سوچتا رہتا ہوں تکمیل وفا کیسے ہو
سوچتا رہتا ہوں تکمیل وفا کیسے ہو آدمی بھی وہ نہیں ہے تو خدا کیسے ہو عشق کو حوصلۂ ترک وفا کیسے ہو لفظ معنی کی صداقت سے جدا کیسے ہو میں تو پوچھوں گا کہ تم سب کے خدا کیسے ہو میری آواز فرشتوں کی صدا کیسے ہو ایک غم ہو تو بکھر جائے مرے چہرے پر غیر محدود مصائب ہیں ضیا کیسے ہو سوچنے ...