شاعری

اس سے پہلے کہ کہانی سے کہانی نکلے

اس سے پہلے کہ کہانی سے کہانی نکلے آ مرے دل میں اتر آنکھ سے پانی نکلے اتنی عجلت میں تلاشی نہیں لی جا سکتی سانپ کو حکم کرو رات کی رانی نکلے خیر کی ساری دعاؤں کا بھلا ہو لڑکی ایک بوسہ دم رخصت کہ گرانی نکلے اس لیے بھی یہ بدن کھینچنا پڑتا ہے مجھے جتنے سکے تھے مرے پاس زمانی نکلے اس ...

مزید پڑھیے

چھوڑیئے آپ کا اس بات سے کیا لینا ہے

چھوڑیئے آپ کا اس بات سے کیا لینا ہے اک برہمن کو مساوات سے کیا لینا ہے خاک کو خاک کا پیوند لگے گا اور بس ہم کو اس ارض و سماوات سے کیا لینا ہے آپ تو سوچ کے آئے تھے یہاں کیا ہوگا آپ کو یوں بھی مضافات سے کیا لینا ہے آگ کی سرخ لپٹ نے مجھے پاگل رکھا خون کی لہر کو اس گھات سے کیا لینا ...

مزید پڑھیے

یہی ارمان یہی شوق ہے دیوانے کا

یہی ارمان یہی شوق ہے دیوانے کا رنگ پھیکا نہ پڑے عشق کے افسانے کا بادہ خواروں کو ترے ہوش ابھی باقی ہے دور چلتا رہے ساقی یوں ہی پیمانے کا بحر الفت سے ہوا پار سفینہ میرا قصد جب کر لیا طوفان سے ٹکرانے کا بجلیاں غم کی گریں خرمن دل پر میرے سلسلہ ختم ہوا آپ سے یارانے کا منظر بادہ کشی ...

مزید پڑھیے

وہ یوں بوڑھے سے بچہ ہو گیا ہے

وہ یوں بوڑھے سے بچہ ہو گیا ہے کی جیسے پیڑ پودھا ہو گیا ہے طرف داری بہت کرتا ہے تیری قلم تیرا دیوانہ ہو گیا ہے نظر انداز ایسے کر گیا وہ کی شیشہ جیسے اندھا ہو گیا ہے چلو بابا کوئی پوشاک لے لو لیے کپڑے زمانہ ہو گیا ہے نہیں ہیں پیاس کے معنی کوئی اب ندی کا پانی میلا ہو گیا ہے

مزید پڑھیے

مجھ کو اس طور تجھ کو پانا ہے

مجھ کو اس طور تجھ کو پانا ہے جیسے تو حسن کا خزانہ ہے پہلے ضد تھی کے چھونا ہے اس کو اب یہ ضد ہے کہ اس کو پانا ہے اس کے ہونٹھوں کو پڑھ رہا ہوں میں جس کے ہونٹوں تلک ہی جانا ہے آ گیا ہوں میں تیرے ہونٹوں تک تجھ کو باہوں تلک ہی آنا ہے تیری گردن کے پیچھے تل ہے جو اس کو ہونٹوں سے بس لگانا ...

مزید پڑھیے

نظر جھکا کے نظر سے گرا گئے مجھ کو

نظر جھکا کے نظر سے گرا گئے مجھ کو میں آئنہ تھا حقیقت دکھا گئے مجھ کو میں بے گناہی کا اپنی ثبوت کیا دیتا وہ ساری غلطیاں میری گنا گئے مجھ کو بچھڑتے وقت انگوٹھی کو دے گئے واپس وہ جاتے جاتے بھی کتنا رلا گئے مجھ کو ستم کیے ہے مرے ساتھ اس قدر عاقبؔ میں موم تھا وہ تو پتھر بنا گئے مجھ ...

مزید پڑھیے

راہ وفا میں جو بھی کوئی جانشیں بنے

راہ وفا میں جو بھی کوئی جانشیں بنے تجھ سا بنے تو خیر ہے مجھ سا نہیں بنے شاید ہمارے واسطے کوئی نہیں بنا شاید کسی کے واسطے ہم بھی نہیں بنے ساری زمیں کے واسطے اک آسماں بنا سو آسماں کے واسطے ہم بھی مکیں بنے سب حسن بن چکے ہیں تو سب سے حسین ہے شاید جہاں میں اب کوئی تجھ سا حسیں ...

مزید پڑھیے

ریت پہ جب بھی گھر رہے گا یہ

ریت پہ جب بھی گھر رہے گا یہ کب پھسل جائے ڈر رہے گا یہ پتے اتنے بکھر رہے ہیں کیوں پیڑ کیا سوکھ کر رہے گا یہ ایک تتلی کے رنگ سے کھیلا مجھ کو دکھ عمر بھر رہے گا یہ رنگ ہونٹوں کا اتنا پکا تھا بے نشاں گال پر رہے گا یہ

مزید پڑھیے

مرا وجود شمار نفس میں آیا نئیں

مرا وجود شمار نفس میں آیا نئیں تمام عمر میں سانسوں کے بس میں آیا نئیں نقوش لمس حقیقت مٹانے والا تھا مگر وہ خواب مری دسترس میں آیا نئیں سوال یہ ہے کہ دشت بدن کا کیا ہوگا اگر جنوں کا پرندہ قفس میں آیا نئیں عجب نہیں کہ یہ باہیں کچل کے رکھ دیتیں بھلا ہوا وہ حصار ہوس میں آیہ ...

مزید پڑھیے

تشنہ کامی میں رعایت نہیں کرنے والے

تشنہ کامی میں رعایت نہیں کرنے والے ہم امانت میں خیانت نہیں کرنے نہیں کرنے والے روشنی ہم پہ عنایت نہیں کرنے والی ہم چراغوں سے شکایت نہیں کرنے والے ہم سے یہ کار مسافت نہیں ہونے والا زندگی تیری قیادت نہیں کرنے والے ہم سے ایام کی گردش نہیں دیکھی جاتی خیر ہم اس کی وضاحت نہیں کرنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4043 سے 4657