شاعری

ترا خیال تھا لفظوں میں ڈھل گیا کیسے

ترا خیال تھا لفظوں میں ڈھل گیا کیسے دلوں میں شمع غزل بن کے جل گیا کیسے وہ آدمی جو مرا دوست تھا زمانے تک پتہ نہیں کہ یکایک بدل گیا کیسے بہت ہی تیز ہوا شعر حادثات کی تھی میں گرتے گرتے نہ جانے سنبھل گیا کیسے کہیں بھی آگ لگانے کا واقعہ نہ ہوا تو پھر حضور مکاں میرا جل گیا کیسے خلش ...

مزید پڑھیے

اس دور سے خلوص محبت وفا نہ مانگ

اس دور سے خلوص محبت وفا نہ مانگ صحرا سے کوئی سایہ کوئی آسرا نہ مانگ پتوں کے قہقہوں میں صدائے بکا نہ ڈھونڈ جنگل میں رہ کے شہر کی آب و ہوا نہ مانگ سمجھوتہ کر کے وقت سے چپ چاپ بیٹھ جا قاتل سے زندگی کے ابھی خوں بہا نہ مانگ اپنے خدا سے سلسلۂ گفتگو نہ توڑ ہو جائے جو قبول تو ایسی دعا نہ ...

مزید پڑھیے

اور بھی کچھ ہو عنایت کے لئے

اور بھی کچھ ہو عنایت کے لئے زندگی کم ہے محبت کے لئے ٹھیک ہے حسن پرستی بھی مگر کوئی چہرہ نہیں نفرت کے لئے رات دن کام پڑے رہتے ہیں وقت ملتا نہیں فرصت کے لئے ظلم کے شہر میں انصاف کہاں منتظر ہم ہیں قیامت کے لئے وہ تکلف ہی سے ملتا ہے ہمیں دل مچلتا ہے شرارت کے لئے لوگ کرتے ہیں وفا کا ...

مزید پڑھیے

بھری ہے تیر کے اونچی اڑان پانی میں

بھری ہے تیر کے اونچی اڑان پانی میں گو مچھلیوں کا ہو اک آسمان پانی میں اتر رہی ہے ترے تن سے جھیل میں بجلی نکل نہ جائے کہیں میری جان پانی میں تماشبین تھی جنتا تماشبین رہی نگر کے ڈوب گئے سب مکان پانی میں جمی ہوئی ہے یہ ندی پگھل بھی جانے دو اتر کے آؤ کبھی میری جان پانی میں میں جل ...

مزید پڑھیے

لباس چاک بدن جھانکتا یہ آدھا ہے

لباس چاک بدن جھانکتا یہ آدھا ہے یہی کفن ہے ہمارا یہی لبادہ ہے کہیں پہ خواہشوں کی کوئی انتہا ہی نہیں تو کوئی ایک نوالے میں دن بتاتا ہے نیا نظام نئی نسل اور نئے وعدے ہر ایک نسل کے حصہ میں صرف وعدہ ہے جو بات فرض ہے اس کے فقط نبھانے پر سکون کم ہے دلوں میں گماں زیادہ ہے لٹے ہوئے ہم ...

مزید پڑھیے

ان بیابانوں میں بستا تھا نگر پہلے کبھی

ان بیابانوں میں بستا تھا نگر پہلے کبھی بے گھروں کا بھی ہوا کرتا تھا گھر پہلے کبھی خوب سے بھی خوب صورت پھول اس گلشن میں ہیں آپ سا دیکھا نہیں ہم نے مگر پہلے کبھی اس کی گودی میں کسی بچہ سا سر کو رکھ دیا ویسے تو جھکتا نہیں تھا اپنا سر پہلے کبھی اس کے پیراہن یقیناً کھونٹیوں پر ہیں ...

مزید پڑھیے

بس اک سوال پہ جینا محال ہے میرا

بس اک سوال پہ جینا محال ہے میرا سوال کیوں نہ کروں یہ سوال ہے میرا کچھ اس لئے بھی ہر اک سے میری نہیں بنتی ضمیر زندہ ہے اور خون لال ہے میرا میں تجھ کو چھو کے بہت دور ہو گیا تجھ سے کہ یہ عروج سے کیسا زوال ہے میرا ملال یہ نہیں مجھ کو تو میری ہو نہ سکی میں تیرا ہو نہ سکا یہ ملال ہے ...

مزید پڑھیے

نہ کھونا اور نہ پانا چاہیے تھا

نہ کھونا اور نہ پانا چاہیے تھا مجھے کچھ درمیانہ چاہیے تھا مرے آگے تھے دنیا کے سوالات تمہیں ہی آگے آنا چاہیے تھا ملے بے باک جیسے کچھ نہیں ہو ذرا سا ہچکچانا چاہیے تھا غزل میں کہہ چکا تھا جب تم آئے تمہیں مطلع میں آنا چاہیے تھا سمے کے ساتھ بھر جاتا ہے ہر زخم سمے سے بھاگ جانا چاہیے ...

مزید پڑھیے

اک خواب مسلسل تھا کہ کھلتا ہی نہیں تھا

اک خواب مسلسل تھا کہ کھلتا ہی نہیں تھا کیا پیڑ تھا جس کا کوئی سایہ ہی نہیں تھا وہ درد اٹھا آج کہ دل بیٹھ رہا ہے کشتی ہوئی تیار تو دریا ہی نہیں تھا ماتھے پر شکن کوئی نہ احساس ندامت وہ کٹتے سروں کو کبھی گنتا ہی نہیں تھا اب جان پے بن آئی تو احساس ہوا ہے جو دیکھ رہے تھے وہ تماشا ہی ...

مزید پڑھیے

ہم پیاس کے ماروں کا اس طرح گزارا ہے

ہم پیاس کے ماروں کا اس طرح گزارا ہے آنکھوں میں ندی لیکن ہاتھوں میں کنارہ ہے دو چار قدم چل کر دو چار گھڑی رکنا منزل بھی تمہاری ہے رستہ بھی تمہارا ہے پلکوں کے نشیمن سے ہونٹوں کے گلستاں تک کچھ حسن تمہارا ہے کچھ عشق ہمارا ہے پھولوں کے مہکنے کا کوئی تو سبب ہوگا یا زلف پریشاں ہے یا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4147 سے 4657