھول زبان خار نے کیں بد زبانیاں کیا کیا بڑھا نہ ناقۂ لیلیٰ بغیر نالۂ قیس ہنر دکھاتی رہیں ساربانیاں کیا کیا مزاج سنگ نہ پگھلا کہ تھا نہ سوز کلیم عصا پٹکتی رہیں قہرمانیاں کیا ...

مزید پڑھیے

ہزار شیوۂ رنگیں ہے اک جفا کے لیے

ہزار شیوۂ رنگیں ہے اک جفا کے لیے نگاہ چاہئے نیرنگیٔ ادا کے لیے سواد فکر سے ابھری تری حسین نگاہ میں شمع ڈھونڈھ رہا تھا رہ وفا کے لیے وہ رنج راہ ہو یا خوف گمرہی اے دوست جو راہرو کے لیے ہے وہ رہنما کے لیے یہ بندگی یہ ریاضت یہ زہد یہ تقویٰ یہ سب خودی کے لیے ہے کہ ہے خدا کے لیے یہ ...

مزید پڑھیے

اگرچہ شعلہ عیاں نہیں ہے اگرچہ لب پر دھواں نہیں ہے

اگرچہ شعلہ عیاں نہیں ہے اگرچہ لب پر دھواں نہیں ہے نہاں جسے ہم سمجھ رہے ہیں وہ آگ دل کی نہاں نہیں ہے یہ راہ وہ ہے کہ ہر مسافر کے تجربے جس میں مختلف ہیں وہ کون انساں ہے زندگی جس کی اک نئی داستاں نہیں ہے کدھر کو جائیں کسے پکاریں مڑیں کہ آگے ہی بڑھتے جائیں غبار کا بھی ترے سہارا ہمیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4151 سے 4657