کرب در پردۂ طرب ہے ابھی
کرب در پردۂ طرب ہے ابھی مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی ہیں پریشاں حیات کے گیسو نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی لاکھ سمجھوتے حال سے کیجئے تھی غضب یاد اک غضب ہے ابھی کس قدر کامیاب ہے انساں بھوک ہی موت کا سبب ہے ابھی زندگی تشنگی میں تھی ...