دنیا کو جب نزدیکی سے دیکھا ہے
دنیا کو جب نزدیکی سے دیکھا ہے تب سمجھا یہ سب کچھ کھیل تماشہ ہے ہاتھوں کی دو چار لکیریں پڑھ کر وہ مجھ سے بولا آگے سب کچھ اچھا ہے اس سے بس اک بار ملا پر حیراں ہوں دل میں تب سے گھر کر کے وہ بیٹھا ہے کاغذ پر دل کی تصویر بنائی جب اس نے پوچھا یہ کس شے کا نقشہ ہے سوچ رہا ہوں میں اس کا ...