شاعری

تری خوشی نہ ملی مجھ کو تیرا غم بھی نہیں

تری خوشی نہ ملی مجھ کو تیرا غم بھی نہیں حیات کیا ہے مری اب قضا سے کم بھی نہیں یہ کس مقام پہ ساقی نے لا کے چھوڑا ہے نہیں ہے ساغر جم تو یہاں پہ سم بھی نہیں ہے میرے ظرف میں جتنا بھرا وہ پیمانہ شراب اس میں ہے جو اس میں کوئی دم بھی نہیں اتار لیتا میں سارے غموں کا اس سے نشہ حریف غم کا ہو ...

مزید پڑھیے

عبارت اس میں ہر اک بے نقاب میری ہے

عبارت اس میں ہر اک بے نقاب میری ہے لکھا ہے نام تمہارا کتاب میری ہے گلاب توڑ کے زینت بنا لو دامن کی نہ کھاؤ خوف یہ شاخ گلاب میری ہے یہ میکدہ یہ حسیں جام گو تمہارے ہیں جو پی رہے ہو مزے سے شراب میری ہے بھٹک نہ جائے کہیں اسپ عشق راہوں سے دعا لبوں پہ ترے ہم رکاب میری ہے وہ ٹوٹ کر نہیں ...

مزید پڑھیے

ساتھ مرے وہ جب تک ٹھہرا

ساتھ مرے وہ جب تک ٹھہرا غم کا سایا تب تک ٹھہرا وقت مصیبت ساتھ ہمارے دوست کوئی بھی کب تک ٹھہرا رسوائی کا خوف تھا شاید نام کسی کا لب تک ٹھہرا سورج میرے ارمانوں کا ایک اندھیری شب تک ٹھہرا جاڑوں کے لمحات جواں ہیں سورج سر پر کب تک ٹھہرا آہوں کا اتنا تو اثرؔ ہے جن کا سایا چھب تک ...

مزید پڑھیے

باب دل جب بھی وا ہوا اپنا

باب دل جب بھی وا ہوا اپنا اس میں نقصان ہی ہوا اپنا کوئی دل والا آ ملے مجھ سے در ہے رکھا کھلا ہوا اپنا نقش پا ثبت ہیں لٹیروں کے گھر سے غائب ہے رہنما اپنا لٹ گیا سب حساب کیا ہوگا غیر کا کیا تھا اور کیا اپنا منزلوں کا نشان کہلائے خون اگلا ہے نقش پا اپنا دل کو تاکا تھا اے اثرؔ میں ...

مزید پڑھیے

میلی چادر ساتھ لیے

میلی چادر ساتھ لیے اپنی انا کی ذات لیے کوچہ کوچہ پھرتا ہوں تن کا لاشہ ساتھ لیے اک درندہ جیت گیا پھرتا ہوں میں مات لیے ڈھونڈیں آؤ انساں کو پاگل پن کو ساتھ لیے ان کا دامن دیکھ چکا آنکھوں میں برسات لیے ٹوٹ چکے وہ تاج محل سوئے تھے ہم رات لیے کس کا بھروسہ آج اثرؔ یار کھڑا ہے گھات ...

مزید پڑھیے

وہ ایک پل جو گزارا ہے پاسداری میں

وہ ایک پل جو گزارا ہے پاسداری میں سکون دیتا رہا مجھ کو بے قراری میں وہ میری روح میں جب تک نہ بس گیا آ کر سنبھل سکا نہ کبھی دل یہ بے قراری میں حنائی دست کی معجز نمائیاں مت پوچھ تمام عمر گزاری ہے شرمساری میں ہوس ہے گوہر نایاب کی اگر تجھ کو تو ڈوب جا کبھی شبنم کی تاب کاری میں سما ...

مزید پڑھیے

وہ ان کا حجاب اور نزاکت کے نظارے

وہ ان کا حجاب اور نزاکت کے نظارے آئے وہ شب وعدہ تصور کے سہارے وہ کالی گھٹا اور وہ بڑھتے ہوئے دھارے زاہد بھی اگر دیکھے تو ساقی کو پکارے وہ جلوہ گاہ ناز وہ مخمور نگاہیں اب کیا کہوں یہ لمحے کہاں میں نے گزارے خود حسن کا معیار نرا ذوق نظر ہیں اتنے ہی حسیں آپ ہیں جتنے مجھے پیارے بے ...

مزید پڑھیے

وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں

وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں پھول ہیں دل کشی نہیں چاند ہے چاندنی نہیں ڈھونڈا نہ ہو جہاں انہیں ایسی جگہ کوئی نہیں پائی کچھ ان کی جب خبر اپنی خبر ملی نہیں آنکھ میں ہو پرکھ تو دیکھ حسن سے پر ہے کل جہاں تیری نظر کا ہے قصور جلووں کی کچھ کمی نہیں عشق میں شکوہ کفر ہے اور ...

مزید پڑھیے

دو چار ستارے ہی مری آنکھ میں دھر جا

دو چار ستارے ہی مری آنکھ میں دھر جا کچھ دیر تو اے ساعت شب مجھ میں ٹھہر جا اب اور سنبھالی نہیں جاتی تری حرمت یوں کر غم جاناں میری نظروں سے اتر جا تا عمر ترا نقش فروزاں رہے مجھ میں اک زخم کی صورت مرے ماتھے پہ ابھر جا چھوڑ آنا وہیں پر ذرا آوارہ مزاجی صحرا کی طرف اے دل نادان اگر ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں کتنی اذیت سے نکالی گئی شب

کیا کہوں کتنی اذیت سے نکالی گئی شب ہاں یہی شب یہ مری ہجر بنا لی گئی شب پہلے ظلمت کا پرستار بنایا گیا میں اور پھر میری نگاہوں سے اٹھا لی گئی شب رات بھر فتح وہ کرتی رہی اجیاروں کو صبح دم اپنے اندھیروں سے بھی خالی گئی شب تا سدا مجھ میں رہیں چاند ستارے روشن میری مٹی میں طبیعت سے ملا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4021 سے 4657