فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی
فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی برا ہی کیا ہے اگر تیری جستجو کر لی غلط ہے جذبۂ دل پر نہیں کوئی الزام خوشی ملی نہ ہمیں جب تو غم کی خو کر لی بٹھا کے سامنے تم کو بہار میں پی ہے تمہارے رند نے توبہ بھی روبرو کر لی وفا کے نام سے ڈرتا ہوں اے شہ خوباں تم آئے بھی تو نظر جانب سبو کر لی کہاں ...