شاعری

سوچتا رہتا ہوں تکمیل وفا کیسے ہو

سوچتا رہتا ہوں تکمیل وفا کیسے ہو آدمی بھی وہ نہیں ہے تو خدا کیسے ہو عشق کو حوصلۂ ترک وفا کیسے ہو لفظ معنی کی صداقت سے جدا کیسے ہو میں تو پوچھوں گا کہ تم سب کے خدا کیسے ہو میری آواز فرشتوں کی صدا کیسے ہو ایک غم ہو تو بکھر جائے مرے چہرے پر غیر محدود مصائب ہیں ضیا کیسے ہو سوچنے ...

مزید پڑھیے

اسی چمن میں مرا نظم آشیاں بدلا

اسی چمن میں مرا نظم آشیاں بدلا یہی زمیں ہے جہاں مجھ پہ آسماں بدلا نظام برق و نشیمن سے ہر سماں بدلا مگر یہ دیکھ کبھی رنگ باغباں بدلا کہیں چمن پہ نہ ٹوٹے کوئی بلا صیاد یہ انقلاب مبارک کہ آشیاں بدلا خدا کرے کہ خلاف وفا نہ ہو انجام مجھے خبر ہے جس امید پر جہاں بدلا تری نظر کے اشارے ...

مزید پڑھیے

تجسس کاہے کا کیا ہو گیا ہے

تجسس کاہے کا کیا ہو گیا ہے وہ بچھڑا کب ہے تجھ میں کھو گیا ہے وہی اک شخص جو کچھ بھی نہیں تھا مجھے اپنا کے سب کچھ ہو گیا ہے چھٹا تو کیا ہے تیرے غم کا بادل برس کر اور گہرا ہو گیا ہے محبت میں تو راتیں جاگتی ہیں کوئی کچھ سوچ کر ہی سو گیا ہے وہ اتنے سنگ دل پہلے کہاں تھے مرا ملنا قیامت ...

مزید پڑھیے

عشق چھپتا نہیں چھپانے سے

عشق چھپتا نہیں چھپانے سے فائدہ کیا نظر بچانے سے جب قفس میں چراغ جلتے ہیں لو نکلتی ہے آشیانے سے ترک امید اک بہانہ تھا کر چکے یہ بھی سو بہانے سے ہوشیار اے نگاہ وقت نواز رخ بدلتے ہوئے زمانے سے حاصل ذکر ہو تمہی لیکن ابتدا ہے مرے فسانے سے جاگنا تھا ہمیں بہ کار حیات سوئے ہیں موت کے ...

مزید پڑھیے

چوٹ کھا کر جو مسکراتے ہیں

چوٹ کھا کر جو مسکراتے ہیں ہر بلا سے نجات پاتے ہیں تیرے بندے خدا نہیں بنتے دوسروں کو خدا بناتے ہیں موت سے جو وفا نہیں کرتے زندگی سے شکست کھاتے ہیں وہ حریف نظر کبھی نہ ہوئے آئنے ہیں کہ ٹوٹے جاتے ہیں ہم کسی کا گلا نہیں کرتے وقت کی آبرو بڑھاتے ہیں حادثوں سے فرار کیا معنی حادثے ...

مزید پڑھیے

دوستوں کو مری ضرورت ہے

دوستوں کو مری ضرورت ہے قدر دانی نہیں یہ قیمت ہے آدمی بار آدمیت ہے حادثے کی اشد ضرورت ہے ان کے لب ہیں مری شکایت ہے کتنا بدلا ہے وقت حیرت ہے دو دلوں کے ملاپ کی خواہش پہلے خواہش تھی اب ندامت ہے میں جہاں ہوں کفیل ہوں اپنا تم جہاں ہو مری ضرورت ہے آدمیت کا ارتقا میں ہوں آدمی سے مجھے ...

مزید پڑھیے

یہ کیا شکوہ کہ وہ اپنا نہیں ہے

یہ کیا شکوہ کہ وہ اپنا نہیں ہے محبت خون کا رشتہ نہیں ہے جو میں نے کہہ دیا ہو کر رہے گا مرا مشرب غم فردا نہیں ہے بہت پہلے میں اس کو پڑھ چکا ہوں میری قسمت میں جو لکھا نہیں ہے گھٹا رہتا ہے دل میں کچھ دھواں سا یہ بادل آج تک برسا نہیں ہے جوانی جتنے منہ اتنی ہی باتیں محبت آج بھی رسوا ...

مزید پڑھیے

پھونک دو میرے آشیانے کو

پھونک دو میرے آشیانے کو روشنی تو ملے زمانے کو ہم تو بھٹکے قدم قدم لیکن راستہ دے دیا زمانے کو لوگ کیوں ایک دوسرے سے ملیں سن رہے ہیں مرے فسانے کو اتنے ٹھہراؤ سے نہ دیکھ مجھے رخ بدلنا پڑے زمانے کو مصلحت ساز رو بھی لیتے ہیں وقت کے ساتھ مسکرانے کو اپنی تصویر سامنے رکھ کر دیکھتا ...

مزید پڑھیے

سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گا

سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گا پیار نادان کو مت دے کہ یہ مر جائے گا روش عام سے ہشیار کہ پچھتائے گا وقت کو چھوڑ یہ پانی ہے گزر جائے گا سچ کوئی فن تو نہیں ہے جو سکھایا جائے جھوٹ سے کام لے سچ بولنا آ جائے گا دو پہر حال غنیمت ہیں اکیلے پن سے ساتھ مت چھوڑ کہ آنکھوں میں بکھر جائے ...

مزید پڑھیے

زندگی جس کا نام ہے یارو

زندگی جس کا نام ہے یارو قصۂ ناتمام ہے یارو آدمی کو دوام ہو کہ نہ ہو آدمیت دوام ہے یارو کھلتے جاتے ہیں پھول راہوں میں کون محو خرام ہے یارو زندگی کا کوئی مقام نہیں زندگی خود مقام ہے یارو ایک وقتی سرور بوالہوسی عشق کیف دوام ہے یارو کار یزداں جسے سمجھتے ہو وہ تمہارا ہی کام ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4110 سے 4657