کہاں کہاں سے سناؤں تمہیں فسانۂ شب
کہاں کہاں سے سناؤں تمہیں فسانۂ شب طویل گزرا ہے مجھ پر بہت زمانۂ شب مہک رہا ہے ہمیں سے حریم گلشن روز ہمیں سے نور فزا ہے نگار خانۂ شب ہوا ہے حکم یہ منجانب شہ ظلمات حدود شہر سیہ چھوڑ دے دوانۂ شب خموش ہوتے ہیں دن کے تمام تر سکے کھنکتا رہتا ہے کشکول دل میں آنۂ شب ہر ایک شاخ پہ ...