شاعری

نہ جانے کون سی غفلت میں ہوں میں

نہ جانے کون سی غفلت میں ہوں میں عجب سے درد کی شدت میں ہوں میں چلو پھر کل ملوں گا یار تم سے ابھی تو عشق کی میت میں ہوں میں دکھا تھا خواب میں روتا ہوا دل کہوں کیا اب تلک دہشت میں ہوں میں مجھے تم ڈھونڈھتے پھرتے کہاں ہو تمہارے پیار کی لذت میں ہوں میں ہمیں بچھڑے تو اک عرصہ ہوا پر سنا ...

مزید پڑھیے

اپنے حصے کی انا دوں تو انا دوں کس کو

اپنے حصے کی انا دوں تو انا دوں کس کو اپنی نظروں سے گرا دوں تو گرا دوں کس کو زندگی کا یہ مری کون ہے قاتل جانے میں ہوں مشکل میں سزا دوں تو سزا دوں کس کو دوستی میں بھی ہے رنجش کی کہانی کہ مری اس کہانی کو بتا دوں تو بتا دوں کس کو مدتوں سے ہیں ملی ٹھوکریں مجھ کو جو یہاں عشق بازی میں وفا ...

مزید پڑھیے

جب جذبہ اک بار جگر میں آتا ہے

جب جذبہ اک بار جگر میں آتا ہے پھر سب اپنے آپ ہنر میں آتا ہے سب کی زد میں اک میرا ہی گھر ہے کیا روز نیا اک پتھر گھر میں آتا ہے کل میرے سائے میں اس کی شکل دکھی منظر ایسے پس منظر میں آتا ہے میں تنہا آتا ہوں محفل میں یاروں باقی ہر انساں لشکر میں آتا ہے لہجہ اس کا ہر جانب ہے مسلط ...

مزید پڑھیے

دیے کا رخ بدلتا جا رہا ہے

دیے کا رخ بدلتا جا رہا ہے ہوا کے ساتھ جلتا جا رہا ہے تمہارے ہجر کی اس آنچ میں اب ہمارا دل پگھلتا جا رہا ہے تڑپ اٹھی ہے میری روح پھر سے بدن سے تو نکلتا جا رہا ہے نکالو اب مرے گھر سے ہی مجھ کو یہ سناٹا نگلتا جا رہا ہے قفس میں قید اک پنچھی کے جیسے مرا کردار ڈھلتا جا رہا ہے ہمارا ...

مزید پڑھیے

گھٹن بھی دیکھ رہی ہے مجھے حیرانی سے

گھٹن بھی دیکھ رہی ہے مجھے حیرانی سے کہیں میں اوب ہی جاؤں نہ اس جوانی سے سزائے موت نہیں عمر قید کاٹو گے یہ حکم آ ہی گیا دل کی راجدھانی سے ذرا سا عشق کیا اور اب یہ حالت ہے وہ بہہ رہا ہے رگوں میں عجب روانی سے اداسیوں میں بھی شکوا بھلا کریں کس سے بچا ہے کون محبت میں رائیگانی سے کبھی ...

مزید پڑھیے

یوں اپنے دل کو بہلانے لگے ہیں

یوں اپنے دل کو بہلانے لگے ہیں لپٹ کر خود کے ہی شانے لگے ہیں ہمیں تو موت بھی آساں نہیں تھی سو اب زندہ نظر آنے لگے ہیں اداسی اس قدر حاوی تھی ہم پر کہ خوش ہونے پہ اترانے لگے ہیں جو دیکھی اک شکاری کی اداسی پرندے لوٹ کر آنے لگے ہیں سلیقے سے لپٹ کر پاؤں سے اب یہ غم زنجیر پہنانے لگے ...

مزید پڑھیے

نظر بھر کے یوں جو مجھے دیکھتا ہے

نظر بھر کے یوں جو مجھے دیکھتا ہے بتا بھی دے مجھ کو کہ کیا سوچتا ہے محبت نہیں جیسے کیا کر لیا ہو زمانہ مجھے اس قدر ٹوکتا ہے دسمبر کی سردی ہے اس کے ہی جیسی ذرا سا جو چھو لے بدن کانپتا ہے لگایا ہے دل بھی تو پتھر سے میں نے مری زندگی کی یہی اک خطا ہے جسے دیکھ کے غم بھی رستہ بدل دے وہ ...

مزید پڑھیے

یہ لگتا ہے اب بھی کہیں کچھ بچا ہے

یہ لگتا ہے اب بھی کہیں کچھ بچا ہے تمہارا دیا زخم اب تک ہرا ہے کہو کون سی شکل دیکھو گے اب تم یہ چہرہ تو اک آورن سے ڈھکا ہے لگا ہے زمانہ عبادت میں جس کی وہ رہتا کہاں ہے تمہیں کچھ پتا ہے گناہوں سے توبہ کرو وقت رہتے وگرنہ تو دوزخ کا رستہ کھلا ہے محبت محبت محبت محبت اماں یار چھوڑو یہ ...

مزید پڑھیے

کوزہ گر کے گھر امیدیں آئی ہیں

کوزہ گر کے گھر امیدیں آئی ہیں مٹی کے پتلے میں سانسیں آئی ہیں گھبرا کر بستر سے اٹھ بیٹھا ہوں میں نیند میں پھر خوابوں کی لاشیں آئی ہیں کس نے دستک دی ہے میری پلکوں پر آنکھوں کی دہلیز پہ یادیں آئی ہیں خواب میں اس کو روتے دیکھ لیا تھا بس من میں جانے کیا کیا باتیں آئی ہیں آنکھیں سرخ ...

مزید پڑھیے

یہ غم پھر سے ابھرتا جا رہا ہے

یہ غم پھر سے ابھرتا جا رہا ہے مجھے حیران کرتا جا رہا ہے سنا معیار گرتا جا رہا ہے مگر بندہ نکھرتا جا رہا ہے مجھے یہ کیا ہوا ہے کچھ دنوں سے ترا احساس مرتا جا رہا ہے اماں اس خواب کو بھی کیا کہیں اب بکھرنا تھا بکھرتا جا رہا ہے ترا خاموشیوں کو وقت دینا صداؤں کو اکھرتا جا رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4145 سے 4657