شاعری

مرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا

مرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا وہ میرے بعد مری زندگی میں آئے گا یہاں کی بات الگ ہے جہان دیگر سے میں کیسے آؤں گا مجھ کو اگر بلائے گا مجھے ہنسی بھی مرے حال پر نہیں آتی وہ خود بھی روئے گا اوروں کو بھی رلائے گا بچھڑ کے اس کو گئے آج تیسرا دن ہے اگر وہ آج نہ آیا تو پھر نہ آئے گا فقیہ شہر ...

مزید پڑھیے

گھر میں مٹی کا دیا موجود ہے

گھر میں مٹی کا دیا موجود ہے روشنی سے رابطہ موجود ہے چاہئے بینائی سننے کے لیے بعض رنگوں میں صدا موجود ہے کب سے اڑتا ہے غبارہ ارض کا اس میں اب کتنی ہوا موجود ہے گو بہت محدود ہے جنس وفا پھر بھی میرے بے وفا! موجود ہے عمر بھر جنگل میں رہ سکتا ہوں میں اس میں گھر جیسی فضا موجود ہے ذکر ...

مزید پڑھیے

کوئی تہمت ہو مرے نام چلی آتی ہے

کوئی تہمت ہو مرے نام چلی آتی ہے جیسے بازار میں ہر گھر سے گلی آتی ہے تری یاد آتی ہے اب کوئی کہانی بن کر یا کسی نظم کے سانچے میں ڈھلی آتی ہے اب بھی پہلے کی طرح پیش رو رنگ و صدا ایک منہ بند سی بے رنگ کلی آتی ہے چل کے دیکھیں تو سہی کون ہے یہ دختر رز روز اول سے جو بد نام چلی آتی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

آ ہجر کا ڈر نکالتے ہیں

آ ہجر کا ڈر نکالتے ہیں رستے سے سفر نکالتے ہیں اب آنکھیں نہیں نکالی جاتیں آنکھوں سے نظر نکالتے ہیں پیڑوں میں رہ کے بھی پرندے پتے نہیں پر نکالتے ہیں افسوس کے غوطہ زن ہمارے اجرت پہ گہر نکالتے ہیں پتھروں میں کہیں تو ہے وہ صورت جو اہل ہنر نکالتے ہیں

مزید پڑھیے

جاں قرض ہے سو اتارتے ہیں

جاں قرض ہے سو اتارتے ہیں ہم عمر کہاں گزارتے ہیں شامیں ہیں وہی وہی ہیں صبحیں گزرے ہوئے دن گزارتے ہیں اس نام کا کوئی بھی نہیں ہے جس نام سے ہم پکارتے ہیں گنتے ہیں تمام رات تارے ہم رات یوں ہی گزارتے ہیں پچکے ہوئے گال زرد چہرے جذبات بہت ابھارتے ہیں

مزید پڑھیے

ہنسی میں ٹال تو دیتا ہوں اکثر

ہنسی میں ٹال تو دیتا ہوں اکثر مگر میں خوش نہیں برباد ہو کر کوئی مرتا نہیں ضبط فغاں سے ذرا سا داغ پڑ جاتا ہے دل پر لکھی ہے ریگ ساحل پر جو میں نے وہ چٹھی پڑھ نہیں سکتا سمندر جہاں ہم ہیں وہاں سب دائرے ہیں کسی کا کوئی مرکز ہے نہ محور مجھے جانا ہے واپس بادلوں میں نہیں ہونا مجھے قطرے ...

مزید پڑھیے

کچھ تصاویر بول پڑتی ہیں

کچھ تصاویر بول پڑتی ہیں سب کی سب بے زباں نہیں ہوتیں اپنی مٹھی نہ بھینچ کر رکھو تتلیاں سخت جاں نہیں ہوتیں لڑکیوں میں بس ایک خامی ہے یہ دوبارہ جواں نہیں ہوتیں

مزید پڑھیے

اے شب غم جو ہم بھی گھر جائیں

اے شب غم جو ہم بھی گھر جائیں شہر کس کے سپرد کر جائیں کتنی اطراف کتنے رستے ہیں ہم اکیلے کدھر کدھر جائیں ایک ہی گھر میں قید ہے سلطاں ہم بھکاری نگر نگر جائیں آنکھ جھپکیں تو اتنے عرصے میں جانے کتنے برس گزر جائیں صورت ایسی بگاڑ لی اپنی وہ ہمیں دیکھ لیں تو ڈر جائیں

مزید پڑھیے

شب کو اک بار کھل کے روتا ہوں

شب کو اک بار کھل کے روتا ہوں پھر بڑے سکھ کی نیند سوتا ہوں اشک آنکھوں کے بیچ ہوتے ہیں میں انہیں کھیت کھیت بوتا ہوں میرے آنسو کبھی نہیں رکتے میں ہمیشہ وضو میں ہوتا ہوں ہوتا جاتا ہوں اس سخی کے قریب جیسے جیسے غریب ہوتا ہوں

مزید پڑھیے

کیا ہوئی مجھ سے خطا معلوم کر

کیا ہوئی مجھ سے خطا معلوم کر کیوں ملی ہے یہ سزا معلوم کر ہو رہا ہے ذکر اس کا ہر کہیں کیا شگوفہ ہے نیا معلوم کر سرکشی کی ہے ہمیں عادت بہت تو ہواؤں کی دشا معلوم کر چاک دل ہے کانپتے لب آنکھ نم مرض میرے کی شفا معلوم کر رک گئے بے ساختہ میرے قدم یہ اچانک کیا ہوا معلوم کر نیم شب آواز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4095 سے 4657