شاعری

کرب در پردۂ طرب ہے ابھی

کرب در پردۂ طرب ہے ابھی مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی ہیں پریشاں حیات کے گیسو نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی لاکھ سمجھوتے حال سے کیجئے تھی غضب یاد اک غضب ہے ابھی کس قدر کامیاب ہے انساں بھوک ہی موت کا سبب ہے ابھی زندگی تشنگی میں تھی ...

مزید پڑھیے

دن کو کہہ دیں رات ہم سمجھے نہیں

دن کو کہہ دیں رات ہم سمجھے نہیں آپ کی یہ بات ہم سمجھے نہیں ہم کہ اک رہن قفس بسمل نفس آسماں ہیں سات ہم سمجھے نہیں کیا سمجھ میں آئے ذات ماسوا ما سوائے ذات ہم سمجھے نہیں عشق سے باز آتے ہم دیوانے کیا تھی سمجھ کی بات ہم سمجھے نہیں الغرض ہے زیست مرہون اجل غایت غایات ہم سمجھے ...

مزید پڑھیے

لٹ جائے چمن گل کا تبسم نہیں بکتا

لٹ جائے چمن گل کا تبسم نہیں بکتا سو دام ہوں بلبل کا ترنم نہیں بکتا بک جاتا ہے زردار کی الفت کا تیقن نادار کی چاہت کا توہم نہیں بکتا بڑھتی ہے بڑھے گرمئ بازار ہوس کی لب بکتے ہیں اے دوست تبسم نہیں بکتا لب سی دو زباں کھینچ دو سولی پہ چڑھا دو حق گو کا زمانے میں تکلم نہیں بکتا حالات ...

مزید پڑھیے

کوئی منجدھار نہ دھارا ہے خدا خیر کرے

کوئی منجدھار نہ دھارا ہے خدا خیر کرے آج کیوں پاس کنارا ہے خدا خیر کرے پھر نشیمن کو سنوارا ہے خدا خیر کرے برق کی آنکھ کا تارا ہے خدا خیر کرے دیکھیں لوٹ آتی ہے آواز کہ ملتا ہے جواب دل نے پھر تجھ کو پکارا ہے خدا خیر کرے ہوش پانے کا نہیں دل کہ جو پانی مانگے زلف شب رنگ کا مارا ہے خدا ...

مزید پڑھیے

ہم کنارا کئے کناروں سے

ہم کنارا کئے کناروں سے کھیلا کرتے ہیں منجدھاروں سے ہم گزرتے ہیں کھیلتے ہنستے شعلہ زاروں سے خارزاروں سے نام پاتے ہیں ناصح بے نام ہم سے بدنام بادہ خواروں سے تف بہ مطلب براری یاراں اف یہ اطوار خاکساروں سے جن کے دل میں گلوں کی چاہت ہے پہلے وہ سرخ رو ہوں خاروں سے دل کی راہوں میں ...

مزید پڑھیے

اعتبار شوق اک دھوکا سہی

اعتبار شوق اک دھوکا سہی اعتبار شوق پر ہے زندگی سونی یادو تم سے پہلو ہے بسا سونی یادو تم سے کیا پہلو تہی دل ہوا چھلنی تو نغمے چھن پڑے بانس میں روزن پڑے تو بانسری بے کسی میں بھی بڑا کس بل ہے دوست موت کیا ہے زیست کو ٹھکرا کے جی ہم خدا بھی مان لیں گے آپ کو آپ پہلے ہو تو جائیں ...

مزید پڑھیے

خاکساروں کے فن کرارے ہیں

خاکساروں کے فن کرارے ہیں خاک اوڑھے ہوئے شرارے ہیں آدمی یہ بھی وہ بھی سارے ہیں نت نئے رنگ روپ دھارے ہیں کیوں نہ خودبیں ہوں ماہ پارے ہیں پیار کرتے نہیں جو پیارے ہیں مٹ گئے جو وفا کی راہوں میں کتنے انمٹ نشاں ابھارے ہیں کس سے شکوہ ہو بے وفائی کا ہم تو اپنی وفا کے مارے ہیں یاس ہی ...

مزید پڑھیے

آپ کی نظر عنایت ہو گئی

آپ کی نظر عنایت ہو گئی زندگی مرہون منت ہو گئی مل گئے دو دل محبت ہو گئی بات بس اتنی قیامت ہو گئی کیوں فزوں تر آج وحشت ہو گئی کیا کسی منزل سے قربت ہو گئی آپ ہم پر ملتفت کیا ہو گئے ہم سے دنیا کو عداوت ہو گئی ہو گئے کیا کیا فسانے سر بلند سرنگوں ساری حقیقت ہو گئی آپ نے غم دے دیا کیا ...

مزید پڑھیے

یہ مانا کہ ہستی نہیں جاودانی

یہ مانا کہ ہستی نہیں جاودانی محبت ہے لیکن مری غیر فانی زباں کھل نہ پائی تو دل کی کہانی سناتے رہے آنسوؤں کی زبانی مرے اشک دامن سے اپنے نہ پونچھو تھمے گی نہ اشکوں کی پھر یہ روانی شکایت نہیں ہے بھلا دے اگر تو نہ آ یاد مجھ کو بڑی مہربانی دل زار کی تو نے فریاد آخر نہ مانی مری بات تو ...

مزید پڑھیے

امیدیں تو وابستہ ہیں ابر تر سے

امیدیں تو وابستہ ہیں ابر تر سے جو برسے تو برسے نہ برسے نہ برسے جہاں کیا ہے اور اس کی رنگینیاں کیا یہ پوچھو کسی دیدۂ حق نگر سے زبان و دہن سے جو کھلتے نہیں ہیں وہ کھل جاتے ہیں راز اکثر نظر سے مرا راستہ کارواں سے الگ ہے گزرنا ہے اک منزل پر خطر سے یہ ہے امنؔ انساں کی پستی سی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4138 سے 4657