شاعری

کوئی تو راہ سجھا دور تک اندھیرا ہے

کوئی تو راہ سجھا دور تک اندھیرا ہے کہاں ہے میرے خدا دور تک اندھیرا ہے مرا خیال تھا کچھ آگے روشنی ہو گی میں جانتا نہیں تھا دور تک اندھیرا ہے کسی کی کھوج میں نکلا ہوں مہر و ماہ لیے ہے التماس دعا دور تک اندھیرا ہے نہ ہوگا طے یہ سفر صرف روشن آنکھوں سے چراغ دل بھی جلا دور تک اندھیرا ...

مزید پڑھیے

بڑی چوروں کو آسانی ہے مجھ میں

بڑی چوروں کو آسانی ہے مجھ میں کسی اندھے کی نگرانی ہے مجھ میں مری آنکھوں سے باہر جھانکتا ہے نہ جانے کون زندانی ہے مجھ میں دل افسردہ نے وہ گل کھلائے جہاں تک دیکھوں ویرانی ہے مجھ میں بہت بے چین رہتی ہے مری روح اسے کوئی پریشانی ہے مجھ میں کھلا یہ راز چشم تر سے مجھ پر سمندر سے فزوں ...

مزید پڑھیے

ترا کرم کہ میں جب مات تک پہنچ جاتا

ترا کرم کہ میں جب مات تک پہنچ جاتا تو کوئی ہاتھ مرے ہاتھ تک پہنچ جاتا میں اس کی بزم میں چپ چاپ ہی رہا کرتا مگر وہ پھر بھی مری بات تک پہنچ جاتا میں بھاؤ تاؤ اگر کرتا تو وہ خواب فروش قیاس ہے مری اوقات تک پہنچ جاتا اگر نہ ملتا مجھے شام ماہ آوارہ یقین مانو میں گھر رات تک پہنچ ...

مزید پڑھیے

نہیں کہ دشت کو ہجرت زیادہ مشکل ہے

نہیں کہ دشت کو ہجرت زیادہ مشکل ہے گھروں میں اس سے بھی وحشت زیادہ مشکل ہے نتیجہ اخذ کیا پے بہ پے شکستوں سے کہ دشمنی سے محبت زیادہ مشکل ہے اگرچہ تخت نشینی بھی کوئی سہل نہیں مگر دلوں پہ حکومت زیادہ مشکل ہے حیات کاٹنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ اس سے اگلی مسافت زیادہ مشکل ہے عقیلؔ ...

مزید پڑھیے

گلیوں میں لہو ریزی کا کچھ حل نکل آئے

گلیوں میں لہو ریزی کا کچھ حل نکل آئے لوگ اس لیے خود جانب مقتل نکل آئے میں کاسہ بدستوں کے قبیلے کا ہوں لیکن خوش قسمتی سے ہاتھ مرے شل نکل آئے رونے سے مجھے خلق خدا روک رہی تھی پھر میری طرف داری میں بادل نکل آئے اک سطح محبت پہ کھڑا سوچ رہا ہوں ایسا نہ ہو یہ جھیل بھی دلدل نکل ...

مزید پڑھیے

راہ وفا پہ کم ہیں خسارے ہمارے دوست

راہ وفا پہ کم ہیں خسارے ہمارے دوست ہیں اس سفر کے اپنے ستارے ہمارے دوست کچھ سانپ چاہیے تھے خزانے کے واسطے اتنے میں آستیں سے پکارے ہمارے دوست اک دن سنبھل ہی جاتا ہے دنیا سے ہارا شخص لیکن جو اپنے آپ سے ہارے ہمارے دوست دشمن کی ہم کو کوئی ضرورت نہیں پڑی کینہ بہ سینہ پھرتے ہیں سارے ...

مزید پڑھیے

مرے دکھ درد ہر اک آنکھ سے اوجھل پڑے تھے

مرے دکھ درد ہر اک آنکھ سے اوجھل پڑے تھے شکر صد شکر کہ بس روح پہ ہی بل پڑے تھے کسی مقصد سے ترے پاس نہیں آئے ہیں کہیں جانا ہی تھا سو تیری طرف چل پڑے تھے ایک میں ہی نہیں شب چھت پہ بسر کرتا تھا چاند کے پیچھے کئی اور بھی پاگل پڑے تھے کیسا نظارا تھا کہساروں کی شہزادی کا بام پر وہ کھڑی ...

مزید پڑھیے

مجھے بہ فیض تفکر ہوا ہے یہ ادراک

مجھے بہ فیض تفکر ہوا ہے یہ ادراک چمک اٹھوں گا کسی روز میں سر افلاک کس اوج موج میں مجھ پر کھلا ہے یہ احوال زمیں سے تا بہ فلک اڑ رہی ہے میری خاک عجب نہیں کہ نیا آفتاب ابھرنے تک خلا کے ہاتھ پہ گرداں رہے زمیں کا چاک یقین بھی تھا اسے ہجر کا مگر پھر بھی صبا کے پہلو سے لپٹی بہت چمن کی ...

مزید پڑھیے

پوچھی نہ چشم تر کی نہ آہ رسا کی بات

پوچھی نہ چشم تر کی نہ آہ رسا کی بات کرتے رہے وہ مجھ سے بس آب و ہوا کی بات کیا بات میں سے بات نکلتی چلی گئی تھا مدعا یہی کہ نہ ہو مدعا کی بات رسم و رہ جہاں کی سفارش رہی مگر پھر بھی تو آنے پائی نہ اہل وفا کی بات کیا رسم التفات زمانے سے اٹھ گئی سب کی زباں پر ہے ستم ناروا کی بات طوفاں ...

مزید پڑھیے

تماشا ہے کہ سب آزاد قومیں

تماشا ہے کہ سب آزاد قومیں بہی جاتی ہیں آزادی کی رو میں وہ گرد کارواں بن کے چلے ہیں ستارے تھے رواں جن کے جلو میں سفر کیسا فقط آوارگی ہے نہیں منزل نگاہ راہرو میں ہے سوز دل ہی راز زندگانی حیات شمع ہے صرف اس کی لو میں بہت تھے ہم زباں لیکن جو دیکھا نہ نکلا ایک بھی ہمدرد سو میں اسدؔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4023 سے 4657