شاعری

فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی

فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی برا ہی کیا ہے اگر تیری جستجو کر لی غلط ہے جذبۂ دل پر نہیں کوئی الزام خوشی ملی نہ ہمیں جب تو غم کی خو کر لی بٹھا کے سامنے تم کو بہار میں پی ہے تمہارے رند نے توبہ بھی روبرو کر لی وفا کے نام سے ڈرتا ہوں اے شہ خوباں تم آئے بھی تو نظر جانب سبو کر لی کہاں ...

مزید پڑھیے

ہم سے کیا خاک کے ذروں ہی سے پوچھا ہوتا

ہم سے کیا خاک کے ذروں ہی سے پوچھا ہوتا زندگی ایک تماشا ہے تو دیکھا ہوتا دیکھتے گر ہمیں عالم کو بہ انداز دگر اور ہی دشت جنوں میں دل رسوا ہوتا کیا کیا اہل محبت نے مگر تیرے لیے ہم نے اک صحن‌ چمن اور بھی ڈھونڈا ہوتا تم بھی ہوتے مے و نغمہ بھی دل شیدا بھی اور ایسے میں اگر ابر برستا ...

مزید پڑھیے

عالم وحشت تنہائی ہے کچھ اور نہیں

عالم وحشت تنہائی ہے کچھ اور نہیں سر پہ اک گنبد بینائی ہے کچھ اور نہیں کیوں ہوا مجھ کو عنایت کی نظر کا سودا آج رسوائی ہی رسوائی ہے کچھ اور نہیں اپنا گھر پھونک چکا اپنا وطن چھوڑ چکا یہ فقط بادیہ پیمائی ہے کچھ اور نہیں ہو سکے تو کوئی فردا کی بنا لو تصویر وقت جلووں کا تمنائی ہے کچھ ...

مزید پڑھیے

میرا ماضی مرے چہرے سے جھلکتا ہے ضرور

میرا ماضی مرے چہرے سے جھلکتا ہے ضرور مجھ کو حالات کی گرمی کی شکایت نہ غرور مصلحت جان کے کانٹوں کی قبا لائے تھے گل کی رنگین قبائی کو پرکھنا تھا ضرور کون سے بھیس میں مل جائیں فرشتے ہمدم خدمت انس و بشر اپنا فریضہ ہے حضور وقت کے ساتھ بدلنے لگا احساس کا رنگ مجھ کو اس بات کا پہلے سے ...

مزید پڑھیے

فریب ذات کے دل کش بتوں کو کس نے یوں توڑا

فریب ذات کے دل کش بتوں کو کس نے یوں توڑا ہمیں تھے جس نے ہستی کے حقائق سے نہ منہ موڑا در حسرت یہ کیا تکتا ہے اے دل نو بہ نو جلوے کسی کی سرفرازی دیکھ کر کریے نہ دل تھوڑا یہ غم کیا کم ہے اے ہمدم کہ بستی کے غزالوں کو ابھی دشت تغافل کی تمنا نے نہیں چھوڑا نئی دیوار اٹھا کر ہم یہ سمجھے دل ...

مزید پڑھیے

چمن چمن میں ہیں برپا یہ کیسے ہنگامے

چمن چمن میں ہیں برپا یہ کیسے ہنگامے کلی کے تتلی کے بھونروں کے گل کے ہنگامے ہزار رنگ کے پھولوں سے باغ کی زینت بہار آئی تو لائی ہے اتنے ہنگامے مری خموشی کے معنی کچھ اور ہی سمجھے اسی لئے تو اٹھائے ہیں اتنے ہنگامے وہ راہ بھول چکے تھے میں بچ کے کیا کرتی مری گلی میں مگر کس قدر تھے ...

مزید پڑھیے

جہان رنگ و بو میں تھی یہ ویرانی مگر کب تک

جہان رنگ و بو میں تھی یہ ویرانی مگر کب تک ہمارے پیار کی خوشبو نہ پہنچی تھی یہاں جب تک تمہاری مصلحت کوشی کو ہے میرا سلام اے دل انہیں چاہا انہیں پوجا مگر دیکھا کہاں اب تک ازل کی پیاس ہونٹوں پر لیے پھرتا رہا ناداں اٹھایا جام کتنوں نے زبس پہنچا کسی لب تک چلو اچھا ہوا تم نے تو سارے ...

مزید پڑھیے

بروز حشر مرا احتساب کیا ہوگا

بروز حشر مرا احتساب کیا ہوگا کہ اس زمیں کے سوا اور عذاب کیا ہوگا مدام فکر میں بے عقل کا تسلسل کار کتاب زیست کا آئندہ باب کیا ہوگا جواں دلوں میں فقط نفرتیں ہی ملتی ہیں زیادہ اس سے کوئی انقلاب کیا ہوگا عطا کیا مہ کامل کو عشرتوں کا غرور اندھیری رات سے بڑھ کر عذاب کیا ہوگا طلسم ...

مزید پڑھیے

وہ یقیں پھر کسی چہرے پہ نظر آئے گا

وہ یقیں پھر کسی چہرے پہ نظر آئے گا جو مرے خواب کی تعبیر سنا جائے گا جھیل سی آنکھوں میں کھل جائیں امیدوں کے کنول جن سے یہ مہر جہاں تاب بھی شرمائے گا پھر لکھی جائے گی ان چاند سے چہروں کی کتاب وقت صفحات پلٹتا ہوا رہ جائے گا درد کی شب ہے گزر جائے گی پل دو پل میں اک ستارہ سر مژگاں جو ...

مزید پڑھیے

گر یہ ہمت ہے کہ طوفان کی زد پر رہیے

گر یہ ہمت ہے کہ طوفان کی زد پر رہیے ناخداؤں کے کمالات سے بچ کر رہیے گھر ہے شیشہ کا تو اس دور میں جینے کے لئے سنگ ریزوں کی قبا اوڑھ کے در پر رہیے دور بہتی ہوئی آکاش کی گنگا سے پرے آسماں ڈھونڈ نہ پائیں یوں سمٹ کر رہیے یہ خبر ہے کہ کوئی برق گرے گی مجھ پر یہ خبر سچ ہے تو پھر آج کے دن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4094 سے 4657