شاعری

دنیا کو جب نزدیکی سے دیکھا ہے

دنیا کو جب نزدیکی سے دیکھا ہے تب سمجھا یہ سب کچھ کھیل تماشہ ہے ہاتھوں کی دو چار لکیریں پڑھ کر وہ مجھ سے بولا آگے سب کچھ اچھا ہے اس سے بس اک بار ملا پر حیراں ہوں دل میں تب سے گھر کر کے وہ بیٹھا ہے کاغذ پر دل کی تصویر بنائی جب اس نے پوچھا یہ کس شے کا نقشہ ہے سوچ رہا ہوں میں اس کا ...

مزید پڑھیے

قسمت اپنی ایسی کچی نکلی ہے

قسمت اپنی ایسی کچی نکلی ہے ہر محفل سے بس تنہائی نکلی ہے خط اوس کے جب آج جلانے بیٹھا تو ماچس کی تیلی بھی سیلی نکلی ہے شور شرابہ رہتا تھا جس آنگن میں آج وہاں سے بس خاموشی نکلی ہے بھوکا بچہ دیکھا تو ان آنکھوں سے آنسو کی پھر ایک ندی سی نکلی ہے اپنی صورت کی پرتیں جب کھولیں تو اپنی ...

مزید پڑھیے

رات بھر خواب میں جلنا بھی اک بیماری ہے

رات بھر خواب میں جلنا بھی اک بیماری ہے عشق کی آگ سے بچنے میں سمجھ داری ہے وقت ملتا ہی نہیں ہے مجھے تنہائی سے جنگ خود سے ہی مری آج تلک جاری ہے آئنے گھر کے سبھی ٹوٹ چکے ہیں کب کے روبرو خود سے ہی ہونا بھی مجھے بھاری ہے میری یہ بات تو مانے یا نہ مانے لیکن بن ترے دنیا میں جینا بھی ...

مزید پڑھیے

غرض پڑنے پہ اس سے مانگتا ہے

غرض پڑنے پہ اس سے مانگتا ہے خدا ہوتا ہے یعنی مانتا ہے کئی دن سے شرارت ہی نہیں کی مرے اندر کا بچہ لاپتہ ہے برے ماحول سے گزرا ہے یہ دل محبت لفظ سے ہی کانپتا ہے یہ کچی عمر کے عاشق کو دیکھو ذرا روٹھے کلائی کاٹتا ہے ابھی منزل دکھائی بھی نہیں دی ابھی سے ہی تو اتنا ہانپتا ہے گناہوں ...

مزید پڑھیے

فکر میری خیال میرا ہے

فکر میری خیال میرا ہے نام ان کا کمال میرا ہے چڑھتا سورج عروج ہے ان کا ڈھلتا سایہ زوال میرا ہے فرق اتنا ہے ان کے میرے بیچ پھول ان کے نہال میرا ہے آ چلا ہے یقین برسوں بعد یہ مہینے یہ سال میرا ہے اس میں حالات کا قصور نہیں دوش پہ سر و بال میرا ہے کیوں زمیں تنگ ہے غریبوں پر آسماں سے ...

مزید پڑھیے

وہ محبت نہ سہی درد محبت ہی سہی

وہ محبت نہ سہی درد محبت ہی سہی کچھ تو مل جائے ہمیں آپ کی نفرت ہی سہی دست قدرت کا بنایا ہوا شہکار تو ہے آدمی آج کا اک حرف ملامت ہی سہی ان کی قسمت میں سمندر کا سکوں لکھا ہے اپنی تقدیر میں صحراؤں کی وحشت ہی سہی شہر میں تیرے تھکے پاؤں مسافر کے لئے دو گھڑی بیٹھ کے دم لینے کی فرصت ہی ...

مزید پڑھیے

صحراؤں کی پیاس بجھانے

صحراؤں کی پیاس بجھانے کب آئے برسات نہ جانے مجھ کو میری یاد دلانے آئے ہیں کچھ دوست پرانے جانے گھر کس کس کے جلیں گے نکلے ہیں وہ جشن منانے خوابوں کی وادی میں ملے ہیں بیتے لمحے گزرے زمانے وقت کے ٹوٹے آئینے میں چہرے ہیں سب جانے پہچانے تم سے ملے تو یاد آیا ہے دیکھے تھے کچھ خواب ...

مزید پڑھیے

اس طرح دل میں تری یاد کے پیکر آئے

اس طرح دل میں تری یاد کے پیکر آئے جیسے اجڑی ہوئی بستی میں پیمبر آئے ذات کے غم تھے کہ حالات کے جلتے سائے بڑھتے بڑھتے جو مرے قد کے برابر آئے اوڑھ لی میں نے تری یاد کی چادر اے دوست جب بھی سر پر مرے حالات کے پتھر آئے کبھی ایسا بھی ہو دل میں یہ خیال آتا ہے زخم اوروں کے لگے آنکھ مری بھر ...

مزید پڑھیے

ڈھلتے ہوئے سورج کی ضیا دیکھ رہے ہیں

ڈھلتے ہوئے سورج کی ضیا دیکھ رہے ہیں صدیوں سے بھی انجام وفا دیکھ رہے ہیں بدلی ہوئی گلشن کی ہوا دیکھ رہے ہیں پھولوں میں بھی کانٹوں کی ادا دیکھ رہے ہیں راہوں میں بھٹک جاتے ہیں کس طرح مسافر منزل پہ کھڑے راہنما دیکھ رہے ہیں تاریخ کے چہرے سے نئے دور کے ہاتھوں مٹتی ہوئی تحریر وفا ...

مزید پڑھیے

چار سو شہر میں مقتل کا سماں ہے اب کے

چار سو شہر میں مقتل کا سماں ہے اب کے اپنے سائے پہ بھی قاتل کا گماں ہے اب کے جو کبھی شہر میں خورشید بکف بھرتا تھا کوئی بتلائے کہ وہ شخص کہاں ہے اب کے کہکشاں لفظوں کی ہونٹوں پہ بکھرنے دیجے دور تک ذہن کی گلیوں میں دھواں ہے اب کے لوگ آنکھوں میں نئے خواب لئے پھرتے ہیں کچھ نہ ہونے پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4146 سے 4657