شاعری

وہ روٹھتا ہے کبھی دل دکھا بھی دیتا ہے

وہ روٹھتا ہے کبھی دل دکھا بھی دیتا ہے میں گر پڑوں تو مجھے حوصلہ بھی دیتا ہے وہ میری راہ میں پتھر کی طرح رہتا ہے وہ میری راہ سے پتھر ہٹا بھی دیتا ہے بہت خلوص جھلکتا ہے طنز میں اس کے وہ مجھ پہ طنز کے نشتر چلا بھی دیتا ہے میں خود کو بھول نہ جاؤں بھٹک نہ جاؤں کہیں وہ مجھ کو آئنہ لا کر ...

مزید پڑھیے

تیر برسے کبھی خنجر آئے

تیر برسے کبھی خنجر آئے یہ مقامات بھی اکثر آئے شہر میں آگ لگی ہے اپنے جو بھی آئے وہ سنبھل کر آئے پھر تباہی کی طرف ہے دنیا پھر ضرورت ہے پیمبر آئے وہ تو رہزن کے بھی رہزن نکلے ہم تو سمجھے تھے کہ رہبر آئے شہر میں جب کوئی ہنگامہ ہوا لوگ کچھ بھیس بدل کر آئے آپ چپ رہے کے بھلے بن ...

مزید پڑھیے

اس کی نظروں میں اب دھواں ہوں میں

اس کی نظروں میں اب دھواں ہوں میں اب زمیں ہوں نہ آسماں ہوں میں نا مکمل سی داستاں ہوں میں دل ناکام کی زباں ہوں میں لوگ ارمان جن کو کہتے ہیں ان چراغوں کا ہی دھواں ہوں میں کیا ہوا وہ جو مجھ سے کہتا تھا تیری دنیا ترا جہاں ہوں میں حد نہیں عالم تصور کی کیا بتاؤں کہاں کہاں ہوں میں جو ...

مزید پڑھیے

جھرنوں کے درمیاں سے گزرنے لگی ہے شام

جھرنوں کے درمیاں سے گزرنے لگی ہے شام بھیگی ہوئی فضا سے نکھرنے لگی ہے شام کمرے میں بد گمان جو رکھا تھا آئینہ ہاتھوں میں اس کو لے کے سنورنے لگی ہے شام اب صبح گل فشاں کا زمانہ قریب ہے صحن چمن میں آ کے ٹھہرنے لگی ہے شام سونے نہ دے گی چین سے پھر رات بھر مجھے آنکھوں میں دھیرے دھیرے ...

مزید پڑھیے

بچپن تمام گزرا ہے تاروں کی چھاؤں میں

بچپن تمام گزرا ہے تاروں کی چھاؤں میں تتلی کے پیچھے جاتی تھی بادل کے گاؤں میں گرمی کی تیز دھوپ میں پیپل کی چھاؤں میں سونیؔ بڑا سکون تھا چھوٹے سے گاؤں میں منزل کی آرزو بھلا کرتے بھی کس طرح کانٹے چبھے ہوئے تھے ہمارے تو پاؤں میں جب دھوپ کے سفر سے وہ آئے گا لوٹ کر اس کو بٹھا کے رکھوں ...

مزید پڑھیے

زمانہ سنگ ہے فریاد آئینہ میری

زمانہ سنگ ہے فریاد آئینہ میری غلط کہوں تو زباں چھین لے خدا میری ترا قصور ہے اس میں نہ ہے خطا میری تری زمیں پہ جو برسی نہیں گھٹا میری جہاں سے ترک تعلق کیا تھا تو نے کبھی کھڑی ہوئی ہے اسی موڑ پر وفا میری تم اس لباس دریدہ پہ طنز کرتے ہو اسی لباس میں محفوظ ہے حیا میری اس اک خیال سے ...

مزید پڑھیے

ایک سودا ہے لذت غم ہے

ایک سودا ہے لذت غم ہے آج پھر میری آنکھ پر نم ہے دل کو بہلا رہے ہیں مدت سے زندگی کیا عذاب سے کم ہے ذرہ ذرہ اداس ہے اس کا میرے گھر کا عجیب عالم ہے مہر و مہ پر کمند پڑتی ہے سوچ میں کوئی ابن آدم ہے تجھ سے پردہ نہیں مرے غم کا تو مری زندگی کا محرم ہے یہ جو اک اعتبار ہے تم پر کس قدر ...

مزید پڑھیے

جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا

جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا سحر دم دامن دل بھر رہے گا علاج اس کا گزر جانا ہے جاں سے گزر جانے کا جاں سے ڈر رہے گا ہوا مشکل ترے عاشق کا جینا ترے کوچے میں آ کر مر رہے گا دل وحشی نے کب آرام پایا ستم کی آگ میں جل کر رہے گا حیات جاوداں ہو یا کہ دنیا ترا بندہ ترے در پر رہے گا نہ ہو ...

مزید پڑھیے

میری دنیا میں ابھی رقص شرر ہوتا ہے

میری دنیا میں ابھی رقص شرر ہوتا ہے جو بھی ہوتا ہے بہ انداز دگر ہوتا ہے بھول جاتے ہیں ترے چاہنے والے تجھ کو اس قدر سخت یہ ہستی کا سفر ہوتا ہے اب نہ وہ جوش وفا ہے نہ وہ انداز طلب اب بھی لیکن ترے کوچے سے گزر ہوتا ہے دل میں ارمان تھے کیا عہد بہاراں کے لئے چاک گل دیکھ کے اب چاک جگر ...

مزید پڑھیے

وعدہ ہے کہ جب روز جزا آئے گا

وعدہ ہے کہ جب روز جزا آئے گا تو اپنے ہی جلووں میں گھرا آئے گا تا حشر یوں ہی منتظر دید رہوں چپکے سے کبھی آ کے بتا، آئے گا میں نامۂ اعمال کھلا رکھوں گا رحمت کو تری جوش سوا آئے گا حسرت گہ عالم میں تمنا کا قدم الا کی طرف صورت لا آئے گا خالی بھی تو کر خانۂ دل دنیا سے اس گھر میں مری جان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4093 سے 4657