پڑھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ مٹ بھی گئی تھی
پڑھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ مٹ بھی گئی تھی بجلی نے گھٹاؤں پہ جو تحریر لکھی تھی چپ سادھ کے بیٹھے تھے سبھی لوگ وہاں پر پردے پہ جو تصویر تھی کچھ بول رہی تھی لہراتے ہوئے آئے تھے وہ امن کا پرچم پرچم کو اٹھائے ہوئے نیزے کی انی تھی ڈوبے ہوئے تاروں پہ میں کیا اشک بہاتا چڑھتے ہوئے سورج ...